سیاست،صحافت اور آفت - مسزجمشیدخاکوانی

میں ہمیشہ کہتی ہوں سیاست اور صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ان دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر گذارہ نہیں لیکن وہ بڑے اچھے دن ہوتے تھے جب خبر کا صرف ایک ذریعہ ہوتا تھا اس کے محنتی انتھک رپورٹرجو سارا دن مارے مارے پھرتے اور سچی خبر لاتے کیونکہ جھوٹی خبر اخبار مالکان کو بھی گوارہ نہیں ہوتی تھی جھوٹی خبر پر معافی بھی مانگنی پڑتی بعض اوقات اخبار بھی بند ہو جاتا تھا ۔

لیکن پھر ایک چینل سے سینکڑوں چینل اور ہزاروں اخبارات تک جانے کتنے منہ کھل گئے اب نہ خبر کا پیٹ بھرتا ہے نہ میر جعفروں کا ایک ایسا شیطانی چرخا چل پڑا ہے جس نے دنیا کو تو سیکنڈوں کے فاصلے پر لا کھڑا کیا ہے مگر دلوں میں لا محدود فاصلے بو دیے ہیں نفرتیں بڑھتی جا رہی ہیں حل کوئی نہیں دنیا تیزی سے خوف کے سائے میں لپٹتی جا رہی ہے لوگ کہتے ہیں کورونا جیسی وبا نے لوگوں کو سوشل ڈسٹینس رکھنے پر مجبور کر دیا ہے میں کہتی ہوں یہ آفت تو اب آئی ہے ہم تو کئی دہائیوں سے اس اپنائیت کے احساس سے محروم ہیں ایک دوسرے کی کھوج کھدور ،لگائی بجھائی سچ کے نام پر غیبت اور منافقت نہ کرنے کی آڑ میں اپنا ہی پیٹ ننگا کرنا کیا اس سے کسی کو فائدہ ہوا ؟

اب تو رمضان بھی نہیں سوجھتا کسی کو اللہ ہمیں معاف کرے حامد میر نے نہ صرف صحافت کو حد درجے نقصان پہنچایا ہے بلکہ ملک کو ملکی دفاع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس کا پیٹ کبھی نہیں بھر سکتا یہ میری بات لکھ کر رکھ لیں ہم کم از کم ایک ادارے کی حد تک ایک باوقار مقام رکھتے ہیں جب سے اس پر اس نے سوال اٹھانے شروع کیے دشمنوں کے منہ کھل گئے ہیں یہ کیسی صحافت ہے جو آپ کو گھروں میں غیر محفوظ کر دے اور ان کو بھی متنازعہ کر دو جن کی وجہ سے یہ ملک قائم ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے میں ایک خبر پڑھ رہی تھی کہ ،پاکستان نے سمندری میزائل کا تجربہ کیا ‘‘ افغانی سرخوں نے فورا اعتراض شروع کر دیئے اور پاکستان کے بجٹ اور کرونا وبا میں اس ’’ فضول خرچی ‘‘ پر سوال اٹھانے شروع کر دیے بلکہ چند ممالک کے نام بھی پیش کیے جنھوں نے کورونا وبا کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں کٹوتیاں کی ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ عین اسی دن انڈیا نے اپنے دفاعی بجٹ میں تقریبا دس فیصد اضافہ کر دیا ہے۔

یوں ان کا دفاعی بجٹ 67ارب ڈالر ہو گیا ہے یعنی پاکستان کے کل قومی بجٹ سے بھی زیادہ جبکہ پاک فوج نے آخری بار بجٹ میں اضافہ بھی نہیں لیا تھا یہ بتاتے بھی انہیں تکلیف ہوتی ہے کہ مشرقی سرحدوں اور ایل او سی پر انڈین آرمی کی پچھلے دو عشروں کے دوران سب سے زیادہ ڈپلوٹمنٹ ہوئی ہے اور جنگ کے خطرات شدید تر ہیں جو کہ کورونا سے کئی گنا بڑا خطرہ ہے افغانستان کی جانب سے بھی شورشیں مسلسل جاری ہیں پاک فوج کے بجٹ کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے میں اس پر کئی برس قبل لکھ بھی چکی ہوں کہ کتنا عرصہ یہ جھوٹ چلایا گیا پاک فوج اسی فیصد بجٹ کھا جاتی ہے سترہ فیصد کو اسی فیصد کہنے کا پول تو 2011میں ہی کھل گیا تھا ۔اس حوالے سے آج آپ کو کچھ اور حقائق بتاتی ہوں جن ٹیکسز کا فوج کو طعنہ دیا جاتا ہے ان ٹیکسز میں سب سے بڑا حصہ خود فوج ڈالتی ہے
پچھلے سال مختلف ٹیکسز کی مد میں پاک فوج نے اٹھارہ ارب روپے ٹیکس جمع کیا جو سب سے زیادہ ہے ۔

ان ٹیکسز میں انکم ٹیکس،جنرل سیلز ٹیکس ،تنخواہوں سے کٹوتیاں ،ہائوس رینٹ الائونس ،یو ٹیلیٹی بلز ،کسٹم ڈیوٹی ٹیکس ،تعمیرات کی مد میں ادا کیا گیا ٹیکس اور فوج کے زیر انتظام چلنے والے اداروں کا ادا کیا گیا ٹیکس شامل ہے پھر فوجی تنخواہوں سے جڑے تیس لاکھ کے قریب افراد جو ٹیکس ہماری طرح آٹے ،چینی اور دالوں وغیرہ کی مد میں ادا کرتے ہیں وہ تقریبا پچاس ارب روپے بنتے ہیں جہاں تک افواج پاکستان کے کاروبارکا تعلق ہے (یہ بھی بہت بڑا طعنہ بنا ہوا ہے)تو آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا کے کئی ممالک کی افواج کاروبار کرتی ہیں اور ان میں انڈیا ، بنگلہ دیش اور افغانستان بھی شامل ہیں بلکہ افغانستان کی فوج تو منشیات کی سمگلنگ بھی کرتی ہے بلکہ ایک بڑی مزے کی خبر پڑھی تھی افغانستان میں نیٹو کے فوجی جو وڈیوز بناتے تھے افغان فوجی وہ بھی بیچ دیتے تھے افغان فوج پوری دنیا میں سب سے بڑے پیمانے پر منشیات کی نقل و حمل میں ملوث ہے ۔

پاک فوج جو کاروبار کر رہی ہے اس کے لیے ریاست پاکستان سے ایک روپیہ بھی نہیں لیتی اس کا آغاذ فوجیوں کی تنخواہوں سے کی گئی کٹوتیوں کی رقوم سے ہوا مقصد یہ تھا کہ جو فوجی شہید ہو جائیں تو ان کی فیملیوں کی کفالت فوج خود کر سکے اور یہ بوجھ ریاست پر نہ ڈالا جائے ۔لیکن جب فوجیوں کی تنخواہوں سے کاٹی گئی کافی رقم جمع ہو گئی تو اس کی محفوظ سرمایہ کاری کا فیصلہ ہوا پھر یہ رقم بڑھتی چلی گئی اور مزید نئی سرمایہ کاریاں کی گئیں کیا کبھی آپ نے سنا فوج اپنے جونیرز کی تنخواہیں ہضم کر کے گاڑیاں اور بنگلے خریدی بیٹھی ہو ِسوچئے اس سرمایہ کاری کا فائدہ کس کو ہوا ؟ان کاروباروں سے کمایا گیا ایک روپیہ بھی کسی وردی والے فوجی کے کام نہیں آتا نہ ان کا منافع پاک فوج کے پاس جاتا ہے ۔ان کاروباری اداروں میں 75فیصد سویلئنز کام کر رہے ہیں جن کے گھر ان اداروں کی بدولت چل رہے ہیں جب کہ پچیس فیصد فوج کے ریٹائر ملازمین ان اداروں میں ملازمتیں کرتے ہیں میرے خیال میں فوجی ریٹائر ہونے کے بعد سویلین ہی کہلائے گا پاک فوج میں جوانوں کو چالیس سال کی عمر تک ریٹائرڈ کر دیا جاتا ہے تب ان کے پاس سوائے چوکیدارہ کرنے کے کوئی آپشن نہیں بچتا ان اداروں میں ایسے بہت سے ریٹائرڈ فوجی ملازمین کو باعزت ملازمت مل جاتی ہے اور وہ ریاست پر بوجھ نہیں بنتے ۔

البتہ ہر ادارے کا کنٹرول فوج کے پاس ہے اس لیے پورے ادارے کو زیادہ سے زیادہ ایک یا دو وردی والے فوجی چلاتے ہیں باقی سارے سویلینز(جب چھوٹو گینگ والا معاملہ چل رہا تھا پنجاب پولیس سے بہت لوگوں نے مجھے میلز بھیجیں میسج کیے کہ باجی خدا کے لیے فوج سے کہو ہمیں اپنے انڈر کنٹرول لے لے تاکہ ہم بھی ڈسپلن میں رہیں ہم بھی رزق حلال کمانے کی قسم کھا سکیں )تو سوچئے یہی ادارے شہدا کے لواحقین کا بوجھ اٹھاتے ہیں تو ریاست یا قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑتا آپنے کبھی کسی فوجی گھرانے کے فرد کو بھیک مانگتے نہیں دیکھا ہوگا چاہے وہ ٹانگوں سے معذور ہی کیوں نہ ہو میں نے انڈین فوجیوں کو اپنی آنکھوں سے بھیک مانگتے دیکھا ہے پاک فوج جو کاروبار کرتی ہے ان سے ہزاروں ایسے سویلینز کا روزگار بھی جڑا ہوا ہے جو ان اداروں میں براہ راست ملازم نہیں ہیں ۔
خلاصہ اس کا یہ ہوا کہ شہدا کے لیے فوج نے اپنی تنخواہوں سے پیسے کاٹے پھر ان پر جائز کاروبار شروع کیا جو سارے کا سارا سویلین سنبھال رہے ہیں اور وہی اس سے مستفید بھی ہو رہے ہیں اور صرف کنٹرول فوج کے پاس ہے ’’جو نام ہے اعتماد کا ‘‘یہ کاروبار لاکھوں سویلینز کی کفالت بھی کر رہے ہیں اور ملکی معیشت کو بڑا سہارا بھی دیا ہوا ہے اور ایک بات یاد دلاتی چلوں ڈیفنس یا عسکری ھائوسنگ سوسائٹی وغیرہ میں کسی فوجی یا افسر کو پلاٹ مفت میں نہیں ملتا بیس سال کی عمر میں کمیشن پا کر پچیس یا تیس سال نوکری کر کر کے اپنی ماہانہ تنخواہ سے پیسے کٹوا کٹوا کر بالاخرپلاٹ لینے کا حقدار قرار پاتا ہے کون سا سرے محل یا جاتی امرا کا محل ملتا ہے جس کو تم طعنہ مارتے ہو واہ بھئی بڑے مزے ہیں مفت میں پلاٹ مل گیا اسی طرح ان ہائوسنگ سو سا ئیٹیزکے لیے زمین پیسے دے کر خریدی جاتی ہے ڈی ایچ اے لاہور کے بیچوں بیچ ایک گائوں والوں نے اپنی زمین بیچنے سے انکار کر دیا وہ گائوں آج بھی آباد ہے بلکہ ڈیفنس والوں نے انہیں سڑک بھی بنوا کر دی ہوئی ہے نواز شہباز نے ایک جاتی امرا کھڑا کرنے کے لیے مین نہر کا رخ اپنے محل کی طرف موڑ کر اسی دیہات بنجر کر دیے تھے ۔
تو کل ملا کر بات یہ ہوئی پاک فوج کا بجٹ دنیا بھر کی افواج کے مقابلے میں مضحکہ خیز حد تک کم ہے (بلحاذ حجم اور درپیش جنگوں کے )افواج پاکستان ٹیکسز کی شکل میں بہت بڑی رقم ہمیں واپس بھی کر دیتی ہے اپنی تنخواہوں سے کاٹی گئی رقوم سے بہت بڑی تعداد میں سویلینز کو بھی پال رہی ہے اور ان کاروبارز کا فائدہ صرف ان فوجیوں کو ہے جو ریٹائر ہوتے ہیں یا اس ملک کے لیے جان دیتے ہیں ۔اسی کورونا وبا میں بھی جتنے صاف ستھرے اور قابل فخر اقدامات فوجی اداروں میں دیکھنے کو ملے کہیں اور نہیں دکھائی دیے کم خرچ بالا نشیں صفائی ستھرائی ویسے بھی فوجی پر ختم ہے لیکن اس وبا کے بعد تو جیسے اوور ہالنگ ہو گئی ہے ۔

اپنے ملازمین کا اس طرح خیال رکھنا کہ ان کے دل سے صرف دعائیں نکلیں کوئی ادارہ اپنے نچلے درجے کے ملازموں کا اس طرح خیال نہیں رکھتا جتنا فوجی رکھتے ہیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے آفت کی اس گھڑی میں قوم کو حوصلہ دیا اور ہر مشکل میں ساتھ دینے کا عزم کیا جنرل عاصم سلیم باجوہ کی بطور معاون خصوصی وزیر اعظم کے جس طرح قوم نے خوشی کا اظہار کیا (سوائے چند نام نہاد صحافیوں کے) وہ پاک فوج پر اعتبار و اعتماد کی وضح مثال ہے اللہ میری پاک فوج کو شاد و آباد رکھے (آمین )

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */