سردار فتح محمد بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی - آصف محمود

ڈیرہ غازی خان میں سردار فتح محمد بزدار انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ گنگا رام اور گلاب دیوی کی طرح یہ ہسپتال سردار صاحبان کی ذاتی دولت سے نہیں،قومی خزانے سے تعمیر ہوگا۔ دولت قوم کی صرف ہوگی اور نام جناب سردار فتح محمد بزدار صاحب کا ہو گا۔ کسی کو اب بھی شک ہو کہ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے تو وہ پہلی فرصت میں جارج آرول کا اینیمل فارم پڑھ کر اس شک کو دور کرسکتا ہے۔

احساس کمتری کی اس رسم کا آغاز میاں نواز شریف کے عہد مبارک میں ہوا۔ ملتان میں انجینیئرنگ یونیورسٹی بنی تو اس کا نام نواز شریف یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رکھا گیا۔ملتان ہی میں ایک زرعی یونیورسٹی قائم ہوئی تو وہ نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر کہلائی۔ملتان میں ایک سرکاری ہسپتال قائم ہوا تو اس کا نام شہباز شریف جنرل ہسپتال رکھا گیا۔ سیالکوٹ میں لڑکیوں کے کالج کو بھی نواز شریف صاحب سے منسوب کیا گیا۔ اب یہ لطیفہ حقیقت کی صورت موجود ہے اور نواز شریف گرلز ڈگری کالج سیالکوٹ کہلاتا ہے۔سیالکوٹ ہی میں ایک اور کالج کا نام شہباز شریف ڈگری کالج جامکے چیمہ سیالکوٹ ہے۔

چونا منڈی میں ایک سرکاری کالج نواز شریف ڈگری کالج کہلاتا ہے۔ ایک نواز شریف ڈگری کالج سرگودھا میں ہے۔گجرات میں ایک عدد نواز شریف میڈیکل کالج ہے۔راولپنڈی میں ایک شہباز شریف ڈگری کالج خیابان سرسید ہے۔مری روڈ پر نواز شریف پارک ہے۔ راول روڈ پر ایک شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس ہے۔قصور کے سپورٹس کمپلیکس کا نام بھی شہباز شریف سپورٹس کمپلیکس ہے۔

خواجہ آصف نے ایک روپیہ خرچ کیے بغیر سرکاری میڈیکل کالج کا نام خواجہ صفدر میڈیکل کالج رکھوا لیا۔ ن لیگ کے ایک ایم پی اے اعجاز اچھلانہ نے بہاولدین زکریا یونیورسٹی کے لیہ سب کیمپس پر اپنے جھنڈے گاڑ دیے اور اسے اپنا ابا جی سے منسوب کرالیا۔ اب یہ بہادر کیمپس کہلاتا ہے۔ایک آڈیٹوریم اچھلانہ صاحب نے خود سے منسوب کرلیا۔ یہ اعجاز اچھلانہ آڈیٹوریم ہے۔ بوائز ہاسٹل کا نام اعجاز ہال رکھ دیا گیا۔ خاندن کی فتوحات یہاں ختم نہیں ہوتیں، ایک گرلز ہاسٹل تھا وہ موصوف کی بیوی ریحانہ سے منسوب ہو گیا اور ریحانہ ہال کہلایا۔ ایک بوائز ہاسٹل تھا وہ اعجاز ہال قرار دے گیا تاکہ لیہ والوں کو رہتی دنیا تک یاد رہے وہ کسی آزاد سماج کے شہری نہیں اچھلانہ صاحب کی جاگیر کے مزارعین ہیں۔

شریف خاندان اوران کے حواریوں کی فتوحات کو دیکھتے ہوئے پیپلز پارٹی نے بھی اپنے جھنڈے گاڑنے کا فیصلہ کیا۔ جامشورو میڈیکل کالج بلاول زرداری میڈیکل بن گیا۔ نواب شاہ بے نظیر آباد کہلایا۔ نواب شاہ کا کیڈٹ کالج بختاور بھٹو کیڈٹ کالج ہوگیا۔ یہاں کی یونیورسٹی بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کہلائی۔ایک سکول بے نظیر سکول ہوگیا۔ اپر دیر میں ایک یونیورسٹی بے نظیر یونیورسٹی بن گئی۔ پشاور کی ویمن یونیورسٹی بھی بے نظیر ویمن یونیورسٹی کہلائی۔ لاڑکانہ یونیورسٹی کو بے نظیر یونیورسٹی بنالیا گیا۔ کراچی کا ڈگری کالج بے نظیر ڈگری کالج ہوگیا۔ کراچی کی ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز یونیورسٹی کا نام بھی بدل کر بے نظیر رکھ دیا گیا۔دیواان یونیورسٹی بے نظیر بھٹو دیوان یونیورسٹی بن گئی اور یونیورسٹی آف کراچی کو بے نظیر بھٹو یونیورسٹی آف کراچی قرار دے دیا گیا۔ اسلام آباد ایئر پورٹ بے نظیر انٹر نیشنل کہلایا۔ (اب یہ نام بدل چکا ہے) راولپنڈی جنرل ہسپتال بے نظیر ہسپتال بن گیا۔ لیاری میڈیکل کالج کو بے نظیر بھٹو میڈیکل کالج بنا دیا گیا۔اے این ایف ہسپتال کا نیا نام بے نظیر بھٹو اے این ایف ہسپتال ہے۔

عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو امید تھی کہ نہ صرف اس رسم کا خاتمہ ہوگا بلکہ ان مفتوحہ اداروں کو بھی ان دو خاندانوں اور ان کے نورتنوں کی گرفت سے واگزار کرایا جائے گا۔ اسی امید کے تحت میں نے ایک کالم لکھا اور جناب وزیر اعظم کی توجہ مبذول کراتے ہوئے پوچھا کیا ہم ان دو خاندانوں کا مال غنیمت ہیں؟ عمران خان کے وسیم اکرم پلس نے اس سوال کا جواب دیا ہے کہ عزیز ہم وطنو! تبدیلی آ گئی ہے اب آپ دو کا نہیں تین خاندانوں کا مال غنیمت ہیں۔

ارشاد تازہ ہے اس کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ کا خواب سردار فتح محمد بزدار صاحب نے دیکھا تھا۔ جان کی امان پاؤں تو عرض کروں صرف خواب ہی دیکھا تھا یا سردار صاحب نے اس خواب کی تعبیر کے لیے اپنی جاگیر کا کچھ حصہ بھی وقف کیا تھا؟ یہ کیسی مسیحائی ہے ہسپتال عوام کے پیسوں سے بنے اور ان کے گلے میں سردار صاحب کی ممنونیت کا طوق بلاوجہ ڈال دیا جائے۔ کسی کو اپنے والد محترم کے کسی سپنے کو پورا کرنا ہے اور تعبیر کو والد گرامی ہی سے منسوب کرنا ہے تو نیکی کا یہ کام فرند عزیز کو ذاتی سرمائے سے کرنا چاہیے۔ قومی خزانے سے تعمیر کیا گیا کوئی منصوبہ قومی مشاہیر سے تو منسوب ہوسکتا ہے لیکن اہل اقتدار اور ان کے اہل خانہ سے منسوب کیے جانے کا نہ کوئی اخلاقی جواز ہے نہ قانونی۔

عجب سے اخلاقی بحران نے ہمیں آلیا ہے۔ کسی غریب کو ایک ہزار روپے دینے ہوں تو دس حضرات اپنی اس سخاوت کی تصویر بنانے آجاتے ہیں۔ قومی خزانے سے راشن تقسیم کیا جائے تو اوپر حکمران خاندانوں کے چشم و چراغوں کی تصاویر چسپاں ہوتی ہیں۔غریبوں کے لیے کوئی فلاحی پروگرام قومی خزانے سے شروع ہوتا ہے تو نام رکھا جاتا ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے لاڑکانہ کی جاگیریں بیچ کر یہ سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔جو کسر رہ گئی تھی وہ اب تبدیلی کے پر چم بردار پوری کرنے نکلے ہیں۔

حیرت ہوتی ہے کیا یہ عمران خان کے دوست ہیں؟ ایسے دوستوں کے ہوتے ہوئے کیا عمران خان کو کسی دشمن کی ضرورت باقی ہے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */