قسم اہلِ محبت کی‎ - شفا ہما

یوں تو دنیا میں سبھی مرنے کے لیے آتے ہیں مگر موت تو اسی کی ہے جو انسان کو ابدی کامیابیوں اور لافانی زندگی سے ہمکنار کردے. ایسی موت تو خوش نصیب ہی مرا کرتے ہیں. تقدیر تو اپنی جگہ برحق ہے مگر زندگی بنانے میں عزم کا بھی بہت عمل دخل ہوا کرتا ہے اور جنکا عزم اس طرح ہو:

جئیں تو غازی مرجائیں تو شہیدِ سحر

ہم کو قبول نہیں کوئی درمیان کی بات

بھلا ایسے دیوانوں کو کون خرید سکتا ہے. انہیں تو درمیان والی کوئی بات قبول ہی نہیں ہوتی.. وہ دنیا میں رہ کر سعادت کی زندگی گزارتے ہیں اور شہادت کی موت ان کا مقدر بنتی ہے. خبروں میں سنا ہے کہ اسلام کے ایک اور بیٹے کو ظالموں نے شہید کردیا ہے. ہزاروں ماؤں کے اُس قابلِ فخر بیٹے کو اور سینکڑوں بہنوں کی عزتوں کا محافظ اُس بھائی کو بزدل بھارتی فوجیوں نے بم مار کر شہید کیا. ماہِ مبارک کے پہلے عشرے میں ظالم بھارتیوں نے مقبوضہ کشمیر میں خون کی نئی ہولی کھیلی ہے جس میں کئی مجاہدین شہید ہوئے ہیں.
تاریخ شاہد ہے کہ نہتے کشمیریوں نے لادین جمہوریت کا لبادہ چاک کرکے دنیا کے سامنے ہندو سامراج کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے. مجاہدین سامانِ حرب و ضرب کی شدید قلت کے باوجود بھارتی ظلم و جبر اور چنگیزیت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں اور تب تک ڈٹے رہنے کا عزم کیے ہوئے ہیں جب تک بھارت کا آخری فوجی رسوا ہو وادی سے اوندھے منہ گھسیٹ کر باہر نہیں نکالا جاتا.

کچھ اڑ کے بگولوں کی طرح ہوگئے ہموار

کچھ کہتے رہے راستہ ہموار نہیں ہے

ریاست جموں و کشمیر ایک وسیع و عریض قتل گاہ بن چکی ہے جہاں اوسطاً ہر روز سینکڑوں مسلمان شہید، ہزاروں زخمی اور لاتعداد بے گھر کردیئے جاتے ہیں. آج تک لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں نے اپنی عصمت اور عفت کی قربانی دی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اور بزرگ بھارتی تعذیب خانوں میں پابندِ سلاسل ہیں جنہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جارہی ہیں. اب تک کھربوں روپوں کی مالیت کی املاک خاکستر کی جاچکی ہیں.. یہ بلاشبہ ان ہی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ انتہائی سخت حالات کے باوجود یہ تحریک رواں دواں ہے اور آزادی کی صبح طلوع ہونے کو بے قرار ہے. ہر روز شہداء کے پرنور کہکشاں میں بہت سے چمکتے دمکتے ستارے شامل ہوجاتے ہیں جنہوں نے بھارتی غاصبانہ اور جابرانہ تسلط کے خلاف آواز اٹھا کر اپنے وطنِ عزیز کو عالمِ اسلام کا حصہ بنانے کی خاطر اپنی متاعِ دنیا لٹا دی اور شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوکر زندہ جاوید ہوگئے اور اس شعر کی عملی مثال بن گئے :

وہ جن کو طلب ہو ساحل کی..

منجدھار کو ساحل کہتے ہیں

طوفان شکن جذبوں کے لیے

موجوں کا تلاطم کچھ بھی نہیں

ایک طرف یہ جذبے اور حوصلے ہیں اور عالمِ اسلام کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کیے جارہے ہیں اور دوسری طرف اسلامی ریاستوں کے ملت فروش رہنماؤں کا باطل کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اپنے ہی بھائیوں کے خون بہانے میں مدد فراہم کرنا ہے. حیاتِ جاوداں کے عاشق اپنے سر کٹوائے چلے جا رہے ہیں اور مسلمان دنیا کی سرمستیوں میں گم ان مجاہدین کے سودے کر رہے ہیں..یاد رکھیں کہ اسلام کو غالب آنا ہے اور یہ غالب آکر رہے گا انشاءاللہ. اللہ رب العالمین کی جنتوں کی جانب سفر اپنی منزل کو ضرور پہنچے گا. کشمیر.. مصر.. فلسطین.. شام.. چیچنیا اور باطل کے سامنے برسرِ پیکار دیگر مسلمان فتح حاصل کر کے رہینگے. حق و باطل کی جنگ اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گی. جو آج مظلوم ہیں وہ کل فاتح ہونگے.. جو آج تباہ ہورہے ہیں وہ کل اللہ کی سرزمین کے مالک ہونگے. یہ ربِ کائنات کا وعدہ ہے جو پورا ہوکر رہے گا. ۔!

لاکھوں دن و رات جو گزر گئے وہ شاہد ہیں کہ جو قوم سچائی اور انصاف کا راستہ منتخب نہیں کرتی وہ وقت کے قدموں تلے روند دی جاتی ہے. یہ اختیار ہمارا ہے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی صلاحیتیں باطل کو نابود کرنے میں استعمال کرلیں یا حزب الشیطان میں شامل ہوکر پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو جائیں. زبانی جمع خرچ قوموں کی نجات کا سامان نہیں ہوا کرتا. زندہ قومیں اپنا خونِ جگر دے کر تاریخ میں امر ہوا کرتی ہیں. سنبھلنے کا وقت باقی ہے. رحمتِ الہی کے دروازے کھلے ہیں. اب بھی رُک جائیں اور حزب اللہ میں شامل ہوجائیں ورنہ قریب ہے کہ آسمان اور زمین اللہ کے غضب سے پھٹ جائے اور اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے دیا جائے.میں فقید المثال قربانیاں پیش کرنے والے لاکھوں وفا شعاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ دنیا بھر میں مظلوم مسلمانوں کے دست و بازو بن جائیں اور ہمیں اسلام کا عروج دکھا دیں اور مجاہدینِ اسلام کو اُس حتمی فتح سے جلد ہمکنار کردیں جس کا وعدہ ہے. آمین…!

وہ شہیدِ وطن…

عشق کی رسم دل سے نبھاتا گیا..

فرض کا قرض جاں سے چکاتا گیا..

توپ کے سامنے دندناتا رہا..

موت کی گود میں مسکراتا رہا..

تیرا خوں جب زمیں پر بکھرنے لگا..

ذرہ ذرہ وطن کا نکھرنے لگا..

تیری تکریم میں.

یہ زمیں رک گئی.. آسمان جھک گیا..

تیری تقدیس میں..

آندھیاں تھم گئیں.. وقت ساکن ہوا..

جو نہ ممکن تھا وہ امر ہوگیا..

اے شہیدِ وطن..!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com