"راجا داہر: قوم کا نجات دہندہ اور ایک جری شخص" - عبدالخالق بٹ

گزشتہ سے پیوستہ روز ٹویٹر پینل پر دو ٹرینڈز رہے. ایک، محمد بن قاسم کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوا. جبکہ دوسرے میں‌راجا داہر کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جارہا تھا. یہ غالبآ پاکستان کی تاریخ ‌میں ‌پہلی بار ہوا کہ راجا داہر کے حق میں‌اس طرح‌کھل کر بڑی تعداد میدان میں‌آئی ہو. بہت سے عام لوگوں ‌کے ذہنوں ‌میں‌ بھی یہ سوال اُٹھا کہ کیا واقعی راجا داہر ایک ایسا جری اور بہادر شخص تھا جس نے اپنی دھرتی کے لیے جان قربان کردی؟ جس نے "بیرونی حملہ آوروں" کا پامردی سے مقابلہ کیا اور ہتھیار نہ ڈال کر "شہادت" کے مرتبے پر فائز ہوا؟ زیر نظر مضمون کچھ ایسے ہی سوالات کے تسلی بخش جوابات پر مشتمل ہے. مضمون پڑھ کر بہت سے سوالوں‌کا جواب ملنا آسان ہوگا. (ایڈیٹر، دلیل)

عرب کے بادیہ نشینوں کے ہاتھوں کسریٰ کی عظیم الشان سلطنت کا خاتمہ اسلامی تاریخ کا ہی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا بھی غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس ضمن میں عہدِ فاروقیؓ میں ایران سے ہونے والی جنگوں میں ’نہاوند‘ کے معرکے کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ جنگ نہاوند ایران میں ساسانی اقتدار کو بچانے کی آخری کوشش تھی۔ قبلِ ازیں پے درپے شکستوں نے شاہ ایران کو بوکھلادیا تھا، لہٰذا اُس نے مشرق میں اپنی باجگزار ریاستوں (جو مکران وسندھ سے لیکر سراندیپ تک پھیلی ہوئی تھیں) سے فوجی امداد طلب کی اور اس کے لیے سندھ، خراسان اور حلوان کے حکمرانوں کو باقاعدہ خطوط ارسال کیے۔ کسریٰ ایران کے ان خطوط کا جواب سندھ کی جانب سے فوجی امداد کی صورت میں دیا گیا، چنانچہ سن21ھ میں برپا ہونے والی جنگِ نہاوند میں سندھ کے راجے اور اُن کی سپاہ بھی شامل تھی۔

مورخین کی تصریح کے مطابق سندھ کی اس فوج میں زُط (جاٹ/جٹ/جت)، میداور سیابجہ اقوام کے جنگجو شامل تھے۔ جنگِ نہاوند کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں رہا اور اس جنگ میں سندھ و مکران کی شرکت نے مسلمانوں کو ان علاقوں کی جانب متوجہ کردیا۔ خیال ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ جب سندھ کے راجے مسلمانوں کے مقابلے میں ایران کے معاون و مددگار بنے، چنانچہ حاکم بحرین و عمان حضرت عثمان بن ابی العاصی ثقفیؓ نے اپنے بھائیوں حضرت مغیرہ بن ابی العاصی ثقفی ؓ اور حکم بن ابی العاصی ثقفیؓ کی سرکردگی میں براہ سمندر ایک چھاپہ مار مہم روانہ کی، جو دیول/دیبل (کراچی/ٹھٹھہ)، تھانہ (ممبئی) اور بھڑوچ (گجرات) کے سواحل پر کامیاب حملوں کے بعد واپس لوٹی۔

سندھ سے عربوں کا یہ واسطہ کوئی نیا نہیں تھا۔ عرب قبل از اسلا م بھی سندھ سے واقف تھے اور اسے ہند سے الگ ایک علیحدہ خطے کے طور پر جانتے تھے تاہم سندھ سے عربوں کی یہ واقفیت محاربانہ نہیں بلکہ تاجرانہ تھی۔ سندھ میں تیار ہونے والا کپڑا عرب میں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا اور سندھ کی نسبت سے مسّند، مسّندیہ، سَنَد اور سند کہلاتا تھا۔ بہرکیف اب جب کہ سندھ کے راجا ایران کے مجوسیوں کے ساتھ تعاون پر آمادہ تھے، ایسے میں مسلمانوں کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس جانب متوجہ ہوں، اسی لیے مسلم سپاہ نے کرمان اور سجستان کی فتح کے بعد مکران کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔

عہدِ فاروقیؓ میں مکران کی پہلی فتح عمل میں آئی اور اس باب میں حیران کُن اور دلچسپ بات یہ کہ جب مسلم سپاہ مکران پر حملہ آور ہوئی تو اہل مکران کے دفاع کے لیے سندھ کا ”راجا راسل“ اپنی فوج کے ساتھ مسلمانوں کے مدمقابل آیا مگر وہ مسلمانوں کے تابڑ توڑ حملوں کی تاب نہ لاسکا لہٰذا اُس نے میدان جنگ سے فرارمیں عافیت جانی۔ جب حضرت عمرؓ کو اس فتح کا حال معلوم ہوا تو آپ نے بذریعہ خط امیرلشکر حکم بن عمرو اور سہیل بن عدی کو دریائے سندھ کے پار اُترنے سے روک دیا۔

حضرت عمرؓ کی شہادت کے ساتھ ہی اہلِ مکران نے سرکشی کی راہ اختیار کی مگر حضرت عثمانؓ کے بروقت اقدام نے اس بغاوت کو فرو کردیا۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد یہاں ایک بار پھر خروج و بغاوت نے سر اُٹھایا مگر اہلِ مکران کو اس بار بھی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ حضرت علیؓ کے نامزد کردہ سپہ سالارحارث بن مرہ عدی نے نا صرف اس فتنے پر قابو پالیا بلکہ مکران سے آگے بڑھ کر قیقان (گیگان/قلات کا قدیم نام) کے علاقے پر بھی قابض ہوگئے۔ اس طرح قیقان(قلات) پہلی مرتبہ اسلامی عملداری میں شامل ہوا۔

گو کہ خاص حدود ایران میں کسریٰ کا زور ٹوٹ چکا تھا تاہم مشرق میں سندھ کے علاقے ”قندابیل“ کو ایران کے فوجی مستقر کی حیثیت حاصل تھی (قندابیل آج کل صوبہ سندھ کے شمال میں قلات کے علاقہ میں واقع ہے اور ’گنڈاوہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے) اسی لیے حضرت عمرؓ نے اس جانب توجہ کی تاہم ناسازگار حالات نے انھیں اس پر حملے سے روکے رکھا۔

30ھ میں اسلامی افواج نے مزید پیش قدمی کرتے ہوئے سندھ کے شہر ’فہرج‘ پر قبضہ کرلیا۔ اس کامیابی کا سہرا ربیع بن زیاد کے سر رہا۔ مرکز سے دور ہونے کی وجہ سے مکران اور اُس کے ملحقہ علاقہ جات مکران، قیقان اور قندابیل میں 36ھ سے 38ھ کے دوران میں کئی مرتبہ بغاوتیں ہوئیں جنھیں ناکام بنادیا گیا۔ 41ھ میں جب کہ حضرت امیرمعاویہؓ کا دور حکومت تھا سندھ میں ایک اہم کامیابی شہر ’ارمائیل/ارمِئیل‘ کی فتح کی صورت میں ہوئی۔ سمندر سے نصف فرسخ کی دوری پر واقع یہ ایک بہت بڑا شہر تھا۔ آج کل اس شہر کو ’ارمن بیلہ‘کہتے ہیں۔ یہ علاقہ قلات میں ’لسبیلہ‘کا صدر مقام ہے اور کراچی سے ساٹھ میل دور شمال میں واقع ہے۔

53ھ میں والی سجستان عباد بن ابوسفیان نے سندھ سے متصل سوراشٹر ( واقع گجرات) پر کئی حملے کیے۔ 78ھ میں محمد بن حارث علافی اور اُس کے بھائی معاویہ بن حارث علافی نے اسلامی عملداری میں شامل مکران و سندھ کے علاقوں میں سرکشی اور بغاوت کا بازار گرم کردیا اور امیر سندھ سعید بن اسلم کلابی کو شہید کرکے مذکورہ علاقوں پر قابض ہوگئے۔

علافیوں کی اس سرکشی کے خلاف خلافتِ بنوامیہ کے مشرقی علاقوں کے گورنر حجاج بن یوسف نے 79ھ میں مجاعہ بن سِعر تمیمی کو مقررکیا، جنھوں نے علافیوں کے فتنے کا خاتمہ کردیا تاہم اس بغاوت کے سرخیل علافی برداران فرار ہوکر سندھ کے راجا داہر کی پناہ میں آگئے۔ علافیوں کے خلاف کامیاب کارروائی کے ایک سال بعد ہی مجاعہ بن سِعر تمیمی کا انتقال ہوگیا، جس پر حجاج بن یوسف نے 80ھ میں محمد بن ہارون بن ذراع نمیری کو مکران وسندھ کا والی مقررکیا اور انھیں خصوصی ہدایت کی کہ وہ مجاعہ کے ادھورے کا م کی تکمیل کے ساتھ ساتھ سعید بن اسلم کلابی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ محمد بن ہارون نے مکران وسندھ کی ولایت پر مقرر ہوتے ہی راجا داہر سے اسلامی مملکت کے باغی محمد بن حارث علافی اور معاویہ بن حارث علافی کی حوالگی کامطالبہ کیا، مگر راجا داہر نے کوئی مثبت جواب دینے کے بجائے باغیوں کی حوالگی سے صاف انکار کردیا۔

اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے راجا داہر کے عزائم کو بے نقاب کر دیا، اور یہ کہ سراندیپ (سری لنکا) کے راجا نے سراندیپ میں انتقال کرجانے والے عرب تجار کے ورثہ کو، جن میں بچے اور خواتین شامل تھیں ایک خصوصی جہاز میں عراق روانہ کیا، جہاز جب دیبل کی حدود میں پہنچا تو اسے دیبل کے ’مید‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے بحری قزاقوں نے لوٹ کر اُس پر سوار بچوں اور خواتین کو گرفتار کرلیا۔ جذبہ خیر سگالی پر مبنی یہ ایک بین الاقوامی سفارت تھی جس میں سندھ سے تعلق رکھنے والے قزاقوں نے رخنہ اندازی کی تھی۔

اس واقعہ نے اہل عراق میں غم وغصہ کی لہر دوڑادی، چنانچہ حجاج بن یوسف نے راجا داہر سے ان قزاقوں کے خلاف اقدام اوراسیران کی رہائی کا مطالبہ کیا لیکن اس بار بھی راجا داہر نے اپنی پُرانی روش کا مظاہرہ کیا اور یہ کہہ کر کہ ’بحری قزاق میرے بس میں نہیں ہیں‘ لیٹروں کے خلاف کارروائی سے صاف انکار کردیا۔ حجاج بن یوسف نے معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کے لیے راجا داہر کو پیش کش کی کہ اگر وہ چاہے تو ڈاکوؤں کے خلاف اس کی مدد کے لیے مسلمان فوج بھیجی جاسکتی ہے جو راجا داہر کی کمان ہی میں ڈاکوؤں سے لڑے گی، مگر اس پیش کش کو راجا نے کوئی اہمیت نہ دی اور لٹیروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے صاف انکار کردیا۔

راجا داہر کے عدم تعاون پر حجاج بن یوسف نے ڈاکوؤں کے خلاف ازخود کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے عبیداللہ بن النبہان کی سربراہی میں ایک مہم دیبل بھیجی، مگر یہ مہم ناکام رہی اور عبیداللہ بن النبہان اس جنگ میں شہید ہوگئے۔ اسی کے فوراً بعد بدیل بن طہفہ البجلی کی سرکردگی میں تین ہزار سپہ پر مشتمل لشکر سندھ پہنچا جس نے نیرون (حیدرآباد) پر حملوں کا آغاز کیا ہی تھا کہ راجا داہر نے اپنے بیٹے’جے سیہ‘ کی قیادت میں چار ہزارکا لشکر ڈاکوؤں کی مدد کے لیے بھیج دیا، جس کے نتیجے میں اسلامی فوج دوطرفہ حملوں کی زد میں آگئی اور بدیل بن طہفہ بے جگری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، اور یوں راجا داہر کی مداخلت سے یہ دوسری مہم بھی بے نتیجہ رہی۔

خلافتِ بنو امیہ دنیا کی سب سے بڑی حکومت تھی اسی لیے نیرون کے حکام کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ اسلامی حکومت اس واقعہ پر شدید ردعمل ظاہر کرے گی، اسی لیے نیرون کے حاکم ’سندر‘ نے راجا کے علم میں لائے بغیر حجاج کے یہاں اپنا ایک سفیر روانہ کیا اور بدیل بن طہفہ کے واقعہ پر معذرت اور امان طلب کی اور ساتھ ہی سالانہ خراج کی ادائی کا وعدہ بھی کیا۔ حجاج نے سندر کی معذرت اور پیش کش قبول کرتے ہوئے اسے پروانہ امن لکھ دیا۔

راجا داہر کی جانب سے باغیوں کی عدم حوالگی اور ڈاکوؤں کی پشت پناہی نے حجاج بن یوسف کو مضطرب کردیا چنانچہ اس نے خلیفة المسلمین عبدالملک بن مروان سے راجا داہر کے خلاف راست اقدام کی اجازت چاہی، مگر خلیفہ نے مصلحتاً اجازت دینے سے انکار کردیا، تاہم اس کے کچھ عرصہ بعد 86ھ میں ولید بن عبدالملک کے سر یر آراءخلافت ہونے پر حجاج بن یوسف نے سندھ کے راجا داہر کے خلاف کارروئی کی اجازت حاصل کرلی۔ مرکز سے اجازت ملتے ہی حجاج بن یوسف نے بڑے پیمانے پر جنگی تیاریاں شروع کردیں۔ راستے کی صعوبتوں کو پیش نظررکھتے ہوئے خشکی کے راستے حملہ آور ہونیوالی فوج کے لیے ضرورت کے ہر سامان، حتیٰ کہ سرکہ میں بھگو کر سائے میں خشک کی گئیں روٹیاں اور سوئی دھاگہ تک، کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔ دوسری جانب براستہ سمندر حملہ آور ہونے والے بیڑے کی تیاری کے لیے اپنے وقت کے ماہر جہاز رانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ پھر ان سب انتظامات کے ساتھ اس مہم کی سربراہی کے لیے بنو ثقیف کے ہونہار سپوت محمد بن قاسم کا انتخاب کیا گیا جو ان دنوں فارس کے کُردوں کے خلاف کامیاب کارروائی کے بعد ’رے‘ کی مہم پر روانہ ہونے کو تھا۔

محمد بن قاسم نے تیاریاں مکمل ہوتے ہی اپنے مستقر (شیراز) سے روانگی کا آغاز کیا۔ وہ مکران سے ہوتے ہوئے فنزپور (غالباً پنج گور) پہنچے اور اسے فتح کرنے کے بعد ’ارمائیل‘ کی جانب رُخ کیا جو ایک مرتبہ پھر سرکشی کی راہ پر تھا۔ ارمائیل کی مقرر فتح کے بعد محمد بن قاسم رمضان 93ھ بروز جمعہ دیبل پہنچ گئے، اورٹھیک اسی دوران اسلامی بحری بیڑہ بھی دیبل کی بندرگاہ میں داخل ہوگیا۔ محمد بن قاسم نے فوری کارروائی کے طور پر شہر پناہ کے گرد خندق کُھدوا کر اُس کے گردا گرد نیزے گاڑھ دئیے جن پر اسلامی پھریرا لہلہا رہا تھا، اور ہر نیزے کے نیچے ایک ایک سپاہی متعین تھا۔ اسلامی لشکر زبردست آلاتِ حرب وضرب سے لیس تھا۔ اس سامان میں’عروس‘ نامی ایکبہت بڑی منجنیق بھی تھی جسے پانچ سوافراد مل کر چلاتے تھے۔

دیبل کے محاصرے کے دوران محمد بن قاسم کو اطلاع ملی کہ اہلِ دیبل کے حوصلے شہر کے مرکزی مندر پر نصب جھنڈے کی وجہ سے قائم ہیں اگر کسی طور یہ جھنڈا سر نگوں ہوجائے تو اہلِ شہر کی ہمت خود ہی پست ہو جائے گی۔ یہ جھنڈا مندر پر نصب ایک لٹھ پر آویزاں تھا، جو اس قدر بڑا تھا کہ جب تیز ہوا چلتی تو یہ سارے شہر پر لہرانے لگتا تھا۔ اسی لیے یہاں کے شہریوں کا عقیدہ تھا کہ جب تک اُن پر یہ جھنڈا سایہ فگن رہے گا کوئی انھیں گزند نہیں پہنچاسکتا۔ جھنڈے کے متعلق اہل شہر کی ضعیف الاعتقادی کا علم ہوتے ہی محمد بن قاسم نے ’عروس‘ نامی منجنیق کو شہر کے مشرقی جانب نصب کرنے کا حکم دیا تاکہ یہاں سے جھنڈے کو بآسانی نشانہ بنایا جاسکے اور شہریوں کا جانی نقصان بھی کم سے کم ہو۔ منجنیق کے نصب ہوتے ہی جھنڈے پر سنگ باری شروع کردی گئی اور آن کی آن میں جھنڈا سرنگوں ہو گیا، جھنڈے کا گرنا تھا کہ اہلِ شہر مشتعل ہوکر حملہ آور ہوئے مگر انھیں مسلم سپاہ کے بھرپور جواب نے پلٹنے پر مجبور کردیا۔

محمد بن قاسم اور اُس کی افواج پر اہلِ دیبل کی کمزوری عیاں ہوچکی تھی لہٰذا انھوں نے پہلے سے بڑھ کر حملہ کیا اور سیڑھیوں کی مدد سے فصیل پر چڑھ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دیبل شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا، تاہم راجا داہر دیبل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ محمد بن قاسم نے برسر پیکار جنگجوؤں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور عام شہریوں کے لیے مکمل امان اور مذہبی آزادی کا اعلان کیا۔ اسی کے ساتھ ہی شہر میں مسجدکا قیام عمل میں آیا اور چار ہزار مسلمانوں کو یہاں بسایا گیا۔ یہ سارے امور تین دن میں انجام دینے کے بعد محمد بن قاسم نے نیرون (حیدرآباد) کا سفر اختیار کیا۔ نیرون میں حجاج بن یوسف کے پروانہ امن کی وجہ سے کسی قسم کا کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف نیرون کے حاکم ’سندر‘ نے شرائط کے ضمن میں مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔

محمد بن قاسم نیرون سے ’سیہان‘ روانہ ہوا، راستے میں آنے والے کئی چھوٹے شہروں نے صلح وامان کی درخواست کی جو قبول کرلی گئی۔ ’سیہان‘ بھی کسی بڑی مزاحمت کے بغیر فتح ہوگیا۔ محمد بن قا سم نے ’سیہان‘ سے علاقہ ’کچھ /سوراشتر‘ کا رُخ کیا جو راجا راسل کی عملداری میں تھا اور جہاں دیبل کا مفرور راجا داہر پناہ گزیں تھا، یہاں راجا داہر نے ایک ہولناک جنگ کا سامان مہیا کررکھا تھا۔ اس کی فوج میں 27منتخب جنگی ہاتھی تھے۔ سندھ کے راجوں مہاراجوں کے یہاں جنگی ہاتھیوں کے میدان جنگ میں اُترنے کی صورت یہ ہوتی تھی کہ جو ہاتھی زیادہ بہادر ہوتا تھا اس کی سونڈ میں کٹار باندھ دی جاتی تھیاور پوری سونڈ زرہوں سے چھپادی جاتی تھی، نیز اس کے پورے جسم پر لوہے کی زرہیں اور میخیں ہوتی تھیں اور اس کے گرد پانچ سو پیدل سپاہیوں کی فوج ہوتی تھی۔ اس حساب سے صرف ستائیس جنگی ہاتھیوں کے ہمراہ تیرہ چودہ ہزار سپاہی موجود تھے۔ سوار اور پیدل فوج اس کے علاوہ تھی۔ ’کچھ /سوراشتر‘ میں دونوں افواج کئی ماہ تک ایک دوسرے کے مقابل خیمہ زن رہیں۔ بالآخر جب معرکہ بپا ہوا تو یہ فتح سندھ کا سب سے ہولناک معرکہ ثابت ہوا۔ راجا داہر ہاتھی پر سوار فوج کی قیادت کررہا تھا۔ اُس کے ہمراہ ٹھاکروں کی فوج تھی۔ اثنائے جنگ راجا کا ہاتھی مہابت سے بے قابو ہوگیا، نتیجتاً راجا کو ہاتھی سے کودنا پڑا، جس پر قبیلہ بنو طے کے قاسم بن ثعلبہ بن عبداللہ بن حصن طائی نے راجا داہر کا کام تمام کردیا۔

راجا کے مارے جانے پر اُس کی فوج میں ابتری پھیل گئی اور وہ ’ارور‘ اور ’برہمن آباد‘ کی سمت فرار ہوگئی۔ کچھ (سوراشٹر) کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے ’ارور‘کا رُخ کیا جسے ’الور اور اروڑ‘ بھی کہتے ہیں، اور جو رائے خاندان کے راجوں کا پایہ تخت تھا۔ یہاں کسی سخت معرکے کے بغیر کامیابی حاصل ہوئی۔ محمد بن قاسم نے دیگر مفتوح شہروں کی طرح یہاں بھی انتظامی امور انجام دیے۔ یہاں سے فارغ ہونے پر مسلم سپاہ نے ’برہمن آباد‘ پر یلغار کی جہاں راجا داہر کی فوج کا بقیہ حصہ چھپا بیٹھا تھا۔ ’برہمن آباد‘ کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے بنا لڑے مصالحت کی بنیاد پر ’ساوندری، بسمد، الرور اور بغرور‘ کے شہروں پر فتح پائی۔

94ھ میں محمد بن قاسم کی فوج کامقابلہ راجا داہر کے بیٹے ’راجاچچ‘ سے ہوا، جس میں راجا کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ 95ھ میں محمد بن قاسم نے ملتان کا قصد کیا جہاں ایک سخت محاصرے کے بعد حاکم ملتان نے شہر کے دروازے کھول دیے۔ ملتان کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے ایک بار پھر جنوب کا رُخ کیا، جہاں ’الرور اور بغرور‘ میں مسلم فوجوں نے کچھ دن آرام کے بعد سوراشٹر کے مشہور شہر بیلمان (بھیلمان) کا سفر اختیار کیا۔ محمد بن قاسم کو یہاں بھی کسی مزاحمت کے بغیر فتح حاصل ہوئی اور اہل شہر نے اسلامی افواج کی بالادستی قبول کرلی۔ محمد بن قاسم بیلمان (بھیلمان) کے بعد ’کیرج‘ پہنچے جہاں اُس کا مقابلہ ’راجا دوہر‘ سے ہوا۔ اسلامی افواج اس معرکے میں بھی فتحیاب ہوئیں اور ’کیرج‘ بھی اسلامی عملداری میں آگیا۔
محمد بن قاسم کی مسلسل کامیابیوں نے فتح

سندھ کا باب مکمل کردیا اور یوں اس خطے کو سرزمین ہند میں ’باب الاسلام‘ یعنی ’اسلام کا دورازہ ‘ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ محمد بن قاسم نے مفتوح علاقوں میں بہترین حسنِ سلوک اور زبردست انتظامی قابلیت کا مظاہرہ کیا، جو اُس کی ہر دلعزیزی کا باعث بنا۔

اب سندھ ایک وسیع وعریض اسلامی مملکت کا حصہ تھا، چنانچہ یہاں بھی علم و حکمت اور صنعت وحرفت کو خوب فروغ حاصل ہوا اور یہاں کے باشندوں نے عرب پہنچ کر مختلف علوم و فنون میں خوب نام پیدا کیا۔ ذیل میں ایسے ہی چند افراد کا تذکرہ پیش ہیں:

ابو معشر سندھی: ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن دوسری صدی ہجری میں حدیث کے مشہور راویوں میں سے ہیں، اپنے وطن سندھ کے انتساب سے ’سندی‘ اور جائے قیام کی نسبت سے ’مدنی ‘ کہے گئے۔ ابنِ ندیم کے مطابق ’وہ تاریخ و سیر کے عارف اور محدثین میں سے ایک تھے۔ اُن کی کچھ کتابیں ہیں جن میں سے ایک کتاب ’المغازی‘ ہے‘۔

ابوعبدالملک بن معشر سندھی: ابوعبدالملک، ابو معشر سندھی کے لائق صاحبزادے اور اپنے عہد کے ممتاز اہلِ علم میں تھے۔ خلیفہ مہدی انہیں مدینہ منورہ سے بغداد لے آیا تھا۔
امام اوزاعیؒ: شیخ الاسلام عبدالرحمٰن بن عمرو امام اوزاعیؒنسلاً سندھی تھے، آپ اُن آئمہ اسلام میں سے ہیں جو فقہ کے ایک مذہب کے بانی بنے اور شام اور اُندلس میں عرصہ دراز تک اُن کے پیروکاروں کی کثیر تعداد موجود رہی۔ تاریخِ فقہ اسلامی میں یہ مذہب آج تک معروف ہے۔

حافظ ابو محمد خلف بن سالم سندھی: ابو محمد خلف بن سالم سندھی مشہور حفاظ حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔آپ سادہ منش اور مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے۔

ابوالعباس فضل بن سکین بن سحیت سندھی: ابو العباس فضل بن سکین بن سحیت سندھی کا شمار بھی معروف راویانِ حدیث میں ہوتا ہے۔

ابو نصر فتح بن عبداللہ سندھی: ابو نصر فتح بن عبداللہ سندھی آل حکم کے موالی میں تھے، جنھوں نے انہیں آزاد کردیا تھا۔ آپ نے علوم فقہ وکلام میں بڑانام پیدا کیا۔

ابو العطاءسندھی: ابو العطاء کا نام عربی ادب میں محتاجِ تعارف نہیں، آپ نے عربی ادب میں ایسا کمال پیدا کیا کہ قادرالکلام عرب شعرا میں جگہ پائی۔

امام داؤد: امام داؤد کا شمار مشہور ترین محدثین میں ہوتا ہے۔ آپ کی مرتب کردہ ’سنن ابو داؤد‘ صحاح ستہ میں شامل ہے۔ آپ کا تعلق پاکستان کے موجودہ علاقہ خضدار یا قلات سے بیان کیا جاتا ہے۔

سچی بات تو یہ ہےکہ سندھ کی فتح نے سندھ اور اہل سندھ کی قسمت بدل کر رکھ دی۔ سندھ اکثریت بدھ مت کے پیروکاروں کی تھی ۔یہ لوگ ظالم ہندو حکمرانوں کے رحم و کرم تھے۔ ایسے میں اسلام اور مسلمان اہل سندھ کے لیے بارانِ رحمت ثابت ہوئے۔ اسلام سے اہل سندھ کی محبت کا ایک ثبوت محراب دار منفرد ٹوپی ہے جس آج بھی اہل سندھ اپنا فخر سمجھتے ہیں۔

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com