روزہ اور روحانیت - ڈاکٹر بشری تسنیم

اللہ الخالق نے جب مختلف مراحل سے گزارکر سب سے پہلے انسان سیدنا آدم علیہ السلام کو ایک پتلے کی شکل میں کھڑا کر رکھا تھا تو اس وقت اس کی کوئی اہمیت اور قدرو قیمت نہ تھی ۔ وہ محض ایک بے جان وجود تھا گویا کہ ایک مادی شکل میں ایک ڈبہ یا کنٹینر تھا ۔ قد کاٹھ کا ایک مجسمہ تھا۔

اس مجسمے کی اہمیت جن و ملائک پہ واضح کرنے کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے یہ حکم ہوا کہ " جب میں اسے نک سک سے درست کرنے کے بعد جونہی میں اس میں اپنی روح پھونکوں تو تم نے اس کے سامنے سجدے میں گر جانا ہے" فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ ساجدین ۔ سورہ الحجر 29....... جسمانی وجود بغیر روح کے محض ایک مادی شے ہے ۔ انسان کی "اصل ' اس کی روح ہے ۔ گویا کہ انسان بیک وقت دو وجود کا حامل ہے ۔ جسمانی وجود جو نظر آتا ہے اور دوسرا روح کا وجود جو نظر نہیں آتا کیونکہ روح ایک لطیف ترین اور مہین ترین شے ہے اس کے مقام اورحفاظت کے لئے ایک پیکنگ میٹیریل لازمی تھا ۔ یا یوں سمجھیں کہ ظاہری لباس جسم کا لباس ہے تو جسم روح کا لباس ہے ۔ ان دو جسمانی اور روحانی وجود کی ضروریات یکساں ہیں ۔ دونوں کو غذا ،لباس درکار ہے دونوں خوشی اور غم محسوس کرتے ہیں ۔

دونوں بیمار ہوتے ہیں دونوں کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے دونوں کو استاد تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ نفس امارہ مادی وجود کی راحتوں کی خواہشیں سجھاتا ہے تو نفس لوامہ بھلائ کی طرف راہنمائ کرتا ہے ۔ اس طرح یہ کشمکش ساری عمر جاری رہتی ہے۔ جسمانی وجود مٹی اور پانی سے بنایا گیا تو اس کی ضروریات بھی مٹی اور پانی سے نسبت رکھتی ہیں ۔ روح کا تعلق " نفخ ربانی" سے ہے تو اس کی ضروریات بھی آسمان سے اتاری گئ اور اس کی تعلیم و تربیت کے لئے انبیاء مبعوث کئے گئے اور روح کو رب سے تعلق جوڑے رکھنے کے لئے اسوہ رسول کے عملی نمونے منتخب کئے گئے۔ انسان کی روح جب اس وجود سے نکل جاتی ہے تو وہ واپس رب کی طرف لوٹ جاتی ہے اور مٹی کے پتلے کو مٹی کے سپرد کر دیا جاتا ہے گویا کہ روح اور جسم "حق بحق دار رسید " کے مصداق ہو جاتے ہیں۔ روح کے جسم سے نکلنے کے بعد وہ خالی پتلا ہے جو اپنی قدرو قیمت اور اہمیت بدل بیٹھتا ہے ۔

اب وہ اپنے عہدے اختیارات اور گریڈ کا مالک نہیں صرف میت ہے اور رشتوں کے لحاظ سے بھی وہ محض "ماضی کے رشتے " بن جاتا ہے ۔ سبھی یہی کہ رہے ہوتے ہیں کہ اس سے میرا فلاں رشتہ تھا حالانکہ اس بندے کا وجود سامنے موجود ہوتا ہے ۔ اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ رشتے روح کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ انسان کا اصل وجود یہ خاکی بدن نہیں ہے بلکہ اس کی روح ہے جس نے رب سے ملاقات کرنا ہے ۔ اور یہ روح جیسی پاک صاف عطا کی گئ تھی ویسی ہی واپس کرنا ہے ۔۔ "فاتقوا اللہ ماا ستطعتم" کے ساتھ کوشش پوری ہو باقی رب کی رحمت اس کو پورا پاک کر دے گی.......روح کی آبیاری کے لئے اللہ تعالی نے انبیاء کے ذریعے عبادات کے طریقے متعین گئے گئے ۔ زندگی کے اصول و قواعد سکھائے ۔ہر عبادت روح کی نشونما اور تزکیہ کرتی اور اسے صحت مند اور توانا رکھتی ہے تو جسمانی طور پہ بھی چست و ہوشیار رکھتی ہے ۔ روح روشن ہوتی ہے تو جسم بھی اس کے نورانی اثرات سے محروم نہیں ہوتا کیا لیمپ کے اندر جلنے والا بلب شیڈ کو روشن نہیں کیا کرتا؟

اگر دن میں پانچ بار نہانے سے جسم پہ میل نہیں رہ سکتی تو پانچ بار رجوع الی اللہ سے روح کب میلی رہ سکتی ہے؟ رمضان المبارک میں ہمیں اپنے شعور کو فہم کے ساتھ فراست دینے کی ضرورت ہے ۔ بصارت کے ساتھ بصیرت کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کرنا ہے ۔ جسمانی صحت اور خوبصورتی کی خواہش کے ساتھ روحانی بیماریوں کا بھی پتہ چلانا اور ان کا علاج کرنا ہے ۔ روزہ سے روح کی آبیاری کیسے ہوتی ہے؟اور اس سے روحانیت میں کیسے اضافہ ہو سکتا ہے؟ جس احساس سے روح کو خوشی اور تازگی ملتی ہے وہی اس کی آبیاری کا ذریعہ ہے۔ رمضان المبارک کا انتظار ،اس کی تیاری کا ہر مرحلہ اور نیک نیتی سے کیا گیا ہر عمل روح کی غذا ہے ۔ اللہ تعالی کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مومنوں کے رزق کے بڑھنے کی خوشخبری سنائ ہے ۔لوگ مصنوعی طور پہ چیزوں کی قلت پیدا کرتے اور مہنگائ کرکے اپنے رزق میں اضافہ کرتے ہیں تو مہنگی چیزیں خرید کر دستر خوان سجانے والے اس قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرکے خوش ہو جاتے ہیں سب کے جسم اور نفس کی خواہشیں پوری ہوتی ہیں ۔

یہاں تو مومن کے رزق بڑھانے بات ہورہی ہے اور مومنوں کے لئے تو اللہ کا دستر خوان قرآن پاک ہے وہ روح کی غذا میں اضافے پہ خوش ہیں کہ نفل کا اجر فرض کے برابر اور فرض کا ستر کے برابر ملے گا۔۔ تراویح میں قرآن پاک سننا دورہ قرآن میں جانا معمول سے زیادہ قرآن پاک کی تلاوت کے لئے دل آمادہ رہتا ہے عمل کی طرف توجہ رہتی ہے صرف پیٹ کا روزہ نہیں سب اعضاء کا روزہ رکھنے کی کوشش رہتی ہے تو روح شاد رہتی ہے۔ یہی روحانیت ہے ....... روحانیت کا یہ سفر پورے انتیس یا تیس دن جاری رہتا ہے ۔ جسم اور روح کے کچھ تقاضے اس قدر عجیب ہیں کہ نفس انسانی جسمانی اور مادی چیزوں کے حصول سے راحت پاتا ہے" ھل من مزید" کی پکار اسے بے قرار رکھتی ہے ۔ روح کی سیرابی اور اطمینان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دے کر ،ایثار کر کے ، خوش ہوتی ہے ۔ وہ جان دینا ہو یا مٹھی بھر کھجور ،روح کی طرف سے عطا کر دینا اور روح کے مالک کی طرف سے قبول کر لینا ہی کامیابی کی دلیل ہے۔ جسم کا معاملہ یہ ہے کہ اس کو فنا ہے اس کی خوشی کی ہر چیز فنا ہو جائے گی ۔ ساری خواہشیں اور تمنائیں خاک ہو جائیں گی۔ روح کو کبھی موت نہیں آئے گی ۔موت کو بھی موت کا ذائقہ جکھنا ہے مگر روح جب وہ پھونک دی گئ وہ ماں کے پیٹ میں ہو یا دنیا کی گود میں ابد الاباد تک زندہ رہے گی ۔بس مقام فرق ہوسکتا ہے ۔ جنت یا دوزخ !

جسم نے وقت کے ساتھ ساتھ بوڑھا ہونا ہے اولاد آدم کس قدر ہی کوششیں کر لے اس پہ کمزوری بڑھاپا آنا لازمی ہے ۔مگر روح کا معاملہ یہ ہے کہ اس کی غذا ،صحت خوشی کا خیال رکھا جائے تو یہ وقت کے ساتھ توانا اور جوان ہوتی جاتی ہے اگر انسان کا اصل وجود اس کی روح ہے تو جوان رہنے کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہوتا ہے ۔ جسم تو زیادہ کھانےسے بیماریوں کا شکار ہوتا ہے روح کو اللہ تعالی کے دسترخوان سے جتنا کھلایا جائے گا اس کی بیماری کے امکانات کم ہوتے جائیں گے ۔ انسانی جسم کا لباس جتنا بھی قیمتی ہو ایک دن چیتھڑوں کی شکل اختیار کر لے گا روح کو تقوی کا لباس پہنائیں گے جو نہ کبھی بوسیدہ ہوگا نہ ہی پرانا، بلکہ ہر آنے والا دن اس کے نقش و نگار واضح اور نمایاں کرتا جائے گا ۔ آپ عمر کے لحاظ سے دنیاوی تعلیم لینے کے پابند ہیں مگر روحانی تعلیم کا معاملہ یہ ہے کہ سات سال کا بچہ اور ستر سال کا بابا ایک ہی سبق پڑھ سکتے ہیں ۔ رمضان کے معنی ہیں جھلسا دینا یا پگھلا دینا ۔ جسم پہ چربی چڑھ جاتی ہے تو کیلوریز جلانے یا جھلسانے کے سو جتن کئے جاتے ہیں ۔

رمضان المبارک میں روح پہ خواہشات نفس کی جو موٹی تہہ سارا سال جم گئ ہوتی ہے اس کو جھلسانے کا وقت ہے ۔ اپنی سماعت ،بصارت اور دل کے معاملات پہ نگاہ رکھنی ہے خیال رہے کہ سب نیکیاں ہماری رہیں ہم ان کے لئےنہ کر رہے ہوں جن سے ہم نا خوش ہیں رمضان المبارک کا ہر لمحہ قیمتی ہے آگ سے رہائ کا چیلنج در پیش ہے اگلا رمضان المبارک نصیب ہوگا یا نہیں؟ یا کن حالوں میں آئے گا کوئ کچھ نہیں جانتا اس لئے جو رحمت کا سمندر سامنے ہے اس میں غوطے لگایئے اور ایسے موتی نکال لائیے جن کا بدلہ جنت سے کم نہ ہو اور اللہ تعالی کی رضا تو اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ اپنے فانی جسم پہ خرچ ہونے والے وقت ،رقم ، صلاحیتوں کا جائزہ لیں اور روح کی ضروریات صحت ،خوشی اور اطمینان کی فکر کیجئے ۔

ہر روزہ روحانی طور پہ سکینت میں اضافہ کر رہا ہے یا نہیں اس کے بارے میں غور و فکر اور تدبر کی ضرورت ہے اسی کو تقوی کہتےہیں اور روزے فرض کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ" لعلکم تتقون" ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com