کورونا مجاہدین اور قوم کی بےحسی! - ‌ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اے مرد مجاہد جاگ ذرا
اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ اکبر۔۔۔ اللہ اکبر۔۔۔

۔۔۔ڈاکٹر اسامہ گلگت میں کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود کرونا کا شکار ہوکر شہید ہوگئے۔۔۔ آخری ویڈیو میں سب کو کرونا سے محفوظ رہنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا کہتے رہے۔

ڈاکٹر رابعہ طیب فریش گریجویٹ نے جس دن اپنی ہاؤس جاب شروع کرنا تھی اس روز رخصت ہوئیں۔۔۔ اک زمیں زاد، ستارہ ہوگیا.

ڈاکٹر فرقان ریڈیالوجسٹ ایمبولینس میں دو گھنٹے اکھڑتی سانسوں کے ساتھ آئی سی یو میں بیڈ مانگتے رخصت ہوئے۔ اسپتال تک پہنچنے میں لیٹ اس لیے تھے کہ انہیں خوف تھا کہ اگر انہیں کورونا کا مریض ڈکلیئر کردیا گیا تو ان کی چار بیٹیوں کو قرنطینہ کے نام پر نہ جانے کہاں لے جایا جائے گا، سو اکھڑتی سانس اور 105 بخار کے باوجود ایک باپ اپنی بیٹیوں پر قربان ہو گیا ۔ جان بچانے کی آخری لمحات میں کوشش کی تب بھی ایک ڈاکٹر کو ہی اپنے اسپتال میں بیڈ نہ مل سکا۔۔۔ واہ!

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال ای این ٹی اسپیشلسٹ وینٹیلیٹر پر وکٹری کا سائن بنا کر رخصت ہوئے۔

ڈاکٹر طاہر اعجاز عالمانی عمر 28 سال، تین بہنوں کا اکلوتا بھائی، بوڑھے والدین کے خوابوں کی تعبیر، اینیستھیٹسٹ لیاقت اسپتال آئی سی یو جامشورو سے کووڈ کا خوف اور تحفہ لے کر رخصت ہوئے، لیکن انہیں نہ حفاظتی کٹ ملی نہ ڈیوٹی سے رخصت۔۔۔ سو موت میں پناہ لے لی۔

ڈاکٹر عالمانی اور ڈاکٹر اسامہ تو یہی کورونا ڈیوٹی کر رہے تھے۔ باقی ڈاکٹرز دوسرے مریض دیکھ رہے تھے جو بنا علامات کے کورونا کیرئیرز تھے۔ ان سے یہ ڈاکٹرز بھی انفیکٹ ہوئے اور رخصت ہوئے۔۔۔ سرکاری اسپتال عام مریض اٹینڈ نہیں کررہے۔

کے پی کے لیڈی ریڈنگ اسپتال کے گائنی یونٹ میں 68 میں سے29 لیڈی ڈاکٹرز کورونا پازیٹیو آ گئیں۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال گائنی کا شعبہ دو ہفتے کے لیے بند ہے۔ بتائیے کہ ان دو ہفتوں میں ڈیلیوریز، ڈی این سی اور آپریشن کے مریض کون دیکھے گا؟ ظاہر ہے پرائیویٹ ڈاکٹرز۔ تو کیا وہ خطرے سے دوچار نہیں ہوں گے؟ کیا وہ کورونا کے دنوں میں اپنی خدمات پیش کرنے کے قصوروار ہوں گے؟

اصل بات یہ ہے کہ عوام ابھی تک بنیادی حفاظتی اقدامات کو سنجیدگی سے فالو نہیں کررہے اس سے جو ڈاکٹر اب بھی حوصلے کے ساتھ کام کیے جارہے ہیں وہ بھی کام بند کرنے کا سوچنے لگے ہیں ۔ ورنہ ان کی خدمات کا صلہ صرف یہ جملہ ہو گا کہ
"کیا وہ کورونا وارڈ میں ڈیوٹی کر رہے تھے؟"

اللہ کے بندو۔۔ اللہ سے ڈرو۔۔۔ ڈاکٹر مسیحا ہیں بالکل ہیں لیکن انسان بھی ہیں۔ خوفزدہ بھی ہوتے ہیں بلکہ عام انسان سے زیادہ خوف کا سامنا کرتے ہیں کہ بیماری سے بھی واقف ہیں۔۔۔ ناکافی علاج سے بھی اور اس کے نتیجے سے بھی۔ بیمار بھی ہوتے ہیں، دوا بھی کھاتے ہیں، علاج کی ضرورت انہیں بھی ہے۔

یہ کیسی جنگ ہے جس میں سپاہی کو زخمی ہونے کی صورت میں علاج میسر نہیں؟ جنگ میں جب تک سپاہی کو یقین نہ ہو کہ اگر ہٹ ہوگیا تو علاج مل جائے گا۔ کام آ گیا تو بال بچہ بھوکا نہیں مرے گا۔۔۔ یا تو اپنے سپاہی کو خوفزدہ نہ ہونے دو یا پھر خوفزدہ سپاہی مورچے چھوڑ کر بھاگ اٹھا تو جنگ تو بنا لڑے ہی ہار جاؤ گے۔ ڈرو اس دن سے جب دشمن گھر تک آن پہنچے گا اور فوجی میدان چھوڑ کر بھاگ چکا ہوگا۔

اسپتال انتظامیہ اپنے اپنے اسپتالوں میں عوام کے لیے کورونا آئی سی یو وارڈز ضرور بنائے اور ساتھ ساتھ اپنے انہی اسپتالوں میں "میڈیکل اسٹاف کورونا آئی سی یوز" بھی تشکیل دے تا کہ کرونا مجاہدین بنا کسی خوف کے اپنی ڈیوٹی دے سکیں۔ اور ہٹ ہونے کی صورت میں ایمبولینس میں سسک سسک کر یا خود کو خود ہی موت کا ٹیکہ لگا کر رخصت نہ لینا پڑے۔

اللہ کریم تمام مجاہدین کو اپنی امان میں رکھے۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */