عمران خان، ایک عظیم کرکٹر - ذیشان نور خلجی

بچپن سے ہی کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا۔ تھوڑے بڑے ہوئے تو محلے کے لڑکوں پر مشتمل ایک ٹیم بنا لی روز شام جن کے سنگ کرکٹ کھیلی جاتی۔ پھر اتوار کے اتوار ہمارا میچ دوسرے محلے کی ٹیم سے بھی ہوا کرتا۔ جن سے کھیلتے ہوئے اکثر میرے اندر کا حقیقی کرکٹر جاگ جاتا جس کی قومیت بھی خالص پاکستانی ہوتی اور پھر میں ایک، دو گیندوں پر ہی ٹک ٹک کرنے کے بعد آؤٹ ہو جاتا۔ جب مسلسل ایسا ہونے لگا تو ہمارے کیپٹن کا صبر جواب دے گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ تم صرف اپنی ہی ٹیم کے ساتھ کھیلا کرو۔

آپ کو بتاتا چلوں، میرا بالکل وہی حال تھا جو ہماری قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کا ہے کہ پی ایس ایل کے میچز میں تو اچھے چھکے چوکے لگا لئے لیکن جو کبھی انڈیا جیسی کسی انٹرنیشنل ٹیم سے واسطہ پڑا تو سوائے ٹک ٹک کے کچھ نہ بن پڑا۔دوستو ! شروع شروع میں تو میں ٹیم کی طرف سے لگائی گئی پابندی برادشت کرتا رہا، لیکن پھر ایک دن میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اور میں نے 'نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے' والی پالیسی پر عمل شروع کر دیا۔ اور اب یہ حال تھا کہ باقی کے چھ دن تو اپنی ٹیم کے ساتھ ہنسی خوشی کھیلتا رہتا۔ لیکن پھر ہفتے کی رات چپکے سے گراؤنڈ میں جا کر پچ خراب کر دیتا جس سے اتوار کا میچ موخر ہو جاتا۔ اور ایسے میں اپنی نا اہلی کا بدلہ بھی ان سے لے لیا کرتا۔

صاحبو ! اپنی کار گزاری سنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے پیارے اور آپ سب کے راج دلارے وزیراعظم صاحب بھی تو ایک عظیم کرکٹر ہیں۔ تو ایسا کیسے ممکن ہے کہ ان میں ایک کرکٹر والی خوبیاں نہ پائی جاتی ہوں۔ اب یہی دیکھ لیں نا، کرونا وائرس سے پہلے تک یہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ بڑے آرام سے پچھلی حکومتوں پر ڈال دیا کرتے تھے۔ لیکن جب سے کرونا بحران شروع ہوا ہے ان کی گورننس بھی کھل کے سامنے آ گئی ہے۔ اور اب اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لئے انہوں نے بھی تہیہ کر لیا ہے کہ خود تو ہم نے کھیلنا نہیں، لیکن کسی اور کو بھی نہیں کھیلنے دیں گے۔

یہ پنجاب، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کی حکومتیں تو ہوئیں ان کی اپنی ٹیم۔ لیکن سندھ حکومت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مقابل ٹیم کے طور پہ سامنے آئی ہے تو یہ جناب لٹھ اٹھا کے اس کے پیچھے ہو لئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کوئی بڑے امام مسجد اور حاجی ثناءاللہ ہیں۔ لیکن وزیراعظم کو کم ازکم اس بات کا ہی خیال کر لینا چاہئیے کہ مشکل کی اس گھڑی میں جب کہ ہمیں آپسی اختلافات بھلا کر متحد ہونے کی ضرورت ہے، الٹا ہم ان کے لئے ایک اپوزیشن بن کر سامنے آگئے ہیں۔
ہمارے پیارے کپتان صاحب ! اگر آپ میں کسی کی مدد کرنے کا حوصلہ نہیں تو براہ مہربانی کسی کی راہ میں روڑے بھی نہ اٹکائیں۔لیکن ادھر یہ حال ہے کہ میں تو صرف ایک اکیلا ہی پچ خراب کیا کرتا ہے جب کہ یہاں تو کپتان کی پوری ٹیم ہی اس کار خیر میں حصہ لے رہی ہے۔ حالانکہ سوچنے کی بات ہے جتنی انرجی یہ سندھ حکومت کو ناکام ثابت کرنے میں لگا رہے ہیں اگر اس سے کم طاقت بھی اپنی گورننس کو بہتر بنانے میں لگائیں تو پھر صرف مولانا طارق جمیل ہی نہیں ہم سب بھی ان کے گن گانے لگیں گے۔

خیر ! ابھی بھی وقت ہے اگر ہمارے کپتان صاحب اپنی اس کرکٹر والی خصلت کو بھلا دیں اور اس حقیقت کو جان لیں کہ اب وہ کار زار سیاست میں فروکش ہیں اور وقت کے وزیراعظم ہیں تو ایک دفعہ پھر سے عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن کیا ہے نا کہ، یوں محسوس ہوتا ہے ان غنچوں پہ ہمیشہ حسرت ہی رہے گی۔ دراصل جس کی بات ہی ایک بال سے دو وکٹیں لینے اور وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے سے شروع ہوتی ہے اور پھر ایمپائر کے انگلی اٹھانے پہ ختم ہوتی ہے اس سے بندہ ایک کرکٹر والی حرکتوں کی امید ہی رکھ سکتا ہے ایک مدبر سیاستدان والی خوبیاں اس میں تلاشنا سراسر عبث ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com