طالب علم بنیں، استاذ نہیں! - حافظ محمد زبیر

بہت خوش آیند بات ہے کہ ایک بڑی تعداد قرآن مجید اور احادیث نبویہ کا ترجمے سے مطالعہ کررہی ہے اور لوگ کتاب وسنت سے جڑرہے ہیں۔ تو جو لوگ تو قرآن مجید اور احادیث نبویہ کا مطالعہ ایک ترتیب سے کرتے ہیں اور علم حاصل کرنے کی غرض سے کرتے ہیں تو انہیں اس کا واقعی میں فائدہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جنہوں نے قرآن کی کچھ آیات یا چند احادیث کا ترجمہ دیکھ لیا ہے، یا کہیں سے کچھ لیکچرز اصول حدیث یا اصول فقہ پر سن لیے ہیں اور کچھ اڑتی اڑتی اصطلاحات ان کے ذہن میں سماگئی ہیں، یا انہوں نے کوئی دینی حلقہ جوائن کرلیا ہے، یا کچھ اہل علم کے علمی محاضرات اور لیکچرز کا مطالعہ کرلیا ہے تو اب انہیں یہ سب کچھ ہضم نہیں ہورہا اور وہ اس خوش فہمی میں ہیں کہ وہ عالم فاضل بن چکے ہیں بلکہ شیطان نے ان کو یہ وسوسہ ڈال رکھا ہے کہ وہ تو علماء اور فضلاء کو اپنے آگے لگاسکتے ہیں۔

دیکھیں، ہمیں یہ فرق کرنا پڑے گا کہ کون دین کا سنجیدہ طالب علم ہے اور اس نے دین کی تعلیم وتحقیق اور درس وتدریس کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہے اور کون وہ ہے کہ جس کا دین کا مطالعہ سرسری سا ہے اور دین اس کا اوڑھنا بچھونا نہیں ہے۔ آپ نے سوال کرنا ہے، ضرور کریں لیکن کٹہرے میں مت کھڑا کریں کہ ابھی آپ کی وہ دینی صلاحیت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دینی بنیاد ہے۔ سوال کے الفاظ اور انداز بیان سے واضح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ شخص سوال کررہا ہے یا اعتراض کررہا ہے؟ یہ پڑھنا چاہتا ہے یا پڑھا رہا ہے؟ یہ آپ سے سیکھنا چاہتا ہے یا اس نے آپ کو سکھانے کی پوزیشن لی ہوئی ہے؟ ٹھیک ہے، ہم بھی سیکھتے ہیں لیکن ابھی ہمارا حال اتنا پتلا بھی نہیں ہے کہ ہر دوسرا ہمارا استاذ بن سکے۔

دیکھیں، ہم نے علم دین میں بیس سال لگائے ہیں، پچھلے بیس سال کے عرصے میں کوئی کام نہیں کیا، صرف دین کی درس وتدریس اور تعلیم وتحقیق کا کام کیا ہے، اپنی راتیں اور اتواریں علم دین کے حصول میں لگائیں بلکہ کھپائی ہیں۔ اتنی کچھ تحقیق کردی ہے کہ آپ کے اگلے بیس سال پڑھنے اور ہضم کرنے کو کافی ہے۔ تو تھوڑا حفظ مراتب کا اعتبار کریں۔ ہم اور آپ برابر نہیں ہیں۔ ہمارا دینی مقام برابر نہیں ہے جیسا کہ آپ اگر میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور پچھلے بیس سال سے اس پروفیشن میں ہیں تو ہم آپ کے برابر نہیں ہیں۔ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ حفظ مراتب کا یہ فرق بیان کرنا تکبر ہے تو بھئی پھر آپ وہ دشمن خدا ہیں کہ جن کے حق میں میدان جنگ میں ایسے تکبر کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

ٹھیک ہے، آپ انجینیئر ہیں، آپ میڈیکل ڈاکٹر ہیں، آپ سوشل سائنسز یا سائنسز میں پی ایچ ڈی ہیں، لیکن اسلامک اسٹڈیز میں آپ کہاں پر ہیں؟ ذرا یہ سوچیں۔ سیکولر اور یونیورسٹی کی تعلیم کا المیہ یہ ہے کہ انسان کو اعتماد بہت دے دیتی ہے لہذا دینی مدارس کے طلباء کی طرف سے کبھی ایسے رویوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا جو ایک یونیورسٹی گریجویٹ کی طرف سے کرنا پڑتا ہے جبکہ وہ دین کا تھوڑا بہت علم حاصل کرلیتا ہے۔ کہیں میں نے حزبیوں کے بارے لکھا تھا کہ انتہائی درجے کی جہالت اور انتہائی درجے کی خود اعتمادی کو جمع کرلیں تو حزبی بنتا ہے۔ یہاں کوئی پاپائیت نہیں ہے، آپ نے دینی رائے دینی ہے تو دین کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں، دس بیس سال لگائیں۔ اگر یہ نہیں کرسکتے تو علماء سے پوچھ پوچھ کر چلیں اور ان کا احترام کریں۔ ایک عالم دین پسند نہیں تو دوسرے کی اتباع کرلیں۔ یہی آپ کا مقدر ہے اور اس کے علاوہ ہر رستہ گمراہی کا ہے۔ تو خود عالم بنیں یا علماء کی اتباع کریں، تیسرا رستہ تو شیطان کا ہے۔

یہاں تو ایسے شگوفے ہیں کہ اصول فقہ کی کسی درسی کتاب کی بھی دو لائنیں نہیں پڑھ سکتے ہوں گے لیکن اصول فقہ پر ایسے عالمانہ گفتگو کررہے ہوں گے کہ جیسے وقت کے امام شافعی ہوں اور یہ اعتماد بلکہ بداعتمادی یونیورسٹی گریجویٹس میں زیادہ ہے۔ اخلاق ایسے گرے ہوئے ہیں کہ کسی طالب علم کے سامنے ذرا سی عاجزی کا اظہار کرلیں تو وہ آپ کا استاذ بن جاتا ہے۔ ہمارے ایک استاذ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور تفسیر میں پی ایچ ڈی کہتے ہیں کہ درس قرآن کے دوران میں نے کہہ دیا کہ میں تو طالب علم ہوں، مجھے کیا آتا ہے؟ تو درس کے بعد درس میں شریک ایک صاحب پاس تشریف لائے اور دلاسہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ کوئی بات نہیں، محنت کریں، کچھ بن جائیں گے۔ تو وہ کہتے ہیں کہ میں ہکا بکا رہ گیا کہ یہ کہہ کیا رہے ہیں۔

تو وقت کی اہم ضرورت ہے کہ یہ گلی گلی کے مفکرین ختم ہوں۔ اگر انہوں نے دین میں کلام کرنا ہے تو دین کے سنجیدہ طالب علم بنیں ورنہ علماء کی اتباع کریں نہ کہ چند کتابیں پڑھ کر ان کی اصلاح شروع کردیں۔ ہم لوگوں نے بھی اصلاح لی ہے لیکن اپنے اساتذہ سے۔ اب آپ کو اصلاح کی ضرورت ہے، جو آپ کو لینا ہے۔ تو ابھی آپ کے ابا بننے کا وقت نہیں ہے، وہ وقت بھی آ جائے گا۔ لیکن وقت سے پہلے ابا بننے کا فائدہ نہیں ہے۔ گڈے گڈیوں کے کھیل میں تو بن سکتے ہیں، حقیقت میں نہیں۔ تو دین کے سنجیدہ طالب علم بنیں، کسی دن استاذ بھی بن جائیں گے۔ لیکن وہ کسی دن دس بیس سال بعد ہی آتا ہے، یہ ذہن میں رہے۔ تو اختلاف کرنے میں اور اصلاح کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ ابھی آپ کی عمر اختلاف کرنے کی ہے، اصلاح کرنے کی نہیں۔ اختلاف ضرور کرلیں، کس نے منع کیا ہے۔ اصلاح کرنے کے لیے آپ کو دین کا استاذ بننا ہے۔ اور آپ ابھی اس کے اہل ہیں یا نہیں، اس کے لیے اپنے گریبان میں جھانک لیں۔