"فہم دین" کے نام پر پہیہ پھر سے ایجاد کرنے کی کوشش - زاہد مغل

برادر حافظ زبیر صاحب نے نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ قرآن و حدیث ضرور پڑھیں، مگر طالب علم بن کر، نہ کہ استاد بن کر۔ یہ رویہ درست نہیں کہ چند آیات کا ترجمہ پڑھ کر مفسر قرآن بن بیٹھیں اور اپنے فہم کو حجت سمجھ لیں۔پہلی اور دوسری صدی ہجری میں جس قدر فرقے موجود تھے، بندہ اس کا مطالعہ کرے تو ششدر رہ جاتا ہے کہ یہ ہوکیا رہا تھا۔ اگر کوئی شخص ذرا سی محنت کرکے "مقالات الاسلامیین" نامی کتاب سے کسی بنیادی سے مسئلے کو، جسے آج بڑا واضح دینی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، پکڑ کر ہی گننا شروع کردے کہ اس پر کتنی آراء موجود تھیں تو میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کئی درجن تک چلی جاتی ہے۔

ہو دراصل یہ رہا تھا کہ ہر شخص اور اس کے ماننے والوں کا ایک چھوٹا سا گروہ قرآن و سنت ہاتھ میں لے کر کہتا تھا کہ دین بس وہ ہے جو مجھے نصوص سے سمجھ آگیا ہے، اس کے علاوہ سب کفر اور گمراہی ہے۔ انفرادی قرآن و حدیث فہمی کے ساتھ ساتھ یونانی اور دیگر امتوں کے علوم کا ملغوبہ بھی اپنا کام دکھا رہا تھا۔ ایسے میں اللہ تعالی نے امت میں گروہ متکلمیین و اصولیین کو کھڑا کیا جنہوں نے یہ واضح کیا کہ قرآن و سنت سے احکامات اخذ کرنا کوئی الل ٹپ معاملہ نہیں کہ چند آیات پڑھیں اور نتیجے نکال لیے بلکہ اس کے کچھ اصول ہیں۔ ان کی اس محنت کے نتیجے میں امت کا بکھرتا ہوا شیرازہ مربوط ہوگیا-

- یہ بات درست ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں فہم دین کے چند اصولی طرق (مثلا فقہ میں حنفی و طریقہ متکلمین) وجود میں آگئے جن میں چند اصولی قسم کے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں (جن کا اظہارمسائل میں اختلاف کی صورت نکلتا ہے) لیکن یہ اختلافات اصولوں کے اختلاف ہیں اور جس شخص کو دین میں تفقہ حاصل ہوا ہو، وہ یہ جان لیتا ہے کہ ان میں سے ہر طریقہ استدلال کی اپنی اپنی خوبیاں اور کمزور پہلو ہیں، لیکن ان میں سے ہر نظام فکر اپنی کمزوری کو کسی دوسری طرف کی خوبی سے بیلنس کرلیتا ہے اور نتیجتا ان "چند" طرق استدلال کو قبول کرنے کی گنجائش نکل آتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علمائے امت نے کلام و فقہ کے ان مختلف طرق استدلال کو قبول کیا اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ منسلک ہوجانے کو سلامتی کا ذریعہ سمجھا اور ان سے باہر نکل کر نئی آراء سازی کو پرخطر طریقہ قرار دیا۔ ذرا غور تو کرو کہ غزالی و ابن تیمیہ جیسے بڑے بڑے ذھن بھی خود کو کسی نہ کسی روایت کے اندر رکھ کر گفتگو کرتے ہیں- کوئی شافعی و اشعری رہتا ہے تو کوئی حنبلی۔ کیا یہ سمجھتے ہو کہ یہ سب کوئی چھوٹے دماغ تھے؟ کبھی ان کی کوئی کتاب پڑھو تو عقل ٹھکانے آجائے گی۔ کیا خیال ہے کہ اگر یہ کوئی نیا طرز استدلال وضع کرتے تو کیا انہیں چند پیروکار میسر نہ آتے؟

- لیکن ہم جیسے وہ لوگ جنہیں دین کا یہ قصر عظیم بنا بنایا مل گیا اور انہوں نے دیکھا کہ اس میں تو چند اختلافات ہیں اور یہ اختلاف ان اصولوں کے سبب ہیں جو ان گروہوں نے اختیار کررکھے ہیں تو وہ سمجھتا ہے کہ اگر ان اصولوں کی الائشوں کو ہٹاکر ان کی جگہ دوبارہ سے قرآن و سنت کو "اصلی حالت" میں پیش کردیا جائے تو صرف وہ اختلافات ختم ہوں گے، باقی دین کا تصور جوں کا توں برقرار رہے گا اور یوں امت جمع ہوجائے گی-

- لیکن یہ سادہ لوح مصلحین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جسے آج ہم "محکم و متشابہ" کی تقسیم کہتے ہیں، "دین کا مستقل اور متغیر حصہ" قرار دیتے ہیں، یہ جسے دین کے "بنیادی اور فروعی" امور قرار دیتے ہیں یہ سب کچھ یونہی نہیں بن گیا اور نہ ہی ہمیشہ سے اسی طرح بنا بنایا موجود تھا بلکہ یہ سب تصورات اور تقسیمات ان اصولوں کی روشنی میں نکھر کر سامنے آئی ہیں جو علمائے امت کی عظیم الشان جدوجہد کا نتیجہ تھا-

- اب جو یہ سمجھتا ہے کہ چھوڑو ان اصولوں کو اور نصوص پر براہ راست غور کرو تو دراصل وہ یہ کہتا ہے کہ محکم و متشابہ، مستقل و متغیر، بنیادی اور فروعی جیسے تمام تصورات کو ازسر نو تعمیر کرو کیونکہ ان اصولوں کو ڈھاتے ہی یہ سب تصورات تحلیل ہوجاتے ہیں۔ متکلمین اور اصولیین نے بڑی محنت سے دین کا جو قصر عظیم تعمیر کیا ہے یہ شخص اسے زمین بوس کرکے سمجھتا ہے کہ میں پھر سے اسے تعمیر کرلوں گا، وہ بھی تن تنہا اور یوں امت جمع ہوجائے گی۔ "پہیے کو پھر سے ایجاد کرنے" کی کوشش کرنے کا شوق رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ "مقالات الاسلامیین" پڑھ لیں اور غور کریں کہ جب یہ سب اصول نہ تھے تب اختلاف زیادہ تھا یا اب، ممکن ہے آفاقہ ہوجائے-

- ایسی جدوجہد کرنے والے چند پڑھے لکھے لوگوں کی ایک چالاکی یہ ہوتی ہے کہ ماضی کے ان تمام علوم سے استفادہ کرچکنے کے بعد کہتے ہیں: "مجھ سے پوچھ لو میں بتا دوں گا کہ کس آیت کا کیا مطلب ہے، سب کچھ واضح ہے"، گویا یہ سب اس نے ماں کے پیٹ سے نکلنے کے بعد براہ راست جان لیا تھا اور ہر شخص اسی نتیجے پر پہنچے گا جو وہ بتا رہا ہے-

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */