کرونا وائرس، آگے کیا ہونے جارہا ہے؟ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

کرونا کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ ہر بیماری کی طرح اس کے تدارک کے بھی دو راستے ہیں، بچاؤ ۔۔۔جس کا قابل بھروسہ ذریعہ ویکسین ہے، اور دوسرا، علاج۔ یعنی کرونا کے لیے کوئی ایسی دوا دریافت ہو جائے جو اس وائرس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماری کو ٹھیک کر سکے۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ان دونوں حوالوں سے ابھی کوئی قابل عمل پیشرفت نہیں ہوسکی۔

تیسرا راستہ یہ ہے کہ اس کے مقامی آبادی میں پھیلاؤ کو روکنے کے لیے افراد کا باہمی رابطہ یعنی فزیکل کونٹیکٹ کم سے کم ہو۔ اسے لاک ڈاؤن کا نام دیا گیا، "سوشل ڈسٹنسنگ" کی اصطلاح بھی سامنے آئی۔ اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کی رفتار اس قدر سست ہو سکتی ہے کہ اچانک افراتفری کا ماحول پیدا نہ ہو۔ دوسرا یہ کہ متوقع مریض اس تعداد میں رہیں جنہیں موجود طبی انفراسٹرکچر کے اندر رہتے ہوئے سنبھالا جا سکے۔ البتہ اہم بات یہ ہے کہ اس عمل سے بیماری ختم نہیں ہوتی ۔۔۔ نہ ہی یہ دائمی حفاظت کا ضامن عمل ہے۔ جب بھی آپ گھر سے نکلیں گے اس بات کا قوی امکان موجود رہے گا کہ کورونا کے کسی خاموش کیرئیر سے یہ اپ کو منتقل ہو جائے اور وبا کا ایک نیا سائیکل شروع ہو جائے۔

ویکسین اور دوا کی عدم موجودگی میں اس طرح کی وبائی صورتحال سے مکمل نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے، اسے Herd Immunity کہا جاتا یے۔ یعنی آبادی کا ایک بڑا حصہ اس سے متاثر ہو اور ٹھیک ہو جائے۔ اس کے بعد بننے والی اینٹی باڈیز کی بدولت وہ آئندہ اس کا شکار نہیں ہوگا اور یوں یہ بیماری آئندہ اس آبادی میں کبھی وبائی صورت اختیار نہیں کر سکے گی۔ اس عمل کو برطانیہ نے سب سے پہلے اپنانے کا کہا لیکن بڑھتی شرح اموات کی وجہ سے انہیں اس عمل کو ترک کر کے لاک ڈاؤن میں جانا پڑا۔ صدر ٹرمپ نے بھی شروع میں کچھ ایسا ہی رویہ رکھا پھر وہاں بھی ایسا ہی ہؤا کہ شرح اموات بہت بڑھ گئیں اور لاک ڈاؤن کی جانب جانا پڑا۔ ابھی بھی صدر ٹرمپ بار بار معاشی سرگرمیوں کو کھولنے کی بات کر رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے ایسٹر کے موقع پر ایسا کرنے کو کہا تھا لیکن پھر تیس اپریل کی تاریخ دے دی۔ ادھر ہالینڈ اور سویڈن پہلے ہی کنٹرولڈ ہرڈ امیونٹی ماڈل اپنائے ہوئے ہیں۔ ایران اور جرمنی بھی معمول کی روزمرہ زندگی شروع کرنے کا اغاز کرچکے ہیں۔

اس منظر نامے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ نارمل زندگی کی جانب بڑھنے کے لیے کچھ رسک لینا ہو گا۔ ہرڈ امیونٹی کا رسک۔ جو ممالک اس جانب دیر سے بڑھے اس کی وجہ صرف ان کے ہاں اموات کا اونچا گراف ہے۔ رفتہ رفتہ یہ سب ممالک ہرڈ امیونٹی کی جانب ہی بڑھیں گے تا آنکہ اس کا کوئی علاج / ویکسین دریافت ہو جائے۔

پاکستان میں فروری سے لے کر اب تک کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں serious اور critical کیسز کی تعداد بہت کم رہی ہے۔ اگر ٹیسٹنگ کم بھی ہوئی ہے تو ہسپتالوں کی ایمرجینسیز میں ایسے لوگوں کی بھیڑ دیکھنے میں نہیں آئی جنہیں سانس کی شدید بیماری ہو اور نہ ہی اموات کی غیر معمولی تعداد سامنے آئی۔ سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز کے اس دور میں سرکاری طور ہر اعداد و شمار چھپانے کی کوشش تو ہوسکتی ہے لیکن ایسی کوشش کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

غالباً اسی ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے دانستہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی ہے تاکہ دیکھا جائے کہ شدید بیمار اور شرح اموات کے اعداد و شمار کیا رہتے ہیں۔ اگر یہ گراف موجودہ صورتحال کے لگ بھگ ہی رہتا ہے تو پھر پاکستان خود کو معاشی تعطل سے بھی نکال سکے گا اور امیونٹی کی فگرز بھی بہتر ہوجائیں گی۔ اور اگر مذکورہ اعداد و شمار میں تشویشناک اضافہ ہونے لگتا ہے تو پھر لاک ڈاؤن نہیں ہوگا۔۔۔ کرفیو ہی لگے گا۔ اور اس صورت میں یہ وبا بہت آہستہ آہستہ رخصت ہوگی ۔

وہ پاکستان ہو یا پھر چین یا کوریا جیسے ممالک جہاں بظاہر یہ وبا اب کنٹرول میں ہے ۔۔۔ سب اسی پل صراط پر کھڑے ہیں۔ وہ جب بھی خود کو مکمل اوپن کریں گے ایک نئے خطرے سے دوچار ہوں گے۔

دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالی ہمارے ہاں جاری شرح اموات کو اور بھی کم کر دیں تاکہ ہم معمول کی زندگی کی جانب لوٹ سکیں۔ اگر یہ تجربہ ناکام ہوگیا تو ممکنہ منظر نامہ نہایت تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ ہم چار یا چھ ماہ کا لاک ڈاؤن یا کرفیو افورڈ نہیں کرسکتے۔ یہ ہمیں معاشرتی، معاشی اور سیاسی لحاظ سے بہت بڑی آزمائش میں مبتلا کرسکتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com