تحریکِ پاکستان میں مولانا مودودی کے لٹریچر کا علمی کردار - مراد علوی

راقم کو تحریکِ پاکستان میں مولانا مودودی کے لٹریچر کے کردار پر چند حوالوں کی ضرورت پیش آئی جس نے اس مختصر تحریر کی صورت اختیار کرلی۔متحدہ ہندوستان میں یہاں کے سب سے معتبر دینی حلقے نے وطنی قومیت کو مذہبی بنیادیں فراہم کرکے مسلمانوں کےلیے کانگریس میں شمولیت کے راستے ہم وار کئے۔

اس کے برعکس مسلم لیگ ہندوستان میں مسلمانوں کی نمائند اور کانگریس کے بالمقابل مسلمانوں کا مقدمہ لڑنے کی مدعی جماعت تھی۔ تحریک پاکستان میں 37- 1936ء کے الیکشن کے بعد کا زمامہ نہایت اہمیت رکھتا ہے، یہی زمانہ تھا جس کے بعد تحریک تیزی سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ بالکل اسی دور میں کانگریس نے “Muslim Mass Contact” کے نام سے مسلمانوں کو اپنا ہم نوا بنانے کےلیے تحریک آغاز کیا۔ ایک با اثر دینی حلقے کی کانگریس کی تائید مسلم لیگ کےلیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔یہ ایک مُسلّم تاریخی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ کے پاس کانگریس کی حمایت کرنے والے علما کے علمی رد کےلیے مسلم لیگی لیڈروں کی تقریروں کے سوا ایسا کوئی مضبوط علمی بنیاد موجود نہ تھا جس کے بنا کانگریس اور اس کے ساتھ علما کی علمی تائید کا رد کرسکے۔

تاہم "دارالاسلام" منصوبے میں ایک اہم خزو مسلم لیگ کی اس کمی کو پورا کرنا بھی تھا۔ اکتوبر 1937ء میں اقبال کے ساتھ مولانا مودودی کی جو ملاقات ہوئی تھی اس میں یہ پہلو خصوصی طور پر زیر بحث آیا تھا۔ اس کے بارے میں مولانا مودودی ڈاکٹر سید ظفر الحسن کے نام ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: "مسلم لیگ کے مرکز پر جو طاقتیں جمع ہورہی ہیں، ان کے بنیادی نقائص کو دور کرنے کی صورت یہ ہے کہ ان کے تصورات میں جو ابہام اس وقت پایا جاتا ہے اس کو دور کیا جائے تاکہ وہ واضح طور پر اس موجود پوزیشن کو سمجھ لیں اور اپنی ایک قومی غایت متعین کرلیں۔ یہ چیز جتنی زیادہ واضح ہوتی جائے گی اتنی ہی تیز رفتا کے ساتھ عامۃ المسلمین کا ترقی پسند اور اقدامِ پیشہ عنصر مسلم لیگ کی صفوں میں آگے بڑھتا جائے گا اور خود غرض، نمائش اور آرام طلب عناصر پیچھے رہ جائیں گے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے وہ تمام بے چین عناصر جو محض مسلم لیگ کی بے عملی سے بیزار ہوکر مختلف راستوں پر بھٹک گئے ہیں، رفتہ رفتہ پلٹنے شروع ہوجائیں گے، اور تھوڑی مدت بھی نہ گزرے گی کہ یہ جماعت جمہور مسلمین کی ایک مرکزی جماعت بن جائے گی۔سرِ دست ہم مسلم لیگ سے اس سے بڑھ کر کوئی توقع نہیں کرسکتے کہ وہ وموجودہ غیر اسلامی نظامِ سیاست میں مسلمانوں کی قومی پوزیشن کو بیش از بیش محفوظ کرنے کی کوشش کرے گی۔" (خطوطِ مودودی، دوم، ص 197)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ "دارالاسلام" منصوبے کا ایک اہم جزو مسلمانوں کی سیاسی اور علمی طور پر صحیح راہنمائی کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کو اسلامی نقطۂ نظر سے درست راستہ دکھانا بھی تھا۔ اسی زمانے میں مولانا مودودی نے وہ مضامین لکھے جو "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" حصہ اول (حالیہ نام: تحریکِ آزادی ہند اور مسلمان، حصہ اول) اور "مسئلہ قومیت" کے نام سے کتاب صورت میں طبع ہوئیں۔ دارالاسلام کے بانی چودھری نیاز علی خان مسلم لیگ کے رکن بھی تھے انھوں نے بڑے پیمانے پر مقدم الذکر کتاب کی اشاعت کا اہتمام کیا ۔ چوں کہ مسلم لیگ کی بعض غلطیوں کا دور کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ تھا اس لیے بعد میں مولانا نے اس پر سخت تنقید بھی کی، ان دونوں پہلوؤں کے بارے میں مولانا لکھتے ہیں:

"سیاسی نقطۂ نظر سے چودھری صاحب کی ہمدردیاں مسلم لیگ سے وابستہ تھیں بلکہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے باقاعدہ رکن تھے۔ لیکن اس حقیقت کو وہ اچھی طرح محسوس اور تسلیم کرتے تھے کہ لیگ کے عام کارکنوں کی اخلاقی و دینی حالت اس معیار کی نہ تھی کہ وہ صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست قائم کرکے چلا سکیں۔ وہ لیگ کے اجلاسوں اور جلسوں میں شریک ہو اکرتے، تو بسا اوقات یہ شکایت کرتے کہ لوگوں کو نماز کی اہمیت کا کوئی احساس نہیں اور نمازوں کےلیے کاروائی میں نہ التوا ہوتا ہے، اور نہ چند آدمیوں کے سوا کوئی نماز پڑھتا ہے، چودھری صاحب چوں کہ ایک نہایت متدین اور پابند صوم و صلوٰۃ مسلمان تھے، اس لیے یہ خامی انھیں بری طرح کھٹکتی تھی۔ دارلاسلام میں منتقلی کے بعد "ترجما القرآن" میں سب سے پہلے ان مضامین کا مجموعہ شائع ہوا جس کا پرانا کتابی عنوان "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" حصہ اول تھا اور جو اب میری کتاب "تحریک آزادی ہند اور مسلمان" جلد اول کا ابتدائی حصہ ہے۔

…. چودھری صاحب نے اسے اپنی طرف سے کئی ہزار کی تعداد میں شائع کرایا اور مسلمانوں میں (بالخصوص لیگ کے کارکنوں میں) تقسیم کیا۔ "مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش" کا دوسرا حصہ جو بعد میں ترجمان میں چھپا اور جو کانگریس کے نظریات کی تردید و تنقید پر مشتمل تھا۔ اسے بھی چودھری صاحب نے چھپوا کر اسی طرح تقسیم کیا۔"اس کے ساتھ ہی مولانا کا یہ بیان بھی نقل کرنا ضروری ہے:"ہمیں یہ دعویٰ نہیں کہ ان تین سالوں کے دوران میں مسلمانوں کے اندر کانگرسی نظریہ کا زوال اور اپنی جداگانہ قومیت کے احساس کا نشو و نما جو کچھ بھی ہوا، وہ ہماری ان کوششوں کا نتیجہ تھا، مگر اس بات سے شاید ہمارا کوئی مخالف بھی سچائی کے ساتھ انکار نہیں کرسکتا کہ اس نتیجے کے ظہور میں ہماری کوششوں کا دخل بھی تھا۔" (جماعت اسلامی کا مقصد تاریخ اور لائحہ عمل، ص 23-24)یہاں چند تاریخی واقعات نقل کرتے ہیں جن میں بیش تر مسلم لیگ وابستہ حضرات کے ہیں، اس سے یہ بات مزید منقح ہوجائے گی کہ مولانا کے لٹریچر نے تحریک پاکستان میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔

مولانا مودودی کے معاون خصوصی جسٹس (ر) ملک غلام علی لکھتے ہیں: " جب جماعت بن گئی تو سب سے پہلے مکتبہ جماعت اسلامی کا انچارج میں تھا۔ یہ حقیقت میرے علم میں ہے کہ مسلم لیگ کے جو مختلف دفاتر تھے، ضلعی لیگیں اور صوبائی لیگیں ، وہ کثرت سے ہمارا لٹریچر منگواتی تھیں۔ مولانا کی تصانیف کے میں اپنے ہاتھ سے پیکٹ بنا بنا کر پارسل کر بھیجتا رہا ہوں۔کیوں کہ کوئی اور لٹریچر تو ایسا موجود نہ تھا۔ مولانا کی تحریریں تحریکِ پاکستان کی فکری اور علمی بنیادیں فراہم کرنے میں بڑی ممد و معاون ثابت ہورہی تھیں اور پاکستانی خیال کے جو لوگ تھے وہ بھی اپنی دعوت کو پھیلانے کےلیے اس لٹریچر کو استعمال کرتے تھے۔ یہ ایک حقیقیت ہے کہ چودھری نیاز علی مرحوم نے (جو پکے مسلم لیگی تھے) خود سیاسی کشمکش حصہ اول اور دوم امرتسر میں کئی کئی ہزار چھپوا کر تقسیم کی"۔ (ماہ نامہ قومی ڈایجسٹ لاہور، جنوری، 1980 ص 177)

مسلم لیگ نیشنل کارڈ کے سالار اعلیٰ اور لیاقت علی خان کے سیکرٹری نواب صدیق علی خان مولانا کی تحریروں کو مسلم لیگ پر احسان سے تعبیر کرتے ہیں: "مولانا محترم نے اپنے رسالہ ترجمان القرآن کے ذریعے مذہبی و ملی نقطۂ نظر سے آل انڈیا مسلم لیگ کے مطالبات کی پر زور تائید کی۔ ہم صوبہ ممالک متوسط و برار کے قدیم باشندے اور مسلمانانِ ہند کے احسان کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے"۔ (بے تیغ سپاہی، ص 28)پہلی دستور ساز اسمبلی کے رکن، سابق وائس چانسلر کراچی یونی ورسٹی و سابق ڈائریکٹر ادارہ تحقیقاتِ اسلامی ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی قائد اعظم کے بعض معتمد ساتھیوں کی مسلم لیگ میں شمولیت کو مولانا مودودی کا مرہون منت قرار دیتے ہیں: "مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے انڈین نیشنل کانگریس کی پالیسیوں کا جو محتاط تجزیہ پیش کیا اس سے بہت سوں کی آنکھیں کھل گئیں۔ اگرچہ اس سے انہیں بہت زیادہ پیروکار نہیں لے، مگر اس سے بعض ذہین اور مخلص مسلمان کانگریس سےضرور برگشتہ ہوگئے اور وہ قائدِ اعظم کے ساتھیوں کی حیثیت سے مسلم لیگ میں سرگرمِ عمل ہوگئے۔" (ماہ نامہ قومی ڈائجسٹ، جنوری، 1980، ص 81)

قائد اعظم کے سیکرٹری اور معروف مسلم لیگی لیڈر سید شریف الدین پیرزادہ علی گڑھ کے طلبا کے بارے میں لکھتے ہیں: "مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ علی گڑھ یونی ورسٹی کے طلبا تحریک پاکستان کی مہم کے دوران دوسرے لٹریچر کے ساتھ ترجمان القرآن کے پرچے بھی بڑے التزام کے ساتھ رکھا کرتے تھے اور حسبِ ضرورت متحدہ قومیت کے علم برداروں کے دلائل رد کرنے کےلیے اس میں سے صفحات کے صفحات پڑ کر سنایا کرتے تھے"۔ (روزنامہ جسارت کراچی، مولانا مودودی نمبر، ص 73)
مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے سیکرٹری مولانا ظفر احمد انصاری تحریکِ پاکستان میں مولانا مودودی کے لٹریچر بارے میں لکھتے ہیں: "مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے مسئلہ قومیت کے عنوان سے ایک سلسلۂ مضامین لکھا جو اپنے دلائل کی محکمی، زورِ استدلال اور زورِ بیان کے باعث مسلمانوں میں بہت مقبول ہوا اور جس کا چرچہ بہت تھوڑے عرصے میں اور بڑی تیزی کے ساتھ مسلمانوں میں ہوگیا۔ اس اہم بحث کی ضرب متحدہ قومیت کے نظریے پر پڑی اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کا احساس تیزی سے پھیلنے لگا۔ قومیت کے مسئلے پر یہ بحث محض ایک نظری بحث نہ تھی بلکہ اس کی زد کانگرس اور جمیعۃ علماے ہند کے پورے موقف پر پڑتی تھی۔

ہندوؤں کی خطرناک چال یہی تھی کہ مسلمانوں کے دلوں سے ان کی اپنی جداگانہ قومیت کا احساس کس طرح ختم کرکے ان کے ملی وجود کی جڑیں کھوکھلی کردی جائیں۔ اس بحث میں غیر کانگرسی علما کی شرکت اسلامی محاذ کو مضبوط بنانے اور مسلم عوام اور علما میں جو بعد پیدا ہونے لگا تھا اسے دور کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوئی"۔ (چراغ راہ، نظریہ پاکستان نمبر 332)خلاصۂ کلام یہ کہ مسلم لیگ کے طریق کار سے واضح اختلاف کے باوجود مولانا مودودی کے لٹریچر نے تحریکِ پاکستان میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت مسلم لیگ کے پاس اگر کوئی علمی بنیادی تھی تو وہ مولانا مودودی کی تحریریں تھیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */