مصنوعی ذہانت کیسے لوگوں کو کنٹرول کرے گی؟ معظم معین

سب حکومتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام بیبے بچے بن جائیں۔ اس کے لیے وہ کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں۔ چینی حکومت نے مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہوئے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کو social credit system کہا جاتا ہے جسے آپ سماجی ساکھ کا نظام کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ سسٹم ہے۔ اس میں لوگ ایک دوسرے کو ان کے برتاؤ کے لحاظ سے نمبر دیتے ہیں۔ معاشرے میں جن جن لوگوں سے انسان ملتا جلتا ہے ان کے ساتھ جیسا اس کا برتاؤ اور اخلاق ہوتا ہے۔ اس حساب سے لوگ اس فرد کو پوائنٹس دیتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے جب آپ کوئی پروڈکٹ خریدتے ہیں تو اس پروڈکٹ کو اس کے معیار کے حساب سے مختلف ویب سائٹس پر رینک کیا جاتا ہے۔ جیسے تھری سٹار فور سٹار وغیرہ۔ جیسے جب آپ اوبر پر گاڑی استعمال کریں تو ڈرائیور آپ کو کہتا ہے کہ مجھے فل سٹار دیجئے گا اس سے اس کی رینکنگ بہتر ہوتی ہے۔
اسی طرح معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کی ساکھ کو رینک کریں گے پھر اس رینکنگ کو استعمال کر کے بینک اس شخص کو قرضے دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کریں گے۔ جہاز اور ریل کے ٹکٹ کے لیے ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جن کی سوشل کریڈٹ رینکنگ بہتر ہو گی۔
اس سے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کم از کم ظاہری طور پر اچھے سے پیش آئیں گے تاکہ اپنی کریڈٹ رینکنگ بہتر رکھ سکیں خواہ دل میں کیسی ہی گالیاں دیتے رہیں۔ معاشرے میں لڑائی جھگڑا کم ہو گا تاکہ ساکھ بہتر رہ سکے۔
چین میں گزشتہ دو تین سال سے یہ نظام تجرباتی طور پر شروع کیا جا چکا ہے۔ اور اس کے تحت کئی بار ایسے لوگوں کو جہازوں کی ٹکٹ اور بینک کے قرضے دینے سے انکار کیا جا چکا ہے جن کی کریڈٹ رینکنگ اچھی نہیں تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ غلط جگہ سے سڑک پار کرنے ، پبلک مقامات پر تھوکنے ، بلند آواز سے موسیقی چلانے جیسی حرکتوں سے بھی آپ کی ریٹنگ کم ہو سکتی ہے۔ اور یہ سب کام مصنوعی ذہانت ، خود کار کیمروں اور چہرہ شناسی facial recognition ٹیکنالوجی کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ جہاں آپ نے کوئی ایسا ویسا کام کیا وہیں سڑک ہر لگے کیمرے نے آپ کے چہرے سے آپ کو پہچان کر آپ کی ریٹنگ میں منفی پوائنٹ ڈال دیے۔ اس مقصد کے لیے چین میں کروڑوں کیمرے لگ چکے ہیں اور مزید لگ رہے ہیبت پھر آپ ہر جگہ پھونک پھونک کر قدم رکھیں گے۔
ایسا بھی ہو رہا ہے کہ ادھر آپ نے کسی ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی وہیں چہرہ شناس کیمرے نے آپ کا چہرہ پہچان کر فورا بیچ چوراہے پر لگی دیو ہیکل سکرین پر آپ کا چہرہ مبارک ڈسپلے کر دیا کہ دیکھئے یہ ہیں وہ صاحب کو ٹریفک قوانین کو خاطر میں نہیں لا رہے۔ اب آپ منہ چھپاتے رہیے۔
اس نظام سے لوگ تو مارے باندھے اچھے بن جائیں گے یا نہیں وقت ہی بتائے گا۔ مگر سینکڑوں سال قبل اللہ کے رسولوں نے جو نظام دیا تھا وہ بہرحال انسانوں کو کسی face recognition ٹیکنالوجی یا artificial intelligence کے بغیر ہی ایسا با اخلاق بنا گیا کہ رہتی دنیا اس کی مثال ڈھونڈتی رہے گی۔ جب رات کے اندھیرے میں ایک سپاہی منہ چھپائے شاہ ایران کا تاج سپاہ سالار کو واپس لوٹانے آیا اگرچہ چھپانے پر کوئی اسے نہ ڈھونڈ پاتا اور اس نے اپنا چہرہ ظاہر کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ جب ایک حکم آنے پر منہ سے لگے شراب کے جام بہا دیے گئے۔ جب لوگ ایک ایک پائی کی زکوۃ ادا کرنے لگے۔ اور رات کی تاریکی میں بھی ایک لڑکی دودھ میں پانی ملانے سے انکار کرتی تھی۔ اصل فیکٹر انسانوں کے اندر آخرت کی جواب دہی کا خوف پیدا کرنا اور اپنے رب کے حضور حاضری کے احساس کو اجاگر کرنا ہے۔ اگر ایسا کر لیا جائے تو کسی ٹیکنالوجی کے بغیر بھی انسانوں کو بہترین اخلاق والا بنایا جا سکتا ہے۔ وگرنہ تمام تر ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے بھی لوگ بیماریاں بیچنے اور لوگوں کی مجبوریوں کا کاروبار کرنے والے بن سکتے ہیں اور کوئی ٹیکنالوجی ان کو نہیں روک سکتی۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */