کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا - روبینہ فیصل

مجھے کہہ دیا جاتا ہے کہ میں مذہب کے معاملے میں نہ بولوں، کیونکہ یہ بڑا حساس معاملہ ہے اور لوگوں کی دل آزاری ہوسکتی ہے اور جب کسی کی دل آزاری ہو تو وہ رد عمل کے طور پر کچھ بھی کرسکتا ہے۔ بات تو بالکل سچ ہے، کسی کی دل آزاری نہ ہو اور کسی کی حساسیت کو ٹھیس نہ پہنچے۔ میں کسی بھی مذہبی معاملے میں بولنے سے پہلے سو دفعہ سوچتی ہوں اور اب تو اتنا سوچتی ہوں کہ بس سوچتی ہی رہ جاتی ہوں اور کچھ بولتی نہیں۔۔۔ لیکن جب مجھے یہ احساس ہوا کہ میرا مذہب تو مجھ پر ایسی کوئی پابندی نہیں لگارہا، وہ تو مجھے سوچنے، سوال کرنے، رائے قائم کرنے اور پھر اس پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔ یہ مجھ پر پابندی تو میرے ارد گرد کے لوگ لگاتے ہیں۔۔۔ چپ کر جاؤ، یہ نہ کہو وہ نہ کہو۔۔۔۔ یہاں "مجھ" سے مراد صرف" میں " نہیں ہوں، ہر وہ باشعور انسان جو خلاف حق بات دیکھے، تو سوچے، اور بول پڑے (یا کم از کم دل میں ہی اسے برا سمجھے)۔۔ ایسے انسان کے عزائم بہت خطرناک ہوتے ہیں کہ وہ سب انسانوں کو انسان سمجھتا ہے اور کسی بھی سطح پر تعصب، جانبداری اور ناانصافی نہیں برداشت کرسکتا۔

ٹھیک ہے! مجھے اُس اسلام میں نہیں بولنا چاہیے جو لوگوں نے اپنی پسند سے گھڑ کر اس کا ایک بُت بنا دیا ہے یہ جانتے ہو ئے بھی کہ اسلام میں بتوں کی نہیں ایک خدا کی عبادت کی جاتی ہے۔ مگر مجھے تو اسلام کے نام پر جگہ جگہ ایسے ایسے بت کھڑے ملتے ہیں کہ جی میں آتا ہے کہ محمود غزنوی سے جاکر پوچھوں بتاو بھیا اتنی محنت کاہے کو کی تھی وہ جو سومنات کے بت ڈھاتے پھرتے تھے! وہ سب بت تو اب اسلام میں سینہ تانے کھڑے ہیں۔۔۔ اب ان تکبر، انا اور نفرت کے بتوں کو توڑنے کی ضرورت ہے۔

آج کا زمانہ بہت بدل گیا ہے۔ قوت ِ برداشت اتنی کم ہوگئی ہے کہ اسے حساسیت کا نام دے کر" دل آزاریاں" لمحوں کا کھیل اور اس کے رد ِ عمل میں متاثرہ افراد، انتقاما کسی کوگولی مار دیں یا گھروں میں زندہ جلا دیں، ایک قابل ِ قبول بات ہو کے رہ گئی ہے۔ میرا اسلام تو فطرت کا مذہب ہے اور انسان کی فطرت میں سوچنا اور دوسرں سے اختلاف کرنا رکھ دیا گیا ہے۔ شیطان کو بولنے کی آزادی نہ ہوتی تو وہ حضرت آدم کو سجدے سے انکار ہی نہ کرتا۔ ایک انسان کا دوسرے سے اختلاف نہ ہوتا تو یہاں سب کے سب مسلمان نہ ہوجاتے۔

ہر انسان دوسرے سے مختلف سوچ سکتا ہے، اس سوچ پر پابندی لگانا یا اس سوچ کی بنیاد پر کسی کو جنتی اور کسی کو جہنمی قرار دینا یہ انسان کی صفت تو ہوسکتی ہے "مسلمان "کی نہیں۔ انسان کو تعلیم حاصل کرنے، تحقیق پر مائل کرنے والے مذہب کو صرف اور صرف ان عقیدوں کے گرد گھما دیا گیا ہے جس کا نہ تو کسی انسان کی سیرت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی نظام زندگی چلانے میں کوئی عمل دخل۔ ٹخنوں پر شلوار ہو یا نہ ہو، داڑھی مٹھی بھر ہو یا اس سے زیادہ، نماز میں گھٹنے کہاں تک جھکیں اور ہاتھ کہاں پر بندھے ہوں،اور زیادہ تر اسلام "بری عورتوں" کے چال چلن اور حوروں کے حلیے اور رہن سہن کے گرد گھومنے تک محدود کردیا گیا ہے۔

"اسلام دین ِ انسانیت ہے۔۔" ہے کہ نہیں؟ وہ کسی ایک کی ملکیت نہیں اور حضرت محمدﷺ کی ذات پر کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں۔۔۔ "آپ انسان ہیں اپنی حد میں رہیں اور آپ کی حد یہ ہے کہ دوسرے انسان کو اس کے تمام تر وجود کے ساتھ تسلیم کریں۔"

ہمارے پیغمبر ﷺنے کہا تھا: "تم ہرگز مومن نہیں ہوسکتے جب تک تم رحم نہ کرو، لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول! ہم میں سے ہر شخص رحم کرنے والا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اپنے ساتھی پر مہربانی کرو بلکہ اس سے مراد تمام لوگوں اور تمام انسانوں کے ساتھ رحم کرنا ہے۔۔۔"

مولانا وحید الدین خان اپنی کتاب" دین انسانیت" میں لکھتے ہیں کہ" اسلام کی بنیاد پر بننے والا انسان کا مزاج اپنے آپ اس کو تمام انسانوں کا خیر خواہ بنادیتا ہے۔ وہ تمام انسانوں سے محبت کرنے والا ہوجاتا ہے۔ تمام انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ اس کے اندر امنڈ پڑتا ہے۔ وہ ہر اعتبار سے ایک آفاقی انسان بن جا تا ہے۔.اسلام کی آدمیت وسیع تر آدمیت ہے نہ کہ محدود آدمیت۔"

دین ِ اسلام کا سبق اسلامی اخوت سے آگے عالمی اخوت کا سبق ہے۔۔۔ اسلام کی نظر میں ہر انسان قابل ِ احترام ہے۔ کسی بھی فرقے سے ہو یا کسی بھی مذہب سے، مگر انسان کی عزت دوسرے انسان پر واجب ہے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر وہ مومن نہیں۔ نماز کے طریقے اور قران پاک پڑھنے کے انداز سے دوسروں سے نفرت کرنا یا انہیں کمتر سمجھنا؟ رنگ، ذات، نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفرتوں اور محبتوں کے سلسلے کو تعصب کہتے ہیں، انسانیت نہیں اور اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔

مولانا وحید خان ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں مجرم کو جو سزا دی جاتی ہے وہ نفرت کے جذبہ کے تحت نہیں دی جاتی بلکہ حدود اللہ کی ادائیگی کے لیے دی جا تی ہے۔ سزا دینے والے کے اندر اگر مجرم کے مقابلہ میں بڑائی کا احساس پیدا ہوجائے تو یہ بھی اس کے لیے ایک جرم ہوگا۔ کسی کو سزا دینے کا اختیار صرف اس شخص کو ہے جو نفرت کے جذبات سے بلند ہوکر اسے سزا دے۔ مجرم پر حد جاری کرنے کے بعد اسے برا بھلا کہنا خدا کی سزا پر انسانی سزا کا اضافہ ہے جس کا حق کسی کو نہیں۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ یہ چاہا کہ مجرم کو سزا دیتے ہو ئے اسے برا بھلا نہ کہو کہ اس کے اندر ندامت یا اصلاح کی بجائے ردعمل یا سر کشی پیدا ہو۔۔"

مگر ہم یہی سب کچھ اپنے فرقوں کے ساتھ کررہے ہیں، جو لوگ اقلیت میں ہیں، انہیں آپ مسلمان سمجھتے ہیں یا نہیں لیکن نفرت کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ اقلیتیں یا اقلیتی فرقے اسی نفرت کے"رد عمل" میں مزید نفرت اور سرکشی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔۔ اگر آپ کے نزدیک ان کی اصلاح مقصود ہے تو ان کو نفرت نہیں حسن ِ اخلاق سے گرویدہ کریں نہ کہ مذہبی بنیادوں پر ان کی اس قدر حق تلفی (میرٹ کی بنیاد جب کہا جاتا ہے تو وہ بھی ایک امانت ہوتی ہے، اگر کسی اہل کو عہدہ، کانٹریکٹ یا نوکری نہیں دیتے تو آپ نے امانت میں خیانت کی ہے، آپ نے اسلام کی بنیادی شرط کو ہی تسلیم نہیں کیا) کی جائے ان سے اس قدر نفرت کی جائے کہ وہ یا تو ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوجائیں یا اتنی نفرت کریں کہ ملک کے نظام کو اندر سے ہی کھوکھلا کر نے کے درپے ہوجائیں۔۔۔ کسی کو وفادار کرنا ہو تو اس سے محبت کا سلوک کرو۔۔جیسا کہ اکبر بادشاہ نے کیا تھا۔ جب رنگا رنگ کے لوگ آپ کی رعایا ہوں تو کیا کرنا چاہیئے؟۔۔۔ کیا انسانیت کو مذاہب یا فرقوں کے خانے میں بانٹ کر انسان کی بات کی جاسکتی ہے؟

کیا ایسا کرکے انسانوں میں عدل ممکن ہے؟ اور اگر عدل نہ ہو تو معاشرے کی کیا ساخت بنے گی؟ بالکل ویسی ہی جیسی پاکستان کی بن چکی ہے جیسی اب انڈیا کی بن رہی ہے۔۔۔
ول ڈیورنٹ اپنی کتاب" ہندوستان "میں لکھتا ہے کہ شہنشاہ اکبر کی سلطنت، کرہ ارض کی سب سے عظیم اور مضبوط سلطنت تھی۔ قانون اور مالیت دونوں کا نظام بہت سخت تھا۔ اکبر نے مذہبی آزادی دیتے ہوئے تمام عہدے تمام مذہبوں کے پیروکاروں کے لیے کھولے اور افغان حکمرانوں کا عائد کردہ محصول "جزیہ" ختم کردیا۔ اصلاحی منازل سے گزر کر اکبر کے عہد کا قانون سولہویں صدی میں سب سے حق شناس اور انسان دوست قانون بن گیا۔ مزید لکھتا ہے جب فرانس میں پرو ٹسٹنٹ، کیتھولک کے ہاتھوں قتل ہورہے تھے، عہد الزبتھ میں پروٹسٹنٹ انگلستان میں کیتھولک کو مار رہے تھے، سپین میں یہودیوں کی لوٹ مار اور قتل وغارت ہورہی تھی اور اٹلی میں برونو کو زندہ جلایا جارہا تھا تو اکبر اپنی سلطنت میں تمام مذاہب کے نمایندگان کو ایک جلسہ مشاورت میں آنے کی دعوت دے رہا تھا۔ اس نے تمام فرقوں اور عقائد کے لیے بردباری، تحمل اور برداشت کے احکامات صادر فرمائے۔"

اس مذہبی آزادی سے ہندو مسلمان تو نہ ہوئے مگر ریاست اور اکبر کے وفادار ضرور بن گئے تھے۔ ہوتا بھی یہی ہے جب آپ مذاہب کو چن چن کر نشانہ نہ بنائیں، یاذات پات، مذہب یا رنگ کی بنیاد پر خدا کی مخلوق میں تفرقہ نہ کریں اور اسی بنا پر کسی کو کسی پر فوقیت نہ دیں تو لوگوں کا ہجوم ایک مضبوط " قوم" بن سکتا ہے ورنہ تو ہر کوئی نفرت کی بنیاد پر کھڑی کی ہو ئی دیوار کے پیچھے چھپ جائے گا جہاں سے صرف وہ خود کو دیکھ اور برداشت کرسکے گا یا دوسروں سے خود کو محفوظ رکھ سکے گا۔۔۔ یہ تقسیم کرتی دیوار نہ ہوگی تو دوسرے کو دیکھنے اور برداشت کرنے کی طاقت آئے گی۔

اورنگزیب بادشاہ نے جب غیرمسلموں سے جزیہ دوبارہ لینا شروع کردیا اور ان کی عبادت گاہوں کو مٹانا شروع کیا تو گویا اکبر ِ اعظم کی قائم کی گئی "عظیم سلطنت "کے زوال کی بنیاد رکھ دی تھی۔۔۔ نفرت کے بیج کے ساتھ نفرت کا درخت اگانے کی شروعات ہوگئی تھی۔ ایک ملک کے لوگ بادشاہ کے ساتھ وفادار (وفا، ہمیشہ محبت سے جیتی جاتی ہے نفرت سے بغض اور موقع ملتے ہی بے وفائی نصیب بنتی ہے) ہی نہ ہوں تو چلتے چلتے "نسلیں " ایسٹ انڈیا کے ہاتھوں بک ہی جاتی ہیں۔۔۔ مگر یاد رکھیے سادگی پسند اور رز ق ِ حلال کمانے والے اورنگزیب نے جب ٹوپیاں سی سی کرجو اپنی حلال کمائی کے تین سو روپے غریبوں کے لیے چھوڑے، تو وصیت میں انہوں نے کسی خاص فرقے یا کسی خاص مذہب کے" غریب" کا ذکر نہیں کیا۔۔۔۔۔کہ دنیا تقسیم تو انہی دو قسم کے لوگوں میں ہے۔۔ امیر اور غریب۔

ایک مومن کو دوسروں کو اپنے اخلاق سے قائل کرنے کا حکم ہے نہ کہ ان کی تذلیل یا تحقیر کرکے۔ لیکن میں یہ دیکھ رہی ہوں کہ ظاہری عبادت اور ظاہری حلیہ کی بنیاد پر اچھے اور برے مسلمان کی برتری کا معیار مقرر کیا جارہا ہے۔ مسلمانی کی نمائش میں ہم اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اسلام کی روح ہمارے اندر کہیں مرگئی ہے۔ کینیڈا کی فضاؤں میں اذان کی آواز گونجے یا نہیں؟ اس پر ہم اچھل اچھل کر شور مچا رہے ہیں جیسے اسلام کی زندگی کا درومدار ہی اس پر ہے جو اس ایشو پر خاموش ہے یا اس کے حق میں نہیں اس کے اسلام کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے۔ عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے حسن اخلاق اور ایمانداری سے لوگوں کو ایسے متاثر کریں کہ آپ خود ایک چلتی پھرتی اذان بن جائیں۔۔۔ لوگ خوشی سے پوچھیں یہ لین دین میں اتنے سچے اور کھرے، یہ حسن ِ اخلاق کے نمونے، یہ انسانیت نواز، یہ کون لوگ ہیں؟ ان کا مذہب کیا ہے؟ یہ کس ملک کے باشندے ہیں۔۔۔؟ تو جب ان غیر مسلموں کو یہ جواب ملے کہ "یہ مسلمان ہیں " تو جانیے ایسے مسلمانوں نے اس غیر مسلم کے کان میں ہی نہیں دل میں بھی اذان دے دی۔

لیکن اگرتکبر سے سینہ پھلا کر، خود کو جنت کا حقدار سمجھ کر، اس ساری کائنات میں سب سے برتر مخلوق سمجھ کر،آپ ناجائز طریقے سے پیسے کمارہے ہیں، جھوٹی ویلفئیر لے رہے ہیں، کسی کے نام کی انشورنس سے کسی کی دوائیاں لے رہے ہیں، پورے سسٹم کو بے وقوف بنارہے ہیں، یا کسی کا حق مار رہے ہیں، نفرت اور حسد کی آگ میں جل رہے ہیں، منافقت آپ کے وجود میں رچ بس گئی ہے، جھوٹ آپ کی عادت ثانیہ بن چکا ہے تو سوچیے! اس اذان نے اس اللہ کے حضور سر بسجود ہو نے کی پکار نے اگر آپ کا کچھ نہیں سنوارا تو غیر مسلموں کے لئے بھی وہ فقط ایک شور کے سوا اور کیا ہوگا؟۔۔۔ آپ کا کردار اور آپ ہیں اذان اورچلتا پھرتا قران۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر نہ اسلام کی شناخت ختم ہوگی نا مسلمان کی۔۔۔ یہ شناخت تب تب مرتی ہے جب جب آپ کے اندر اخلاق اور انسانیت مرتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com