ترک رذائل از - سہیل بشیر کار

اسلام میں ایمانیات کے بعد جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے وہ اچھے اخلاق ہیں۔ ایک حدیث میں ملتا ہے کہ رسول رحمت ﷺنے اپنی بعثت کا مقصد ہی اچھے اخلاق کی تکمیل کہا ہے، مگر بدقسمتی سے جہاں دین کے دیگر احکام کا ناقص تصور ملتا ہے وہی اخلاقیات کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ دین اسلام میں انسان کے اخلاق کا جامع تصور ملتا ہے. اس تصور میں ہمہ گیریت ہے۔یہ جہاں اعمال میں بہتری چاہتا ہے وہی دلوں میں بھی بہتری چاہتا ہے۔

اچھے اخلاق کے لیے ضروری ہے کہ برے اخلاق سے دور رہا جائے، کیونکہ برے اعمال انسان کو بہتر زندگی گزارنے نہیں دیتی۔’ترک رذائل‘ پاکستان کے مشہور و معروف فکری رہنما احمد جاوید کی کتاب ہے۔ احمد جاوید صاحب نے قدیم و جدید علوم کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اس کے باوجود ان کے مزاج میں سادگی ہے۔مصنف سابق ڈائرکٹراقبال اکیڈمی، لاہوربھی رہے ہیں۔آپ بیک وقت محقق، عالم، دانشور، ادیب، شاعرہیں۔ اقبالیات پرموصوف کی دقیق نظرہے۔علم نفسیات اور فلسفہ کے معاصردنیامیں’امام‘ ہیں۔ ’ترک رذائل‘ 292 صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔اس میں اخلاقی بیماریوں کے نقصانات اور ان کا علاج بتایا گیا ہے۔کتاب میں بتایا گیا کہ رذائل کیا ہیں۔ اس کتاب کو پڑھ کر قاری کے شعور میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس کے اندر کون سے رذائل ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔کتاب کو 4 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ باب اول میں تمہیدی مباحث کا ذکر ہے، مثلاً اسلام کا اصل مقصود، تقرب الہی، تزکیہ نفس وغیرہ ۔

ان عنوانات پرمصنف نے بہترین بحث کی ہے۔ باب دوم میں امراضِ احوال یعنی طبیعت اور ان کا علاج۔ اس باب میں نفاق، حب دنیا، کسل، بخل، بے مروتی، حرص و طمع وغیرہ کل 25 موضوعات پر بات کی گئی ہے ۔ باب سوم میں امراضِ افعال(ارادہ) اور ان کا علاج کے تحت جھوٹ، چغلی، فحش کلامی، وعدہ خلافی، مایوسی، ڈپریشن، کسب حرام وغیرہ کل 20 موضوعات پر بات کی گئی ہے ۔ باب چہارم میں امراض ذہن اور ان کا علاج کے تحت تشکیک، حیلہ جوئی، مکاری وعیاری وغیرہ کل 5 موضوعات پر مباحث ملتے ہیں۔ کتاب میں سوال و جواب کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔سوالات کا انتخاب کتاب کے مرتب ڈاکٹر محمد امین نے نہایت ہی خوبصورتی سے کیا ہے۔کوشش کی گئی ہے کہ کم سے کم صفحات میں سارے مباحث کو جمع کیا جائے۔کتاب میں جو بھی موضوعات ہیں ان پر سب سے پہلے قرآن مجید کی آیات کا حوالہ دیا گیا ہے، مثلاً کسب حرام کے تحت قرآن کریم کی سورہ البقرہ آیت 188 سے استدلال کیا گیا ہے، "اور یاد رکھو! ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر نہ کھاو۔رشوت کو حاکموں تک رسائی کا ذریعہ نہ بناو اور جان بوجھ کر دوسروں کا مال ہڑپ نہ کرو۔"(صفحہ 255)

اس طرح’ تکبر‘ عنوان کے تحت سورہ الاسرا کی آیت 37 اور سورہ القصص آیت 83 کا کا حوالہ ملتا ہے، "اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔" اور "یہ آخرت کا گھر ہم انہی لوگوں کے لیے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں بڑائی چاہتے ہیں اور نہ فساد۔ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے ".(صفحہ 33)اس کے بعد احادیث سے استدلال ملتا ہے۔مصنف نے احادیث کے انتخاب میں کمال درجہ کی محنت کی ہے۔ اسراف کے تحت مندرجہ ذیل احادیث لاتے ہیں "حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ وضو کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے اور کہا سعد فضول پانی ضائع نہ کرو. انہوں نے کہا یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کیا وضو میں زیادہ پانی خرچ کرنا بھی فضول خرچی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! خواہ تم دریا کے کنارے بیٹھ کر ہی وضو کیوں نہ کر رہے ہو۔‘‘(صفحہ 207) اسی طرح جنس پرستی کے تحت مسند احمد بن حنبل کی حدیث رقم کی ہے، "آنکھوں کا زنا (حرام) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (حرام) سننا ہے، زبان کا زنا (حرام) بولنا ہے، ہاتھوں کا زنا (حرام) حرکت کرنا ہے، ٹانگوں کا زنا (حرام) کی خاطر چلنا ہے اور دل (حرام) کی تمنا اور خواہش کرنا ہے. ‘‘(صفحہ 98)

آیات قرآنی اور احادیث کے بعد سب سے پہلے مرض کی تعریف مختصر مگر جامع الفاظ میں کی گئی ہے۔ "بے مروتی" کی تعریف اس طرح کی گئی ہے، "انسانی معاشرت کا مزاج ہی ایسا ہے کہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے بعض ایسے مطالبات بھی رکھتے ہیں، جنہیں پورا کرنا شرعاً ضروری ہوتا ہے نہ ممنوع، اس طرح کے مطالبات رکھنے کے باوجود پورے نہ کرنا بے مروتی ہے۔" (صفحہ 110) اس کے بعد بیماری سے کیا مراد ہے پر بات کی ہے مایوسی سے مراد کیا ہے کے جواب میں لکھتے ہیں،" کسی عمل کے مطلوبہ نتائج نہ نکلنے سے بعض لوگوں پر ایک کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو ان سے وہ عمل ترک کرواتی دیتی ہے. اس کیفیت کو مایوسی کہتے ہیں، مایوسی کی کئی قسمیں اور کئی اسباب ہیں تاہم ترک عمل اس کا بنیادی خاصہ ہے۔مایوس آدمی ترک عمل کے ساتھ ساتھ بعض حالات میں اللہ سے شاکی بھی ہو جاتا ہے، یہ وہ صورت ہے جو دینی اعتبار سے انتہائی خطرناک ہے. ‘‘(صفحہ 239) اس کے بعد ہر مرض کا سبب بیان کیا جاتا ہے مایوسی کے اسباب کے تحت لکھا گیا ہے ،"ارادے کا پورا نہ ہونا،کسی عمل کے مطلوبہ نتائج نہ برآمد ہونا، دنیاوی زندگی کا غلط تصور، انسانی کمزوریوں اور خرابیوں کا شدید تاثر، اور غمگین طبیعت اور قنوطی ذہنیت۔‘‘ (صفحہ 239)

انسان کے اندر مرض کی پہچان کیسے ہو جائے اس پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ریا کے تحت لکھتے ہیں "تمام ریا کاروں میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے اور وہ یہ کہ ان کی تمام عبادات اور اعمال حسنہ جلوت میں ہوتے ہیں، ان میں خلوت یا تو اللہ کی یاد اور نیکی کے منصوبوں سے خالی ہوتی ہے یا پھر ان کی مجلسی زندگی کے مقابلے میں ان کی تنہائی کی عبادات کم اور غائب دماغی کے ساتھ ہوتی ہیں۔‘‘(صفحہ 44) مرض کے نقصانات بھی چھوٹے چھوٹے جملوں میں بیان کیے گئے ہیں لہو و لعب کے نقصانات کیا ہیں، اس کے جواب میں علامہ احمد جاوید لکھتے ہیں: "لہو و لعب کا سب سے بڑا نقصان تو یہی ہے کہ آدمی دینی مزاج سے محروم ہو جاتا ہے۔ باقی نقصانات کی کچھ تفصیل یہ ہے غفلت، اسراف، لوگوں کو ایذا پہنچانا، وقت کا ضیاع، جھوٹ، غیبت، بہتان، فحش گوئی، خشیت الہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فقدان، دنیا کی بربادی، آخرت کی بربادی۔‘‘ (صفحہ 227) علامہ صاحب کی یہ خوبی ہے کہ وہ نہ صرف مرض بتاتے ہیں بلکہ مرض کا قابل عمل علاج بھی بیان کرتے ہیں۔کسب حرام کا علاج کیا ہے کے جواب میں لکھتے ہیں "چونکہ یہ ارادی عمل ہے لہذا اس کا علاج بھی اختیاری ہے۔ یہ علاج بالکل سادہ ہے اور اس کے دو جز ہیں ، توبۃالنصوح اور تمام حرام املاک سے فوری دست برداری اور ان سے جتنا فائدہ اٹھایا جاچکا اس کا کفارہ۔" (صفحہ 260)

پھر آخر میں سمجھاتے ہیں "اس علاج میں ہرگز کوئی حرج اور مشقت نہ سمجھیں، آخرت میں جو پکڑ ہونی ہے اس کے مقابلے میں یہ کوئی چیز نہیں۔ "اسی طرح قساوت قلبی کا علاج یوں بیان کرتے ہیں" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرنا نفل نمازوں میں طویل سجدہ کرنا، فرحت بخش ماحول اور غذائیں اختیار کرنا، بیماروں کی دیکھ بھال کرنے کا موقع ملے تو اس سے فائدہ اٹھانا، دن کا کچھ حصہ چھوٹے بچوں کے ساتھ گزارنا اور تنہائی میں تلاوت کرنا اور تکلف سے رونا ۔" (صفحہ 108) احمد جاوید صاحب اپنی کتاب میں باریک چیزوں کا فرق نہایت خوبصورتی سے سمجھاتے ہیں۔ مداہنت اور خوشامد میں کیا فرق ہے اس کے جواب میں لکھتے ہیں: "مداہنت کل ہے اور خوشامد جزو۔خوشامد اپنے کسی دنیاوی مفاد کو حاصل کرنے کے لیے کسی بااختیار شخص کی جھوٹی تعریف کرنے کو کہتے ہیں، جب کہ مداہنت میں کم از کم ایک بڑی چیز زائد ہے۔مداہنت کرنے والا اپنے مطلب کے لوگوں کی ہاں میں ہاں ملانے کا اس قدر عادی ہو جاتا ہے کہ حق اور ناحق کی بھی تمیز کھو بیٹھتا ہے یعنی خوشامد آدمی جب اپنے ممدوح کی ناجائز باتوں اور نوروافعال کی بھی تائید کرنے لگے تو خوشامد سے بڑھ کر مداہنت میں داخل ہو جاتا ہے گویا کسی کو جھوٹی سچی تعریفوں سے خوش کرنا خوشامد ہے تو غیر مشروط طور پر ہاں میں ہاں ملانا یا منہ دیکھی بات کرنا مداہنت ہے۔ "(صفحہ 159)

چونکہ کتاب کا بنیادی مخاطب امت مسلمہ بالعموم اور دین دار طبقہ بالخصوص ہے، اس لیے وہ ان کی کمزوریوں کو بھی اٹھاتے ہیں تاکہ اصلاح ہوسکے، لکھتے ہیں: " یہ ایک عام مشاہدہ ہے کہ دین دار لوگ، خصوصاً جو دین کے ظاہری مراسم پر زور دیتے ہیں، سخت مزاج اور بدخلق ہوتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کی اکثریت شقی القلب اور متکبر ہوتی ہے۔ ان میں سے بعض افراد جو عموماً اپنے طبقے کی صف اول میں نہیں ہوتے، چند غلط تصورات یا غلط فیصلوں کی وجہ سے ایک غیر متوازن شخصیت بن جاتے ہیں اور سخت مزاجی کو دین میں ترقی کا زینہ اور اپنی روحانی حفاظت کا ذریعہ سمجھ لیتے ہیں مثلاً زہد کا مطلب کج خلقی اور مردم بیزاری بن جاتا ہے اور دین پر استقامت کے ساتھ کاربند رہنے کا لازمی تقاضا ان لوگوں کی نظر میں پوری معاشرت سے منقطع ہوے بغیر پورا نہیں ہوسکتا ۔‘‘(صفحہ 106)

کتاب پڑھ کر دین اسلام کے مزاج کا پتہ چلتا ہے کہ یہ کیسے اپنے پیروکاروں کے اندر خیر خواہی پیدا کرتا ہے۔یہاں کوئی بدگمانی، حسد کینہ اور بغض نہیں۔ یہاں بحث کے بجائے مفاہمت ملتی ہے۔ اگر کوئی کسی سے اختلاف بھی کرتا ہے تو خیر خواہی کے لیے نا کہ دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے۔یہاں تجسس نہیں ملتا۔ یہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے جہاں کسی کو شک کی نگاہ سے دیکھا نہیں جاتا۔اگر اس کتاب کو کسی عملی انسان سے سبقاً پڑھا جائے تو نتائج زیادہ بہتر آسکتے ہیں۔ ضرورت ہے کتاب کے مباحث کو عام کیا جائے۔کتاب موثق حوالوں سے پُرہے اورخاص وعام کے مطالعہ کے لائق۔’تحریک اصلاحِ تعلیم(ٹرسٹ)فیصل ٹاون،لاہورسے شائع ہوئی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */