مسلمان عورتو اپنی قوت پہچانو - افشاں نوید

دس رمضان، یوم وصال.......ام المومنین حضرت خدیجہ ...... آپ کے بارے میں ہمیں جو معلومات ہیں . دس رمضان المبارک ان کے یوم وصال پر انہی کو دھرا دیا جاتا ہے۔ یہ سن پیدائش،یہ سن وفات۔ قریش کی مالدار عورت تھیں۔ آپﷺ کی صادق و امین شہرت کی وجہ سے انہوں نے اپنے سامان تجارت کو لے جانے کے لئے آپﷺ کا انتخاب کیا۔

غلام میسرہ جو شام کے تجارتی سفر میں ساتھ تھا اس کی گواہی سے متاثر ہوکر آپﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ ابو طالب نے نکاح پڑھایا، اتنا مہر مقرر ہوا، آپ کے سابقہ شوہروں کے یہ نام ہیں۔آپ کے اتنی اولادیں ہیں۔شعیب ابی طالب میں سختیاں برداشت کیں۔آپ کی اولادوں کے یہ اسمائے گرامی ہیں۔آپ بہت صابر شاکر اور استقامت والی خاتون تھیں۔ یوٹیوب پر مجھے اتنا ہی ملا۔۔۔ سیرت کی کتابوں میں اتنا ہی درج ھے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو اس طرح بیان ہی نہیں کرتے کہ ہماری نئی نسل ان کو رول ماڈل بنائے۔جذبات سے عاری کتابی معلومات۔ یہاں بیان کرنے کی بات یہ ہے کہ چالیس برس کی خاتون آج سے تقریبا ڈیڑھ ہزار برس قبل ایک قدم اٹھاتی ہیں۔ اپنی قوت کو پہچانتی ہیں,سماج میں اپنے مقام سے آگاہ ہیں۔دو بار کی بیوگی کے باوجود خود پر بےچارگی طاری نہیں کرتیں۔ یہودی علماء سے آپ سن چکی تھیں کہ توریت میں جس نبی کی آمد کی خبر ہے ان کا زمانہ قریب آلگا ہے.....

آپﷺ صادق اور امین۔۔۔ آپﷺ کی شخصیت کی آہٹیں زمانہ محسوس کر رہا تھا۔ حضرت خدیجہؓ اسی سماج کا حصہ تھیں۔زندہ بیدار دل رکھنے والی,آنے والے وقت میں اپنا رول ادا کرنے پر تیار تھیں۔ ہمارے ہاں 40 سال کی بیوہ عورت معاشرے میں"بےچاری"ہوتی ہے , لفظ بیوہ خود ہی بے چارگی رکھتا ہے۔ لوگوں کی نظروں میں بھی عجیب سا پیغام ہوتا ہے .....اس کے لئے جو بیوگی کا زخم جھیلے ہوۓ ہوں۔ انہوں نے زمانے کو اپنے اوپر ترس کھانے دیا نہ وہ زمانے سے مرعوب ہوئیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ انہوں نے ایک پروایکٹو ایجنڈے پر کام کیا اور بتایا کہ زمانے کو کیسے اپنے پیچھے چلایا جاتا ہے؟ بڑے بڑے سرداروں کے پیغام انہوں نے ٹھکرا دئے تھے۔ وہ جاہ و حشم کی مالک کسی بڑے سردار سے نکاح کرکے باقی زندگی چین سے بسر کر سکتی تھیں لیکن انہوں نے مکہ کے دریتیم کا انتخاب کیا۔جن سے وہ معاوضے پر تجارتی خدمات حاصل کر چکی تھیں۔ ان کا ایکسپوژر دیکھنے کی چیز ہے۔ان کی نظر کہاں تک دیکھ رہی تھی۔ اپنے فیصلوں میں وہ کس قدرمضبوط تھیں۔ اپنا فیصلہ سنا کر انہوں نے سماج کے ردعمل کی پروا نہ کی۔ شادی کے پندرہ برس بعد آپﷺ کو نبوت عطا ہوئی ماقبل آپ کئ کئ دن غار حرا جاتے۔آپ ان معمولات میں پورا تعاون کرتیں۔ جب پہلی وحی نازل ہوئی آپ ﷺ کانپتے ہوئے تشریف لاتے ہیں تو حضرت خدیجہؓ نے جو تاریخی الفاظ کہے وہ چودہ سو برس کی تاریخ سے سے چھن کر ہم تک پہنچتے ہیں کہ۔۔ اللہ آپ کو ضائع نہیں کرے گا کیوں کہ آپ سماج کے کمزور طبقوں پر مہربان ہیں۔

نبوت کے اعلان کے بعد معاشرہ کیا سلوک کرے گا,نئی دعوت کے راستے میں میں کیسے کیسے روڑے اٹکانے جائیں گے؟ایسا نہیں ہے کہ انھیں اس کا اندازہ نہیں تھا..... ورقہ بن نوفل بھی بتا چکے تھے کہ یہاں تک بدسلوکی ہوگی کہ آپﷺ کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔ پچپن برس کی عمر میں میں کوئی معذرت نہیں کرتیں کہ وہ آنے والے وقت کے چیلنجوں کو اپنی عمر رسیدگی کی وجہ سے نبھا نہ سکیں گی۔ یہی نہیں کہ سب سے پہلے ایمان لائیں بلکہ اپنا سارا مال تجارت جس کو ہزاروں اونٹ لاتے لے جاتے تھے سب اسلام کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ ایک عورت اپنی قوت کو پہچانتی ہے تو وہ صدیوں کے دل کی دھڑکن بن جاتی ہے۔ آپﷺ کی رفاقت جذباتی فیصلہ نہ تھا۔مال و اسباب تج کے وفا کی لاج رکھی۔ تاریخ کے صفحات پر آج بھی وہ آنکھیں رکھی ہیں کہ بیٹی اور داماد حبشہ ہجرت کر جاتے ہیں, حکم ربی ہے۔ ماں کی ماری ممتا روز ایک برس تک حبشہ جانے والے رستہ پر آکر بیٹھتی رہی کہ شائد آتے جاتے کسی قافلہ سے پیاروں کی خیریت کی کوئی خبر مل جائے۔ شعیب ابی طالب کی سختیوں نے انہیں گھلا دیا,جہاں پتے تک کھانے پڑے,تین ہفتے نہ تین ماہ ,پورے تین سال۔۔۔ اس محسنہ نے امت کو یہ پیغام دیا کہ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے جب حق کی تاریخ رقم کرتے ہیں تو ان کو پتھر بھی کھانا پڑتے ہیں اور پتے بھی.......

