لاک ڈاؤن اور سفید پوش حضرات - ہادیہ امین

لاک ڈاؤن نے لوگوں کو سوشل ڈسٹنسنگ کی لیے ایک دوسرے سے اتنا دور کردیا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو دوسرے طبقے کا احساس نہ ہونے کے برابر ہو گیا. اس بحث میں جائے بغیر کہ لاک ڈاؤن کی ضرورت کس حد تک ہے, ہمیں اس حقیقت کو ماننا اور منوانا چاہیے کہ لاک ڈاؤن سفید پوش حضرات کے لیے سب سے بڑی آزمائش ہے,جن کے بارے میں قرآن میں ہے کہ جو لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے اور نادان لوگ ان کی بےسوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں.

خوشحال طبقے کے افراد جن کی زندگیاں اس لاک ڈاؤن سے اتنا متاثر نہیں ہوئیں, ان کے بچے اپنی زندگیوں میں مگن بچپن کے رنگوں سے لطف لے رہے ہیں مگر وہ سفید پوش حضرات جن کی عزت نفس ان کو ہاتھ پھیلانے سے روکتی ہے, اپنے بچوں سے نظریں ملانے سے قاصر ہیں, وہ بیک وقت بھوک اور خوف سے آزمائے جا رہے ہیں, عید کے عید نیا جوڑا بنانے والوں سے لاک ڈاؤن نے یہ حق بھی چھین لیا, آن لائن بزنس ظاہر ہے کہ وہ نفع نہیں دے سکتا جو بازار کی دکانداری دیتی ہے, اور بعض افراد اس سہولت سے بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے, جن کے دستر خوان ﷲ کے فضل سے پر رونق ہیں, ان کے بچے لڈو اور سائیکل میں مصروف ہیں.

اور عزت دار غرباء کے بچے حالات کی تنگی اور والدین کی بے بسی دیکھ کر وقت گزار رہے ہیں, جن کی آنے والی عید,ﷲ جانتا ہے کہ خوشیوں سے بھرپور ہوگی یا حسرتوں سے, جو میٹھی عید پر بھی کسی مٹھاس کی امید نہیں لگا رہے, نجانے اس عید پر امّی ابّو سویّاں بھی خرید سکینگے یا نہیں؟ مہندی اور چوڑیاں تو دور کی بات, پتہ نہیں اس عید پر امّی ابّو نظریں بھی ملائینگے یا نہیں؟

زرا نہیں, خود کو انکی جگہ رکھ کے پورا سوچیے!! فیسبک پر ہی ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں لاک ڈاؤن میں بچوں کی مصروفیت کی تصاویر یا وڈیو کمنٹس میں شئیر کرنے کو کہا گیا ہے, میرا خیال سے کسی عزت دار غریب گھرانے کا دروازہ کھٹکھٹا کر وہاں بھوک سے بلکتے اور چھپ چھپ کر روتے آنسو پونچھتے بچوں کی اور ان کے والدین کی کیفیات کو محسوس اور شیئر کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا..

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */