پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہوجائے گی - شفا ہما

جب پوری کرۂ عرض بے بس ہوکر گھروں میں مقید ہوگئی ہے، جب تمام عالم خوف میں جکڑا، بیمار پنچھی کی طرح پنجرے میں نڈھال پڑا ہے. جب ساری دنیا سماوات و ارض کے مالک کے سامنے ہتھیار ڈال چکی ہے.. جب کائنات کا مالک اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ انسانوں کو ان کی اصل حقیقت سکھا رہا ہے. جب خود کو خدا سمجھنے والے حکمران اور شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بننے والے انسان بھی یہ تدارک کرنے پر مجبور ہیں کہ


کیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودا

فریبِ سود و زیاں، لا الہ الا اللہ

یہ مال و دولتِ دنیا، یہ رشتئہ پیوند

بتانِ وہم و گماں، لا الہ الا اللہ


ایسے میں اب بھی کچھ انسان ایسے ہیں جو سرکشی سے باز آنے کے لیے تیار نہیں ہورہے. اللہ کی طرف پلٹنے کی ساری راہیں ہموار ہونے کے باوجود نہیں پلٹ رہے. فتنۂ عظیم....! فتنۂ دجال کے یوں منتظر ہیں گویا کہ وہ معمولی بات ہے.. دنیا ختم ہوجانے اور قیامت برپا ہو جانے کی باتیں یوں کرتے ہیں گویا رب العالمین کے قہار ہونے کی کوئی اہمیت نہ ہو نعوذ باللہ. جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار نے مذاق اور استہزاء کی غرض سے قیامت کے متعلق سوال کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں انہیں ان کے سوال کی حقیقت یوں بتائی ہے کہ : "یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا. آسمانوں اور زمین پر وہ بڑا سخت وقت ہوگا. وہ تم پر اچانک آجائے گا. یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا تم اس کی کھوج میں لگے ہو کہو اس کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے مگر اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں"(7:187)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہا اپنی احادیث میں قیامت کی نشانیاں بتائی ہیں اور آخرت کی تیاری کرنے کی تلقین کی ہے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نشانیاں بہت حد تک پوری ہوچکی ہیں. آج ریاض میں بڑی بڑی عمارتیں بنائی جارہی ہیں، عرب کے سب سے زیادہ تیل خریدنے والے ملک امریکہ نے صدام حسین کو ختم کرکے تیل کی دولت سے سیراب ملک عراق کے کنوؤں پر قبضہ کرلیا ہے، عرب ممالک میں خانہ جنگی کے باعث ان کا سنہرا دور خاتمہ کے قریب ہے. سعودی عرب اور امارات میں بارشیں ہوچکی ہیں. مکہ اور جدہ میں سیلاب آچکے ہیں. عرب سرزمین سرسبز ہوتی جارہی ہے. سعودیہ گندم میں خود کفیل ہو چکا ہے. شام میں 5 سالہ بدترین خونریزی کی وجہ سے وہ 90 فیصد برباد ہوچکا ہے. آٹھ لاکھ بے گناہ بچے، بوڑھے، عورتیں شہید اور لاتعداد لوگ سرحدوں پر زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے شہید ہورہے ہیں. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث میں واضح بتائی گئی نشانیاں تیزی سے پوری ہو رہی ہیں. دنیا میں مسلمانوں پر مظالم بڑھتے جارہے ہیں. ٹیکنالوجی کے فتنہ نے ہمیں چہار جانب سے جکڑ رکھا ہے. عالمِ اسلام کو سودی نظام نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے. معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے. سرمایہ دارانہ نظام نے بچہ بچہ کو قرض دار بنا دیا ہے. بقول اقبال :


مشرق کے خداوند سفیرانِ فرنگی

مغرب کے خداوند درخشندہ فلزات

ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا

سود ایک کا لاکھوں کے مرگِ مفاجات

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت

احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات


ہم فتنہ کے دور میں سانس لے رہے ہیں. قیامت کے بارے میں روشن دلائل ہونے کے باوجود ہنسی مذاق میں وقت ضائع کر دینا عقلمندی کی نشانی نہیں ہے. ہر عقل اور فطرت کا استعمال کرنے والا انسان اس وقت آسمانوں اور زمین کے مالک کی جانب پلٹ رہا ہے. دنیا اپنے خاتمہ کی جانب بڑھ رہی ہے. بخدا یہ سنبھل جانے کا وقت ہے. اس وقت بھی خدا کا انکار اور قیامت کا مذاق اڑانا خود کو طوفان کے سپرد کر دینے والی بات ہے.


تیری نگاہ میں ثابت نہیں خدا کا وجود

میری نگاہ میں ثابت نہیں وجود ترا

وجود کیا ہے، فقط جوہرِ خودی کی نمود

کر اپنی فکر کہ جوہر ہے بے نمود ترا


آنے والا دور انسانیت کے لیے مزید فتنے اور آزمائشیں لے کر آئے گا جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ "میری امت پر ایک دور ایسا آئے گا جس میں فتنے اتنی تیزی سے آئیں گے جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے تسبیح کے دانے زمین کی طرف گرنے لگتے ہیں" موجودہ دور میں انسانیت کے لیے نجات کا واحد ذریعہ رجوع الی اللہ ہے. اپنے ایمان اور تربیت کی فکر کریں. ٹیکنالوجی کو استعمال کریں، خود کو ایسا نہ بنا لیں کہ ٹیکنالوجی آپ کو استعمال کرنے لگے. دنیا کے پیچھے مت جائیں کہ دنیا جلتی ہوئی موم بتی کی طرح پگھل رہی ہے. اسلام آزمائشوں سے مقابلہ کی راہیں سکھاتا ہے. آج کوئی پناہ نہیں ہے ماسوائے دامنِ اسلام اور رحمتِ الٰہی کے… اسلام کے دامنِ رحمت میں پناہ لے لیں. اپنے ایمان کو بلند و بالا پہاڑوں کی مانند مضبوط کرلیں تاکہ آزمائشوں کی سرکش موجیں آپ کو توڑ نہ سکیں . رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے. امید اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں. ہمیشہ یاد رکھیں کہ

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی ....... جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی . دوسری طرف احادیث سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ فتنوں کے دور کے بعد مسلمانوں کے عروج کا دور بھی آئے گا اور یہ عروج ازخود نہیں آئے گا بلکہ اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والوں کی جدوجہد، محنت و مشقت، ایثار و قربانی، صبر و استقلال اور سرفروشی و جاںفشانی سے ہوگا. پس صالح صحبت اختیار کریں کہ اندھیری رات میں امید کا چاند اب بھی روشن ہے. توبہ کے دروازے کھلے ہیں… اوراور رحمتِ خداوندی منتظر ہے کہ پلٹنے والوں کو بڑھ کر تھام لے.. اللہ کے رحم کا بے پایاں سمندر انسانوں کی توبہ کا منتظر ہے کہ قدم بڑھانے والوں کی جانب تو کائنات کا رب دوڑ کر آیا کرتا ہے…!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com