اینکر حضرات! قوم کو عذاب سے نجات دلائیے - صائمہ اسما

وہ چار تھے۔ ایک غار میں اس وقت قید ہوگئے جب ایک بھاری پتھر نے لڑھک کر غار کا دہانہ بند کردیا۔ جنگل بیابان میں کوئی مدد آنے کی توقع نہ تھی اور پتھر کو ہلانے کی وہ طاقت نہ رکھتے تھے۔ پریشانی میں بیٹھے رہے۔ موت سامنے نظر آنے لگی۔ بچانے والی ذات ایک ہی ہو سکتی تھی، اللہ کی ذات۔ انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔

ایک کے دل میں خیال آیا کیوں نہ اپنی زندگی کی کوئی ایسی خالص نیکی اللہ کے سامنے پیش کریں جس کی قبولیت کا یقین ہو اور اس کا واسطہ دے کر اللہ سے دعا کریں کہ اس مصیبت سے ہمیں نکالے۔ اللہ قدردان ہے ضرور قدر کرے گا۔پھر ہر شخص پوری عاجزی اور حضوری کے ساتھ اپنی اپنی نیکی کا قصہ دہراتا گیا۔ ہر قصے کے بعد پتھر تھوڑا سا سرکتا اور چوتھی بار اتنا سرک گیا کہ ان کے نکلنے کی سبیل بن گئی۔ مصیبت کے وقت سارے راستے بند ہو جائیں تو یہ راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ دستِ دعا سے عرشِ الٰہی کا راستہ، توبہ سے درِ قبولیت کا راستہ، حرفِ ندامت سے قسمت کے صحیفے کا راستہ ،لوحِ دل سے لوحِ محفوظ کا راستہ۔۔۔بندے سے خدا تک کا راستہ!یہی راستہ دکھایا تھا اس بندہِ خدا نے۔۔۔۔کیا راستے بند نہیں ہوگئے؟ کیا پتھر نہیں لڑھک آیا جس نے زندگی کو تاریک غار میں بدل دیا؟کیا ہم چاردیواری کے قیدی نہیں ہو گئے؟

کیا خوف نے آنگنوں میں ڈیرے نہیں ڈالے؟کیا جان، مال اورکھیتیوں کے نقصانات درپیش نہیں ہیں؟ کیا کاروبار مندے نہیں پڑ گئے؟ سرمائے نہیں ڈوب گئے؟ تا حد نظر کوئی امید نظر آتی ہے؟ کب تک اور؟ کتنے دن، ہفتے، مہینے، سال۔اس نے دنیا کے سب سے سچے انسان کی بات دہرائی۔

چار کام کر لو تو زمین آسمان کی کوئی مصیبت تم پر عذاب بن کر نہیں ٹوٹے گی۔ وہ چار کام کیا تھے، تریاق تھے گویا۔۔۔اس زہر کے جس نے ہماری ذاتی اور قومی زندگی کی نس نس میں پنجے گاڑ رکھے ہیں، مدت دراز سے۔۔۔ ہمارے امراض کی اس سے اچھی تشخیص نہیں ہو سکتی تھی۔ اس سے بڑا قومی ایکشن پلان کوئی شہ دماغ پیش نہیں کرسکتا تھا۔اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے بس دہرا دیا۔وہ تریاق ایسے وقت میں پیش کردیا جب زہر ہمیں قریب المرگ کر چکا تھا اور اللہ کے عذاب کا کوڑا برس رہا تھا۔ غار کے آگے پتھر سرک آیا تھا۔ راستے بند ہوگئے تھے۔ اس نے بس دہرایا:جھوٹ، دھوکہ، بےحیائی اور رزق حرام کو چھوڑ دو!

یہ تریاق اس نے طاقت کے منبع کو سامنے بٹھا کر پیش کیا۔جہاں جھوٹ، دھوکہ، بےحیائی اور رزق حرام کے سب راستے اپنے آگے اور قوم کے آگے کھولنے اور بند کرنے کا اختیار رکھنے والے بیٹھے تھے۔ ہاتھ جوڑ کر جان کی امان پا کر ان سے التجا کی ۔میڈیا جھوٹ پھیلاتا ہے، اورصرف پاکستان نہیں پوری دنیا کے میڈیا کا یہی حال ہے۔ جدید تعلیمی ادارے دین سے دور لے جا رہے ہیں ، ان کو ان کے نبیﷺ سے جوڑنا ہے۔

قوم کی بیٹی کو عریاں کرنے والے، اس کو نچانے والے ، نوجوانوں کو بے حیا بنانے والے اللہ کو پسند نہیں۔ یہ میرا قصور ہے کہ میں نے قوم کی بیٹی کو نہیں سمجھایا۔ میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ہمیں نوجوانوں کو حیا کا درس دینا ہے۔ ہم سب ظالم ہیں مرد بھی عورتیں بھی۔پھر اس نے بائیس کروڑ عوام کی منت کی، سچ بولنا، دھوکہ نہ دینا،حیا والے بنو، رزقِ حلال کماؤ۔ ان چار اعمال میں خرابی نے ہمارا سب کچھ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ اپنی شیرازہ بندی کر لو۔

کوئی بات غلط نہ تھی مگر غلطی ہوگئی تھی۔ جو سامنے بیٹھے تھے ایک جیسے نہیں ہو سکتے تھے۔ ہاں مگر ایسا ہو سکتا تھا کہ ان میں ملکی مفاد کے سودے کرنے والے بھی ہوں، میڈیا کے ذریعے جھوٹ، لفافہ، سنسنی خیزی ، عزتیں اچھالنےکی اقدار متعارف کروانے والے بھی ۔ ٹاک شوز میں منصوبہ بندی کے تحت بدزبانی اور عدم برداشت کے مناظر تخلیق کرکے ریٹنگ بڑھانے والے بھی ہوں،عریانی کا فروغ کرنےاورقوم کی بیٹی کو نچانے والے بھی۔ اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی یہ کھلی دعوت تھی مگر اس سے کئی داڑھیوں کواپنے تنکے چبھنے لگے تھے۔ کئی دستاروں پر انجانے میں ہاتھ پڑ گیا تھا۔ جھوٹ پر بنے کئی محل بنیادوں سے ہل گئے تھے۔کئی لوگ اپنی نظروں میں گر گئے تھے ، اور کئی قوم کی نظروں میں وقعت کھودینے سے ڈر گئے تھے۔

حالانکہ عمل تو ہر انسان کا ملا جلا ہے۔ کوئی مکمل فرشتہ ہے نہ مکمل شیطان۔ شہرت بھی ہر ایک کی اپنی اپنی ہے۔ کوئی کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں۔
ایک مصلح عمومی بات کرنے کا پابند ہوتا ہے۔اگر نام نہیں آیا تھا تو وقار اسی میں تھا کہ خاموش رہتے، بول کر رہی سہی عزت نہ گنواتے۔ مگر اپنے اعمال کا پتہ تھا اور ضد تھی ،تکبر تھا، طاقت کا نشہ بھی۔ سو جواب طلبی کے لیےحاضر کیا گیا تو معافی مانگنے کی دعوت دینے والے نے خود معافی مانگ لی۔ کتاب حکیم میں ارشاد ہے ’’نصیحت کرواگر نافع ہو ‘‘۔اسے یہی لگا کہ نصیحت شاید نافع نہیں ہوئی لہٰذا ہاتھ جوڑ کراپنی عزت بچا لی۔مگراب بصد ادب ہمیں یہ کہنا ہے کہ دعا اور توبہ پر کسی کا اجارہ تو نہیں ہے۔ اِس عمل کا وبال زیادہ ہے یا اُس عمل کا؟یہ طبقہ زیادہ برا ہے یا وہ طبقہ؟ یہ بحث ڈھٹائی اور عذر گناہ میں آتی ہے۔ ہر گناہ برا ہے اور باعثِ وبال ہے۔ اللہ کی ہر نافرمانی انسانی زندگی کو متاثر کرتی ہے اور اللہ کی ناراضی کا باعث بن سکتی ہے۔ کسی نے ایک غلطی کا ذکر کیا تو آپ دوسری کا کر لیجیے۔ گناہوں سے پاک نہ کوئی شخص ہے نہ طبقہ، نہ گروہ۔اللہ سے معافی مانگنے پر بھی معافی منگوائی جائے تو اس سے بڑی کیا شقاوت قلبی ہے! آزمائش کے اس وقت میں جبکہ دہریے بھی خدا کی تلاش میں ہیں،

ہمارے کچھ لوگ اس پر سیخ پا ہیں کہ ہماری بداعمالیوں کی معافی مانگنے والے آپ کون! تو جناب آپ خود مانگ لیجیے کس نے روکا؟ہر روز اوپر جاتے ہوئے اعدادوشمار، مفلوج زندگی اور اس پر یہ رویے!اور اگر۔۔۔

خود پراتنا ہی اعتماد ہے،کوئی گناہ نظر نہیں آتا ، ہر پل صراط سے سلامت گزرے، تو اپنے اچھے کاموں کا ہی واسطہ دیں اللہ کو، غار والوں کی طرح۔جس کام میں خلوص نیت شامل تھا، سچ کی پاسداری بغیر کسی ذاتی مفاد کے تھی، نہ ترغیب کو خاطر میں لائے نہ ڈراوے کو، نہ لفافے کو نہ بیرونی دورے کو،حلال کمایا اور ضمیر کے مطابق چلے، کوئی نہ دیکھتا تھا مگر خدا کے دیکھنے کی لاج رکھی، کوئی نہ سراہتا تھا مگر خدا کے اجر کی امید رکھی، سودا نہیں بکتا نہ بکے مگرقوم کی بیٹی کا حسن نہیں بیچیں گے ، نوکری جاتی ہے تو جائے مگر قوم کے مجرموں کا ساتھ نہیں دیں گے۔ کوئی ایک قصہ ہی اس لاک ڈاؤن کے غار میں اللہ کی نذر کیجیے، شاید رب العزت آپ کے صدقے ساری قوم کے آگے سے عذاب کا پتھر ہٹا دے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com