سائنسی علم و اندازے، میڈیا اورمفادات کاچکر - وقاص احمد

کورونا وائرس اور موجودہ عالمی اور پاکستانی حالات کے حوالے سے سازشی نظریات پر بات اگر نہ بھی کی جائے تو بھی اب جب کہ اس بیماری کو چین کے بعد دنیا میں پھیلے چارمہینے گزر چکے ہیں اور ہمارےپاس بڑی تعداد میں اعداد و شمار اور مختلف تحقیقاتی و علمی اداروں کی تحقیقات بھی میسر آچکی ہیں۔

اس موضوع پر بات کی جاسکتی ہے کہ ابتداء میں کن عوامل اور سائینٹفک حقائق کی بنیاد پر دنیا کا تقریباً ہر ملک آگے جا کر ایک ایسے سخت لاک ڈاؤن کے فیصلے پر مجبورہوا جو عوام کے روزگار اور ان کے کاروبار پر تیشہ بن کر گرا۔ یہ فیصلہ دنیا کو کورونا سے نجات تو شاید نہ دے پائے لیکن دنیا کو غربت اور معاشی مسائل کی ایسی دلدل میں پھنسا چکا ہے جس سے جنم لینے والی خود کشیوں، ڈیپریشن اور تناؤ سے ہونے والے برین سٹروک، دل کے دورے اور سرطان کے ساتھ ساتھ لوٹ مار اور قتل و غارت گری سے ہونے والی ہلاکتوں کا بھی حساب رکھناپڑے گا اور حکومتوں کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔بیماری کے خوف، اس پر بوکھلا کر انتہائی سطح کےاقدامات، ایک دو دن نہیں بلکہ تین چار مہینے کے اعداد و شمار اور لاک ڈاؤن سے ہونے والے معاشی نقصانات پر امریکہ میں شدید بحث و مباحثہ کا آغاز شروع ہوچکاہے۔

اپنے مین سٹریم میڈیا والوں اور ان کے کہنہ مشق و ذہین اینکرز اور تجزیہ کاروں سے میری درخواست ہوگی کہ وہ اس پر جلد اپنی ’’تحقیقاتی رپورٹوں‘‘ سے ہمیں فیضیاب کریں کیونکہ شوبز اور کھیلوں کی تقریباً ساری اشرافیہ اس لاک ڈاؤن میں اپنا وقت کیسے گزار رہی ہے ، اس سے عوام روشناس ہوچکی ہے ۔ اب ہمارے میڈیا کو چا ہئے کہ وہ ابتر معاشی صورتحال اور قرضوں کے معاملات پر بھی تجزیات اور بحث کا آغاز کریں بالکل اسی طرح جیسے کورونا سے ہلاک ہونے والوں کا پل پل کا حساب رکھا جا رہا ہے یا محترم نواز شریف کے پلیٹلٹس کا حساب و کتاب رکھا گیا تھا۔ماضی قریب میں جائیں تو ووہان میں وباء پھیلنے کے بعد جو ابتدائی چینی تحقیقات سامنے آئیں اس کے مطابق وائرس (SARS-CoV-2) کی جینیاتی پہچان، خصوصیات، ہلاکت خیزی اور اس کے بہت متعدی (Contagious) ہونے کی تفاصیل ڈبلیو ایچ او کو چین سےموصول ہوئیں۔ اس کے بعد ڈبلیو ایچ او اور چین کی مشترکہ رپورٹ جو24 فروری کو منظر عام پر آئی اس میں اِس وائرس کے حوالے سے مزید معلومات اور اس سے نمٹنے کی ہدایات دنیا کو دیں گئیں۔ چین کی ابتدائی تحقیقات سے دنیا کو یہ پتا چلنا شروع ہوگیا تھا کہ یہ فلو ٹائپ کی علامات ظاہر کرتا ہے اس لیے حفاظتی تدابیر میں بچاؤ کے طریقے بھی فلو وائرس ہی کی طرح کے ہیں۔

یہ بات بھی جلد ہی معلوم ہوگئی کہ وائرس ان لوگوں کے لیے بہت خطرناک ہے جو عمر رسیدہ ہیں اور جو پہلے سے بہت سی دائمی امراض کے ساتھ جی رہے ہیں یا یوں کہا جائے جن کا جسمانی مدافعتی نظام کمزور ہے۔ لیکن دنیا کو یہ بات بھی معلوم تھی کہ ایسے لوگوں کے لیے تو فلو وائرس اور نمونیا بھی بے حد خطرناک ہے جو پھیپھڑوں کو نشانہ بناتا ہے اور اس حوالے سے ہمارے پاس دہائیوں کے اعداد و شمار موجود ہیں۔ 11 مارچ کو ڈبلیو ایچ او نے اس وائرس کو پینڈیمک (Pandemic) کا درجہ دے دیا۔ ڈبلیو ایچ او کی نیت پر اگر شک نہ بھی کیا جائے تو وہ واحد وجہ جو سمجھ میں آتی وہ یہ ہے کہ صرف ان رپورٹس کی وجہ سے کہ کورونا بغیر علامات کے بھی کئی دن انسان میں موجود رہتا ہے وہ اس طرح صرف بیمار کے ساتھ ساتھ ہر شخص خطرناک ہوسکتا ہے اس لئے ہر شخص سماجی فاصلہ کے اصول اپنائے اور گھر بیٹھے۔ یہ معاملہ کورونا وائرس کو انفلوئزا یعنی فلو وائرس سے قدرے زیادہ متعدی اور (Contagious) بناتا ہے ۔ جبکہ اسی خاص بات کے حولے سے تحقیقات مسلسل جاری تھیں اور کوئی حتمی بات سامنے نہیں آپائی تھی ۔

تازہ تحقیقات جس میں اب زیادہ ڈیٹا حاصل ہے اس کے مطابق بغیر علامت والے شخص کے اندر کورونا کا بہت متعدی ہونا سات دن سے کم ہو کر دو دن پر آچکا ہے (1) اور واضح رہے کہ فلو کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ وہ علامات آنے سے ایک دن پہلےہی متعدی ہوجاتا ہے۔ Contagiousness کے معاملے میں یہ علمی طور پر مان بھی لیا جائے تو ڈبلیو ایچ او نے نجانے کیوں ان تحقیقات کا آغاز اور ان ادارو ں کو سپورٹ نہیں کیا جو اس وائرس کے خلاف انسانی مدافعتی سسٹم کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ چین اور اٹلی کے اعدادو شمار سے واضح ہوگیا تھا کہ یہ بیماری فلو سے زیادہ کمیونٹی میں پھیلنے کے باوجود اس طرح کی ہلاکت خیز نہیں ہے جس طرح کے اندازے ڈبلیو ایچ او، امپیریل کالج لندن، بل گیٹس اور ڈاکٹر انتھونی فاؤچی جیسے لوگ لگا رہے تھے جن کے فارما سوٹیکل کاروبار سے تعلقا ت ڈھکے چھپے نہیں۔ اینٹی باڈیز ، پلازما، سیرلوجیکل ٹیسٹ پر بھی ان مذکورہ لوگوں کو ویسے ہی تندہی سے کام کرناچاہیے تھا جیسے یہ خوف پھیلانے اور ویکسین کی ضرورت پر کام کرتے رہے۔

ابھی جب حال ہی میں یہ نتائج سامنے آنا شروع ہوئے کہ انسانی خودکار امیون سسٹم(Immune System) نے اندازے کے مطابق کیلی فورنیاکی سانٹا کلارا کاؤنٹی میں تقریباً 60,000 لوگوں کو کورونا وائرس کے حملے کے باوجود ہسپتال جانے سے محفوظ رکھا(2) تو ویکسین بیچنے والوں کے نمائندے یہ بات لے آئے کہ نہیں معلوم اگلے سال یہ اینٹی باڈیز کام آئیں گی کہ نہیں یا کورونا وائرس ان پر حملہ کرے گا کہ نہیں۔ وائرولوجسٹ یہ کہتے ہیں کہ یہ بات اتنی اہم نہیں ہے کہ ہمارے جسم میں وائرس ہے کہ نہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ کیا وہ اتنی تعداد میں ہے کہ یہ ہمیں یا کسی اور کو بیمار کردے ۔ سانٹا کلارا کاؤنٹی کے سیرولوجیکل ٹیسٹ کے سروے کے نتائج کے مطابق کورونا کی وجہ سے بیماری اور موت کی شرح 0.1 فیصد کے آس پاس ہی بنتی ہے جب کہ آبادی کے لحاظ سے شرح 0.04 بنتی ہے۔ پاکستان میں اس طرح کی سٹڈی کرائی جائے تو مجھے یقین ہے ان شاء اللہ یہ اس سے بھی انتہائی کم ہوگی۔امریکہ کی کورونا ٹاسک فورس کے ممبر اور کورونا کے حوالےسے پالیسی بنانے میں ٹرمپ کے بااثر مگر متنازع حیثیت کے مالک مشیر ڈاکٹر فاؤچی نے یہ شرح ہولناک طور پر کبھی فلو سے دس گنازیادہ بتائی کبھی کہا کہ سترہ لاکھ لوگ مرجائیں گے ۔ لاک ڈاؤن کرا کے چند ہفتے پہلےوہ دو لاکھ پر آگئے ہیں۔

نکتہ یہ ہے کہ جب کورونا وائرس اپنے خواص اور ہلاکت خیزی کے حوالے سے فلو کے قریب قریب ہی تھا اور درمیانے درجے کے مناسب اقدامات و ہدایات سے بھی اسے کنڑول کیا جاسکتا تھا۔ خاص طور پر پہلے سے بیمار اور عمر رسیدہ افراد کے لیے خاص ہدایات پر سختی سے عمل کیا اور کرایا جاسکتا تھا ( حالانکہ امریکہ میں ہر سال ایسا فلو کے لیے بھی نہیں کیا جاتا جس میں گزشتہ سالوں اموات پچاس سے اسی ہزار تک بھی گئیں ہیں(3)) ۔ یعنی تحقیق میں بھی ایک خاص رائے ڈبلیو ایچ او پر حاوی رہی اور کورونا کے حوالے سے میڈیا کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا کہ انتہائی سطح کے اقداما ت حکومتوں کو کرنے پڑ گئے۔ سویڈن نے ڈبلیو ایچ او اور ان کے لاؤڈ سپیکرز کے بجائے اپنے ڈاکٹرز، وائرولوجسٹس اور وبائی امراض کے ماہرین سے رجوع کیا اور اس کی روشنی میں ایک متوسط درجہ کی پالیسی بنائی جس میں سماجی فاصلے، ذمہ داری اور صفائی پر زور دیا گیا اور اس کے ساتھ اپنے ریسٹورنٹس، دکانیں ، اسکول کھلے رکھے۔سماجی فاصلے کے ساتھ پچاس سے کم تک کا ہجوم بھی برقرار رکھا گیا۔ لوگوں کو غیر ضروری سفر نہ کرنے کی ہدایات دی گئی۔

ہاں بزرگو ں اور عمر رسیدہ یا پہلے سے کسی بیماری کا شکار لوگوں پر ہدایات پر عمل کرنے اور گھر پر رہنے کے حوالے سے زیادہ سختی کی گئی لیکن بچوں اور جوان عوام کی ذہنی صحت اور چھوٹے کاروبار کی طرف خاص توجہ دیتے ہوئے پابندیاں کافی نرم رکھی گئی ۔ سویڈن میں اس وقت کوروناسے مرنے والوں کی شرح آبادی کے حساب سے 0.021جبکہ برطانیہ کے اتنے سخت لاک ڈاؤن کے باوجود بھی اموات کی شرح 0.028 بنتی ہے جو سویڈن سے تھوڑی زیادہ ہی ہے۔ سوچنےکی بات ہے۔خدشات اور خوف تو ڈبلیو ایچ او کو (H1N1 Flu Pandemic 2009) میں بھی تھے ۔ اسوقت بھی H1N1 Flu وائرس بھی ناول اور نامعلوم تھا۔ ہجوم سے پرہیز اور سوشل ڈسٹینسنگ (Social Distancing) کے حوالے سے گائیڈ لائنز تو اس وقت بھی دی گئیں۔ بارک اوباما نے اکتوبر 2009 میں ایمرجنسی کا بھی اعلان کیا۔ امریکہ میں بعض علاقوں میں اسکول بھی بند کئے گئے۔ بعض یورپی ملکوں نےامریکہ کی طرف پروازوں میں کمی اورغیر ضروری سفر کو کم کیا ۔ بعض ملکوں نے ہوٹلوں کو جہاں غیر ملکی مقیم تھے (Quarantine) بھی کیا ۔

ہسپتال کی سہولیات اور ضروریات پر تیزی سے کام کیا گیا لیکن کاروبار کو ٹھپ کردینے والے، معیشت کو تباہ کردینے والے، عوام کو بھیک منگا بنا دینے والے لاک ڈاؤن کے پیچھے کیا چیز کارفرما ہوسکتی ہے اس کے لیے آپ اس وباء کے حوالے سے رپورٹس پڑھ لیں (4)۔ ڈبلیو ایچ او پر سنگین الزامات لگے کہ انہوں نے اصل معلومات کے بجائے خوف کو پھیلایا۔ ہلاکتوں میں تبدیلیاں اور اتار چرھاؤ دو سال تک چلتے رہے۔ ڈبلیو ایچ او نے غریب ملکوں کی وہ ہلاکتیں بھی کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی جن کے پاس کوئی صحت کی کوئی سہولیات بھی نہیں لیکن بعد میں آزاد اداروں ،محققین اور ڈبلیو ایچ او والے ہلاکت کی تعداد دو لاکھ اسی ہزار کے لگ بھگگ مقرر کرنے پر متفق ہوئے اور ڈبلیو ایچ او نے اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کی۔ سی ڈی سی نے امریکہ میں 15000-18000 اموات کا اندازہ لگایا۔ انتہائی معتبر (Journal of the American Medical Association) کی رپورٹ کے مطابق H1N1 Fluوائرس امریکی سالانہ فلو سیزن کی ہی طرح تھا۔

بعد میں جرمن ڈاکٹر وولف گینگ ووڈارگ جویورپین پارلیمنٹ کی ہیلتھ کونسل کے ممبرہیں اور صحت سے متعلق دوسرے عہدوں پر فائز رہے، برٹش میڈیکل جرنل کی ایڈیٹر انچیف فایونا گوڈلی اور ان جیسے کئی لوگوں نے ڈبلیو ایچ او پر یہ سنگین الزمات لگائے کہ انہوں نے فارماسوٹیکل کمپنیز کے ساتھ مل کر اس وائرس کے حوالے سے خوف کو ضرورت سے کئی گنا زیادہ پھیلایا اور فارما کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ دیا۔ الزامات اور انکے پیچھے عوامل اتنے شدید تھے کہ ڈبلیو ایچ او کی اس وقت کی ڈائر یکٹر جنرل مارگریٹ چن کو اپنی صفائی میں بیان جاری کرنا پڑا۔ کہنےکامطلب یہ ہے کہ اگر ہم تاریخ اور موجودہ اعدادو شمار کا جائزہ نہیں لیں گے تو ہماری پبلک ہیلتھ پالیسی اور اقدامات کے کے بہت خطرنات نتائج برآمد ہونگے اور ہو رہے ہیں۔ پاکستان جیسے غریب ملکوں کو تو اس حوالے سے قدم بہت سوچ سمجھ کر اور مناسب انداز میں اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بعض صوبائی حکومتوں کی سیاست اور مفادات پر بھی نظر رکھنےکی ضرورت ہے۔

کراچی کو لاک ڈاؤن کرنے اور کراچی کے لوگوں کو تنگ کرنے سے کس کو سیاسی و انتخابی طور پرفرق نہیں پڑتا ، ریونیو گرنے سے کون مشکل میں آتا ہے اور کس کے لیے سیاسی مفاہمتی عمل آسان ہوتا ہے ۔سندھ میں دہائیوں سے ہسپتال کی خراب صورتحال اور آئی سی یو وارڈز کی کمی کا پول کھلنےسے کون ایکسپوز ہوگا۔ فارما کمپنیوں کے تعلقات اگر ڈبلیو ایچ او کے ساتھ ہوسکتے ہیں تو حکومتوں میں بیٹھے لوگو ں اور بڑے بڑے ہسپتال والوں سے بھی ہو سکتے ہیں ۔ راقم کل ہی آئی ایم ایف کی ایک بڑی عہدیدار کا انٹرویو سن رہا تھا جو نہایت پر فریب اور دلکش معاشی اور اقتصادی اصطلاحات کا استعمال کرکے بتا رہی تھی کہ اب تک ایک سو ملکوں نے آئی ایم ایف سے رجوع کرلیا ہے اور ان ممالک کی ’’مدد‘‘ کرتے ہوئے ہم نے کئی سو بلین ڈالر تیزی سے مہیا کرنے منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ کورونا سے جنگ لڑنے میں صحت پر جو خرچہ ہوناہے جو کیش درکار ہے وہ کم نہ ہونے پائے۔

حکومتیں کاروبار اور روزگار کے ختم ہوجانے سے عوام کے لیے جو امدادی منصوبے بنا رہی ہے آئی ایم ایف ان کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے ۔ اور راقم کے کان میں بس دو ہی اصطاحات گونج رہے تھے۔ سود اور غلامی۔ سو یہاں ادویات کی کمپنیوں کے علاوہ آئی ایم ایف کا فیکٹر بھی شامل ہے ۔ یہ سب سوالات پوچھنے کے لائق ہیں ۔ اہل نظر و فکر کو یہ سوالات پوچھنے چاہیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */