جھوٹے مولانا،سچے اینکرز - قاضی شیراز احمد

جب سے صحافت اینکرز صاحبان کے گھروں کی رکھیل بنی ہے۔تب سے صحافت کا اصل رنگ بہت ہی بے رنگ ہوتا جار ہا ہے۔مولانا ابو الکلام آزاد،مولانا ظفر علی خان،مولانا الطاف حسین حالی،مولانا محمد علی جوہر اور تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے بہت سے صحافی حضرات جن کے ناموں کے ساتھ مولانا لگتا تھا انہوں نے صحافت کو ایک مقدس اور انسان دوست پیشے کے طور پر متعارف کرایا۔

مگر جب سے ہماری مولوی صاحبان فرقہ واریت اور اپنے اپنے مدرسوں میں جا گسے تو پھر دور جدید کے چند رنگین مزاج،آزاد خیال اور ذاتی مفادات کو عزیز تر رکھنے اور راتوں رات امیر بننے والے لالچی رپوٹر صحافی بن گئے۔جس طرح تحریک پاکستان کے دوران اس وقت کے صحافیوں نے حق گوئی اور بے باکی کے مثالیں وقف کیں۔عام عوام کی آواز بنے۔حکومت وقت کے ظلم و جبر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنے۔مظلوم کی طاقت بنے۔ظالم کے لیے خطرہ بنے۔اس جذبے،خوداری،حق گوئی و بے باکی نے صحافت کو ایک مقدس اور انسان دوست پیشے بنا ڈالا۔جب پاکستان بن گیا تو اس کے بعد جب تک ایک ریاستی ٹی وی چینل تھا اس وقت تک بھی صحافت اور ہمارے ٹی وی ڈرامے تھوڑی بہت انسانی اقدار سے مزین رہے۔مگر جب سے آزادی صحافت کے نام پر لگامیں ڈھیلی ہوئیں تو پھر صحافت چھوٹے چھوٹے اخباروں،کالم نگاروں اور صحافیوں تک محدود رہ گئی۔

اور بڑے بڑے چینلز پر بیٹھے اینکرز صاحبان نے پلاٹ اور مہنگے مہنگے تحائف اور مراعات کے عوض کردار کشی،بے ضمیری انسان دشمنی،جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے وہ جوہر دکھائے جن کا صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہ تھا۔کئی لوگوں نے کردار کشی ست تنگ آکر خودکشی کی اور کئی خلوت نشیں ہوئے۔نہ صرف ملکی سیاست دانوں سے لفافے اور پلاٹ لے کر ان کے قصیدے گائے گئے بلکہ غیر ملکی اور ملک دشمن عناصر سے پیسے لے کر بے حیائی،فحاشی اغیار کی تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لیے دن رات ایک کیے گئے۔صحافت کی خدمت اور صحافتی تنظیموں کی آڑ میں یہ کالی بھیڑیں ارب پتی بن گئیں اور ایک عام اخبار،ایک چھوٹا صحافی ایک گمنام قلم کار اپنے صحافی و ادیب اور قلم کار ہونے پر مایوس ہوتا چلا گیا۔چھوٹے اخبار مالکان جن کے پاس اگر دیکھا جائے تو صحافت کی ڈگری اور بڑے بڑے ٹی وی مالکان اور اینکر صاحبان سے کئ گنا زیادہ محب الوطنی کا جذبہ اور صحافت کی خدمت کا ولولہ ہے مگر ضمیر کا سودا نہ کرنے کی وجہ سے اوج کمال تک نہیں پہنچ سکے۔آخر کار مایوس ہوکر صحافت کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔
چند دوز قبل ایک اسلامی مبلغ جو چالیس سال سے انسان دوستی اور فرقہ واریت سے پاک دین اسلام کی تبلیغ کررہا ہے۔

اس نے ایک درویش منش وزیراعظم جو شب و روز کرونا جیسی مہلک وبا سے لڑنے اور اپنے ملک اور اس کی غریب عوام کے آنے والے دن سنوارنے کے لیے کام کر رہا ہے اس کی تعریف کی۔ان ٹی وی مالکان اور ان کے غیر ملکی ایجنڈوں کو تقویت دینے والے اینکرز کے سامنے کلمہ حق بولا تو ایک بھونچال آگیا۔جھوٹ اور بے حیائی پھیلانے والوں نے جب اپنا عکس اپنے سامنے دیکھا تو برا منا گئے۔وہ کرتوت بھول گئے جو یہ دن کے اجالوں اور رات کے اندھیروں میں کرتے ہیں۔وہ رنگین محفلیں اور شباب و کباب بھول گئے۔اور خود کو حق اور سچ کے علمبردار منوانے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔اس شب اور اگلے روز صحافت کے ان خدمت گاروں نے خوب شور و واویلا مچائے رکھا۔صحافیوں کی آڑ میں چھپا یہ مافیا ایک ہوگیا۔اور بھول گئے کہ ملک میں ایک آزمائشی صورت حال ہے۔بڑے بڑے چینلز پر بیٹھا یہ مافیا حرکت میں آگیا۔

وزیر اعظم کو نیک اور درویش انسان کہنے اور اس مافیا کو ان کا اصل چہرہ دکھانے پر مولانا کو درباری مولوی کے القاب و آداب سے نوازا گیا۔وزیراعظم کو سچا اور نیک ماننے کو یہ اینکرز اس لیے تیار نہیں کہ پاکستان بننے کے بعد پہلی مرتبہ کوئی وزیراعظم میسر آیا جس نے قومی لباس زیب تن کیا۔ہاتھ میں تسبیح پکڑی۔اور منہ سے ریاست مدینہ بولا۔سب سے بڑھ کر ان ٹی وی چینلز کو اشتہار اور اینکرز کو لفافے اور پلاٹ نہیں بانٹے۔بڑے بڑے ٹی وی مالکان جن کے ذمے کئی غریب پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کا الزام ہے وہ جیل یاترا کر رہے ہیں۔غرض اس دکھتے پھوڑے کو چھونا تھا کہ ایک دم یہ پھوڑا پھوٹ گیااور اندر جمع شدہ غلاظت نکل پڑی۔

ان نام نہاد عیاش اور فحاش صحافیوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو رسوا کر رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ایک عام اخبار اور ایک عام صحافی جو اس بے ضمیر مافیا سے کئی گنا زیادہ محب وطن،زندہ ضمیر اور صحافتی اصولوں سے مزین ہے مگر کسم پرسی کے عالم میں جی رہا ہے۔مگر یہ سب نام نہاد جنید بغدادی اربوں کھربوں کے مالک ہیں۔خدا جانے حق اور سچ بولنے پر کون ان کے اکاؤنٹ بھر رہا ہے۔اود جب کوئی ان کو ان کا اصل چہرہ کھائے یہ برا مان جاتے ہیں۔

دور باطل میں حق پرستوں کی

بات رہتی ہے سر نہیں رہتے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com