ایسی" لو اسٹوری" تاریخ کے صفحات پر اور کہاں رقم ہے؟؟ لیکن اس داستان کا اہم ترین حصہ ایک مرد کے ہاتھوں رقم ہوا ہےﷺ۔ جس میں سبق ہے قیامت تک امت کے مردوں کے لیے۔ اللہ کے نبیﷺ ان سے زندگی میں بھی عشق کی حد تک محبت کرتے تھے اورانکی وفات کے بعد بھی ان کی یادوں کے ساتھ جیتے تھے..... حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپ حضرت خدیجہؓ کی یاد میں کھوئے رہتے تھے۔ ایک بار میں نے کہہ دیا وہ تو بوڑھی عورت تھیں آپ کو اللہ نے جوان بیویاں دیں۔ آپ کو اتنا ملال ہوا اس بات کا کہ آپﷺ کی آنکھوں کے گوشے بھیگ گئے اور آپﷺ نے ان کے احسانات بیان کیے کہ خدیجہؓ نے اس وقت مجھ پر احسان کیے جب میں سماجی طور پر تنہا تھا,جب مجھے معاشی طور پر ان کے مال کی ضرورت تھی,جب مجھے ۼمگساری کی ضرورت تھی۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں اس کے بعد کبھی ایسی بات کہنے کی میری ہمت نہ پڑی۔ ہمارے سماج میں وہ لوگ جن کی دو بیویاں ہوں دوسری کے سامنے پہلی کا ذکر کرنے کا بھی حوصلہ نہیں رکھتے۔ وفات کے بعد تو دل سے بھی نکل جاتی ہے۔ آپ تو ببانگ دہل حضرت خدیجہؓ کی سہلیوں کو تحفے بھیجتے۔انکے احسانات کا ذکر کرتے۔ عورت اگر کسی بھی دائرۀ حیات میں چاھے ذہنی جسمانی صلاحیتوں کی بات ہو یا جاہ و حشم کی,شوہر سے زیادہ ہو تو اس کا کھلے دل سے اعتراف کرنا چاہیے۔

یہ حضرت خدیجہؓ کی زندگی کا سبق ہے کہ بیوی کی صلاحیتوں کو دبایا نہ جائے۔ کہیں روایت میں نہیں کی آپﷺ نے انھیں تجارت سے منع کیا یا اسلام لانے کے بعد ان کے تجارتی روابط میں رکاوٹ ڈالی ہو۔ جو خاتون بین الاقوامی تاجر ہو اسکا سماجی طور پر ہائی پروفائل اسٹیٹس ہوگا آپﷺ نے ان کو پورا اسپیس دیا۔ نہ صرف یہ کہ انکی تحسین فرمائی بلکہ ان کی صلاحیتوں کا بارہا برسرعام اعتراف کرتے رہے۔ آپﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کوئی سفارش نہیں کی لیکن حضرت زینبؓ کے شوہر کے فدیہ کے لیے حضرت خدیجہؓ کا ہار دیکھ کر آپﷺ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔اس ہار کے ہر موتی سے حضرت خدیجہؓ کا لمس وابستہ تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ آپﷺ نے حضرت خدیجہؓ کے جاہ و حشم کی وجہ سے دوسری ازواج کےمقابلے میں آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا .....آپﷺ نے ہر ایک کا پورا پورا حق ادا کیا۔ جب پوچھا گیا کہ آپﷺ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا عائشہؓ سے۔ پوچھا گیا مردوں میں؟ فرمایا عائشہؓ کے باپ سے۔ حضرت خدیجہؓ کی پیاری سیرت میں امت کی عورتوں,مردوں کے لئے یکساں پیغام ہے۔ بیوی کی زندگی میں ہی نہیں اس کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی اس کو یاد رکھنا اس کی سہلیوں کو تحفے بھیجنا۔ اس کی محبت کا اعتراف کرنا.....دوسری بیویوں کے سامنے ذکر سے دلوں کو تکلیف ہوتی ہے لیکن آپﷺ نے یہ پیغام دیا کہ محسنوں سے بعد وفات بھی احسان کا رویہ رکھا جاتا ہے,کیونکہ آپﷺ خود محسن انسانیت تھے آپ سے زیادہ قدر کرنے والا دل کس کے پاس ہو سکتا ہے؟؟ حضرت خدیجہؓ کا یہ مقام ومرتبہ کہ جبرئیل امین انکے لیے اپنا اور اللہ کا سلام پیش کرتے ہیں۔

آج اسلامی معاشروں میں گھر گھر خدیجہ, عائشہ,فاطمہ نام موجود ہیں۔ضرورت ہے کہ اسلام کی ان عظیم شخصیات کو ہم اپنی نسلوں کے رول ماڈل بنائیں۔نام کے ساتھ ان کرداروں کے روشن تذکروں سے بھی اپنے گھروں کو منور رکھیں۔

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */