بچوں کا روزہ - ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال: آٹھ سال کی عمر کے بچوں پر روزہ فرض نہیں ہے ۔ کیا ماں باپ اس عمر کے بچوں کو زبردستی روزہ رکھواسکتے ہیں ، تاکہ ان کی عادت بنے ؟ یہ بھی بتائیں کہ روزہ کتنی عمر کے بچوں پر فرض ہوتا ہے ؟

جواب:
احکام کی فرضیت بلوغت کے بعد ہوتی ہے ، اس لیے بچوں پر روزہ فرض نہیں ۔ لیکن انہیں عادی بنانے کے لیے ان سے روزے رکھوائے جاسکتے ہیں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

مُرُوْ ااَوْلَادَکُمْ بِالصَّلاَۃِ وَہُمْ اَبْنَاءُ سَبْعٍ، وَاضْرِبُوْہُمْ عَلَیْہَا وَہُمْ اَبْنَاءُ عَشْرٍ (ابوداؤد : 495)

’’اپنی اولاد کونماز کا حکم دو ، جب وہ سات برس کے ہوجائیں اورجب وہ دس برس کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے پر ان کو مارو _"

اس حدیث میں نمازکا تذکرہ ہے ۔ دس برس کی عمر عموماً بچوں کی بلوغت کی نہیں ہوتی ہے ۔ اس عمر میں نماز کے معاملے میں ان کی طرف سے کوتاہی ہو تو ان کی تادیب کی اجازت دی گئی ہے ۔بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد نبوی میں خواتین اپنے بچوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دیتی تھیں ۔ حضرت رُبَیّع بنت مُعوّذ بیان کرتی ہیں کہ ’’ ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے ۔ پھر جب وہ بھوک کی وجہ سے رونے لگتے تو ان کے لیے روئی کے کھلونے بنادیتے تھے ، جن سے کھیل کر وہ افطار تک کا وقت کاٹتےتھے _" (بخاری ،1960 ، مسلم : 1136)

حضرت رُبَیّع کا یہ بیان عاشوراء کے روزے کے سلسلےمیں ہے ، لیکن اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایسا رمضان کے روزوں کے سلسلے میں بھی کیا جاتا رہا ہوگا ۔ البتہ اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ دینی احکام پر عمل آوری کے معاملے میں بچوں پر جبر اور زبردستی کرنے کے بجائے ترغیب و تشویق سے کام لیا جائے ، کیوں کہ بسا اوقات جبر کے ردّ عمل کے طور پر بچے بعد میں تساہل کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح ترغیب دیتے وقت بچوں کی عمر ، صحت اور موسم کی شدّت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے ۔
[ زندگی کے عام فقہی مسائل ، محمد رضی الاسلام ندوی ، مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی ، جلد چہارم ]

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com