ارطغرل، فلم ڈرامے، ہالی وڈ اور پروپیگنڈے کی جنگ - فیض اللہ خان

ایونجرز ہالی وڈ کی سیریز ٹائپ فلمیں ہیں مارول پروڈکشن کئی برس سے سپر ہیروز کے کرداروں کے گرد گھومتی فلمیں بناتے ہیں ایونجرز کا ہر سپر ہیرو کوئی نا کوئی طاقت رکھتا ہے چند کرداروں کی بابت بات کرکے اصل موضوع کی طرف چلیں گے ۔۔۔
کیپٹن امریکہ (اسٹیو راجرز)

اسٹیو راجرز نامی کردار ایونجرز کے سپر ہیروز کا ٹیم کیپٹن جیسا ہوتا ہے اسکی فلمی کہانی کے مطابق پہلی یا دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج میں جانے کے ایک خواہشمند مگر کمزور جسامت والے نوجوان پہ اسکی مرضی سے لیب میں تجربہ ہوتا ہے اور اسکی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اسکے ساتھ اسے امریکی پرچم سے مزین ایک ڈھال دی جاتی ہے جس سے وہ جرمنوں کا قلع قمع کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ایسے ہی ایک مشن میں جرمن فوجی اڈہ تباہ کرتے ہوئے اسے اپنا جہاز بھی گرانا پڑتا ہے اور وہ برف میں کئی برس پڑے رھنے کے بعد امریکیوں کو ملتا ہے اور پھر حالیہ دور میں اسے ادویات دیکر جگایا یا زندہ کیا جاتا ہے ۔۔۔ یوں کیپٹن امریکه کے نام سے معروف یه کردار دوباره سے متحرک هوجاتا هے۔

تھوریہ زمین سے بہت دور ایک سیارے کا شہزادہ ہے سیارے کے لوگ ٹیکنالوجی میں انسانو سے بهت آگے هیں انکا سیاره بهت خوبصورت هے تھور کے پاس ایک ایسا طاقتور ہتھوڑا ہے جسے صرف یہی اٹھا سکتا ہے اور یہ کڑکتی بجلی کا دیوتا اور انسانو کا دوست ہے خلائی حملوں کے خلاف انسانو کی مدد کرتا ہے اور ایونجرز کیساتھ ملکر لڑتا ہے۔ان کرداروں کے مختصر تعارف سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں ، ایونجرز کے مطابق انکی مہارتوں میں ٹیکنالوجی خلاء و زمین سے ملنے والی طاقتوں کا بھرپور عمل دخل ہے ۔
ان دو کے علاوه بھی کئی کردار هیں جو اس ٹیم کا حصه هیں هر ایک په لکھنے بیٹھیں تو رمضان اسی میں نکل جائے گا۔یاد رہے کہ امریکہ میں سپر ہیروز سے متعلق لوگو میں بہت دلچسپی پائی جاتی ہے( یه الگ بات هے که دنیا کو بڑی طاقتوں سے بچانے والے ننھے سے جرثومے کے آگے عاجز هیں) غالباً سپر مین اس سلسلے کی پہلی کڑی تھی یا ماضی کی کامیاب ترین فلمی شخصیت ، اسی طرح سمندروں کا دیوتا اکوا مین بھی سپر مین وغیرہ کا ساتھی ہے لیکن یہ ایونجرز سے الگ سیریز کے کردار ہیں ایسے هی ایکس مین والے بھی هیں بچوں میں سپر ہیروز سے خاص محبت پائی جاتی ہے انکے کھلونے بنتے ہیں کاسٹیوم خریدے جاتے ہیں انکے تصاویر والی شرٹس بیگز گھڑیاں وغیرہ بچے نوجوان بیک وقت پسند کرتے ہیں غرض اسکرین سے دوکان تک کاروبار و کلچر کا پورا کھیل هے امریکہ یورپ تو ایک طرف خود ہمارے یہاں بچے ان کرداروں سے بہت متاثر ہیں ( ایسے میں ارطغرل جیسے کردار بھلے سے اضافی افسانوی ہی کیوں نہ ہوں یوں بہتر ہیں ارطغرل میں پیش کئیے گئے کرداروں کی کچھ نہ کچھ حقیقت ہے اسلامی واقعات سنائے جاتے هیں اور پھر وہ زمین سے جڑے نظر آتے ہیں ) ۔

ایونجرز کے سارے کردار زیادہ تر خلائی یا انسانو کی ٹیکنالوجی سے لڑتے ہیں جو زمین کے لئیے خطرناک ہوتے ہیں انکا ایک جہاز ہے جو بے مثال ٹیکنالوجی سے لیس آسمان میں رھتا ہے شیلڈ جو کہ بنیادی طور پہ سپر ہیروز کی لیب کا نام تھا اب اس عظیم الجثہ جہاز کو کہتے ہیں جو کئی کئی سال خلا میں رھتا ہے اور کسی حملے کی صورت میں فضاء ہی میں مرمت بھی کروالیتا ہے اب ایک اور کردار کی بابت سنئیے جس کے لئیے یہ ساری تمہید تھی وہ ہے ٹونی اسٹارک ۔۔۔۔ ٹونی ایونجرز کا سب سے اہم کردار ہے جسے آئرن مین کے نام سے پہچانا جاتا ہے ٹونی اسٹارک مکمل طور پہ امریکی سرمایہ دارانہ نظام انکی تہذیب اور کلچر کی نمائندگی کرتا ہے جیسا کہ وہ کھربوں ڈالرز کا مالک ہے اسکا گھر نہایت شاندار اور وہ ٹیکنالوجی کی دنیا کا گویا بےتاج بادشاه هے ٹونی عیاش شراب و شباب کا رسیا عورتوں سے آزادانہ میل جول کا شائق جدید اور مہنگی گاڑیاں و گھڑیاں رکھنے کا دلدادہ ایسا کردار ہے جو اربوں روپے ذھین بچوں کی اسکالرشپ پہ لگاتا ہے اور امریکہ کے لئیے قابل ذھن تیار کرتا ہے ٹونی کا کمال جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اسکا لوہے کا وہ لباس ہے جسے پہن کر وہ خلاء تک سفر کرسکتا ہے اس دوران اسکے کمپیوٹرز اسے دنیا سے جوڑے رکھتے ہیں وہ فون کالز سن سکتا ہے اسے نقشے علاقوں کی معلومات موسم کا حال غرض ہر چیز کی نہ صرف معلومات ملتی رھتی ہیں بلکہ اسکے لباس میں سٹیلائیٹ سے منسلک جدید مہلک ہتھیار بھی ہوتے ہیں جنہیں وہ بوقت ضرورت استعمال کرتا ہے ۔

ٹونی اسٹارک آئرن مین کیسے بنا ؟ یہ بڑی دلچسپ کہانی ہے 2008 میں آئرن مین کا کردار پہلی بار ٹونی اسٹارک کی شکل میں سامنے آتا ہے ٹونی چونکہ اسلحے کے کاروبار سے بھی منسلک ہے تو 2008 میں افغانستان کے سفر پہ جاتا ہے جہاں امریکی فوجی قافلے پہ القاعدہ و طالبان حملہ کرتے ہیں نتیجتاً ٹونی پکڑا جاتا ہے ( ٹونی کے آنے کی خبر اسکا کاروباری دوست القاعدہ کو دیتا ہے یہ بھی ویسے لطیفہ ہے ) عرب و افغان جنگجو اسے بری حالت میں ایک غار میں رکھتے ہیں اسکا علاج ہوتا ہے اسکی ویڈیو بنائی جاتی ہے جیسا کہ عمومآ مغویوں کی سامنے آتی ہے البتہ ہمیشہ کی طرح افغان و عربوں کو وحشی دکھایا گیا ہوتا ہے ، ٹونی سے انکا مطالبہ مخصوص قسم کے میزائل ٹکنالوجی کی فراهمی کا ہوتا ہے جسے بنانے کے لئیے اسے غار میں ایک اور ڈاکٹر کیساتھ بند کردیا جاتا ہے ٹونی وہاں اپنی ذھانت کے بل بوتے په لوھے کا ایسا لباس تیار کرتا ہے جو ایک ہی وار میں القاعدہ و طالبان کے اس مرکز کو تباہ و برباد کردیتا ہے اور وہاں سے نکل آتا ہے یعنی ٹونی اسٹارک کے آئرن مین بننے کا سفر افغانستان میں القاعدہ و طالبان کو شکست دینے سے شروع ہوتا ہے
اسکے اگلے دس سال میں اس میں جدت و مہارت بڑھتی ہی رھتی ہے۔

یقینی طور پہ جب آئرن مین کے کردار کو سوچا گیا تو افغانستان پہ امریکی حملے کو کچھ هی برس گزرے تھے اور اپنے تئیں وہ جنگ جیت بھی گئے ، 2008 میں فلم کے ریلیز ہونے کا مطلب ہے کہ بنیادی خیال شوٹ وغیرہ 2005/6 سے شروع ہوگئی ہوگی مطلب امریکہ اپنے شہریوں کو بہت پہلے جنگ جیتنے کی نوید دے چکا تھا پیش نظر رہے کہ امریکیوں کی اکثریت ہماری طرح نیوز چینلز میں نہیں گھسے رھتے وہ خبریں زیادہ تر موسم کا حال جاننے کے لئیے دیکھتے یا اپنے لوکل ایف ایم چینلز تک محدود رھتے ہیں یہ وائس آف امریکہ یا سی این این جیسے ادارے ہم جیسے دوسری تیسری دنیا کی ذھن سازی واسطے ہیں تو ایسے میں اپنے عوام (اور هم تک بھی )تک پروپیگنڈا وہ ہالی ووڈ کے زریعے ہی کرتے ہیں کمال البتہ انکا یہ ہے کہ متعدد ایسی فلمیں بھی بنتی رھتی ہیں جو امریکہ یا سی آئی اے کو بہت ذلیل کرتی ہیں (جیسا که بورن سیریز)سی آئی اے کو قانون سے ماورا ایسا دھشت گرد گروہ بناکر بھی پیش کیا جاتا ہے جو بیگناہوں کو قتل کرتا ہے لیکن ایسے فلموں کی وجہ سے ہالی سے بہت ساری پروپیگنڈا فلمیں بھی اپنا کام کر جاتی ہیںاب آئرن مین ہی کو دیکھ لیں کہ خلاء سے لیکر طالبان تک ہر جگہ اس نے فتح کے جھنڈے گاڑھے ہیں اگر کہانی اتنی سادہ ہے تو مذاکرات کیوں ؟ ممکن ہے اگلے کچھ برس میں اس پہ بھی فلم آجائے ۔

فلمیں پروپیگنڈے کا مؤثر ٹول ہیں انہیں اچھے مقاصد کیساتھ استعمال کرنا ضروری ہے لازمی نہیں کہ آپکی فلم میں رومانس ہو اخلاق باخته مناظر اور ذو معنی جملے ہوں دنیا کو اچھے انداز سے حقائق بتاکر بھی فلمیں بنائی جاسکتی ہے ارطغرل پہ تنقید بھی بہت ہوتی ہے تعریف بھی ، بلاشبہ کئی مناظر غیر ضروری طوالت کا شکار ہیں بسا اوقات ایک دن کی بات کو تین اقساط تک کھینچ دیا جاتا ہے رومانوی گفتگو پہ بھی بہت اعتراض کیا جاتا ہے بلکہ بہت سے تو سرے سے اس کردار سے جڑی ایسی کسی کہانی کو ہی رد کرتے ہیں میرا خیال ہے کہ بہت سارے اعتراضات جائز ہونگے اسکی حمایت یا مخالفت میں شدت کے بجائے بنیادی پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے میری ذاتی رائے میں تھور کیپٹن امریکہ آئرن مین کو ہیروز سمجھنے والے مسلمان بچے پہلے مرحلے میں ارطغرل ترگت وغیرہ ہی کو ہیرو مان لیں تو برا سودا نہیں باقی پھر انہیں اسلامی دنیا کے اصل ہیروز کی طرف بھی لے جائیں کس نے منع کیا هے ؟ هاں کام یه خواری والا هے ۔

بہت سے لوگ شاید ایونجرز کے ان کرداروں سے واقفیت نہ رکھتے ہوں جن کا میں نے ذکر کیا لیکن پروپیگنڈے کی دنیا میں ان سب کا نہ صرف الگ جہاں آباد ہے بلکہ وہ نسلوں کو متاثر بھی کر رہے ہیں اور خوب نوٹ الگ سے چھاپ رهے هیں اگر خیالی کردار نوجوانوں کے حواس پہ چھا سکتے ہیں تو ہم اپنے اصلی بہادری شرافت شاندار ماضی رکھنے والے کرداروں کو متعارف کراکے اپنے حصے کا کام کیوں نا کرلیں ؟ اپنے لئیے نہیں ، غیر مسلموں کو ہی ذہن میں رکھ کر سوچ لیں ۔۔۔ انشاء اللہ نفع ہوگا