ایک ڈاکٹر کا پیغام آپ سب کے نام... ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

السلام علیکم! میں ڈاکٹر رابعہ خرم درانی میڈیکل اسٹاف شہری انتظامیہ پولیس، ریسکیو ٹیمز، رضاکار تنظیموں اور عوام سے مخاطب ہوں۔

ہم سب نے اس محدود زندگی میں محدود علاقے کی وبائیں دیکھ رکھی تھیں۔ مثلا ملیریا، ڈینگی، ہیضہ، سیزنل فلو۔ لیکن وہ محدود وقت، محدود موسم اور محدود علاقے پر مشتمل ہوتی رہیں۔ ان سب کا شافی علاج اور بچاؤ بھی ممکن رہا۔ ڈینگی نے ہاف سلیوز کی عادت چھڑوا دی اور گندے پانی کے جوہڑ بھی خشک کیے جانے لگے۔ علاقے صاف رہنے لگے۔ مچھر کم سے کم ہوتے چلے گئے۔ ادویات کا چھڑکاؤ کارآمد رہا ۔ چند اچھی عادات کے اپنانے سے ہم سبھی ایک موذی و مہلک مرض کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔

لیکن اب ہم ایک "پینڈیمک PANDEMIC " سے لڑ رہے ہیں ۔ پین PAN یعنی پورا، مکمل، پوری دنیا کا احاطہ کرنے والا اور ڈیم DEMIC یعنی وبا۔ ایک ایسی وبا جو سرحدوں کو خاطر میں نہیں لاتی۔ جو انسان سے انسان، ملک سے ملک اور براعظم سے دوسرے براعظم تک دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی ہے۔

اسے ہم گروہوں میں بٹ کے ختم نہیں کرسکتے۔ ہم ہار جائیں گے۔ یہ وقت ایک گروہ بننے کا ہے۔ انسان بمقابلہ وبا بذریعہ دعا۔ ہر رنگ۔ نسل، مذہب ،لامذہب غرض ہر انسان اس سے یکساں متاثر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ وبا گورے کو زیادہ گندمی کو کم اور کالے کو بالکل نہ چھیڑے ایسا نہیں ہے ۔ کم از کم اس وبا کی ایک مثبت خوبی یہ ہے کہ یہ ہر انسان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتی ہے۔ کیا امیر کیا غریب ،کیا مرد کیا عورت۔ ہاں ننھے بچوں کے لیے یہ نرم گوشہ رکھتی ہے اور معمر افراد کے لیے ہے تو اتنی ہی سخت جتنی نوجوانوں کے لیے لیکن معمر افراد اس وبا کے لیے کمزور مدافعت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مرض بوڑھوں کے لیے شدید خطرہ ہے ۔

محترم احباب ہم سب اس بیماری سے مل جل کر ہی بچ سکتے ہیں۔ پہلے نمبر پر عوام اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائے۔ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کے، ماسک پہن کے، نقل و حرکت محدود کرکے، جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور سینیٹائزرز کا بہترین استعمال کرکے۔ اور بیمار پڑنے کی صورت میں ڈاکٹر کی ہدایت پر سیلف آئیسولیشن میں جاکے۔ تاکہ باقی فیملی ممبرز بھی محفوظ رہ سکیں۔ اللہ کریم سے دعا ہر لمحے جاری رہے۔

اسپتال اس جنگ میں آپ کے ایسے حفاظتی مورچے ہیں ۔ جہاں آپ جنگ میں زخمی یعنی بیمار ہونے کے بعد لائے جائیں گے۔ اسپتال آپ کی پہلی حفاظتی حد نہیں ۔ یہ آخری حد ہیں ۔ کرونا کے مریضوں کے لیے اسپتال کے دو ہی دروازے ہوتے ہیں۔ایک آپ کے دنیاوی گھر کی طرف کھلتا ہے اور دوسرا ابدی گھر کی طرف۔ یہاں تک نہ پہنچنے میں ہی ہم سب کی کامیابی ہے۔

محترم ساتھیو! مسیحاؤ، میڈیکل و پیرامیڈیکل اسٹاف، پولیس اور ریسکیو ٹیم رضاکار۔ ہم سب کرونا جہاد کے مجاہدین ہیں۔ جیت گئے تو غازی، مٹ گئے تو شہید۔ مہینہ بھی رمضان کا ہے۔ جانا تو طے ہے، اسی مہینے یا اسی جہاد میں کام آ گئے تو سودا برا نہیں۔ دیکھو جو ڈر گیا وہ تو مر ہی گیا۔ مرے ہوئے نے کیا جینا۔ تو ایسے جیو کہ جینے کا حق ادا ہو جائے اور جب رخصت ہوں تو ایسے کہ موت خود نازاں ہو کہ کس بہادر کو لیے جاتی ہے۔

ہاں مجاہدین پر جتنی احتیاط فرض ہے وہ سب کرنا لازم ہے حتی کہ دوران جہاد بوقت نماز بھی احتیاط سے غفلت کی اجازت نہیں۔ پس اس جذبے سے لڑو کہ سر پر کیپ نہیں کفن پہنا ہے ۔ اور رب سے ہر لمحے اس کا رحم و کرم مانگتے رہنا ہے۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل نعم المولا ونعم النصیر۔

گورنمنٹ، شہری و اسپتال انتظامیہ اور مقتدر حلقوں سے اپیل ہے کہ شہری و دیہی علاقوں میں صفائی و لاک ڈاون کے انتظامات بہتر بنائے جائیں ۔ نیز کرونا کے دنوں میں بھوک سے کوئی موت ہمارے نامہء اعمال میں درج نہ ہو۔ اسی طرح جہاد میں مصروف مجاہدین کے پاس تمام تر حفاظتی سامان و آلات حرب و ضرب کی رسد جاری رہے ۔

پولیس ہے یا ریسکیو ٹیم کے جوان، ڈاکٹر ہیں یا طبی عملہ سب عزت ،شفقت ،دعا اور تھپکی کے مستحق ہیں۔ ہماری مائیں بہنیں، باپ اور بھائی گھر میں ہر نماز میں ہمیں یاد رکھیں ۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں آپ بھی ہمارا ساتھ دیں۔

آپ سب کی بہن
ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com