حکومت کیا کرے اور کیا نہ کرے - پروفیسر جمیل چودھری

عمران خان چاہتے ہیں کہ لاک ڈ ائون جاری بھی رہے لیکن اس میں آسانی پیدا کی جائے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ لاک ڈ ائون ہر صوبے اور ضلع میں مختلف طرح کے ہیں۔یہ مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح کا ہے۔ گزشتہ چند دنوں یہ کہا جا رہا ہے کہ معاشی بحران وائرس کی وجہ سے انتہائ تباہ کن بن گیا ہے۔

2009 میں عالمی فی کس پیداوار میں کمی 1.9 فی صد تھی اس کے معنی تھے کہ پیداوار بڑھنے کی بجائے کم ہو گئ تھی۔اب عالمی ادا روں کا اندازہ موجودہ مالی سال میں 4.2 فی صد کا ہے ۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشی حالات 2009 کی نسبت دوگنے خراب ہیں۔اور مزید خراب ہونے کا امکان ہے ابھی تو خرابی شروع ہوئ ہے ۔ختم نہی ہوئ۔چند دن پہلے عالمی بنک نےایک علاقائی رپورٹ شائع کی اس میں جنوبی ایشیاء کا تجزیہ تھا ۔اس میں پاکستان کیلئےسالانہ کمی 2.2 فیصد بتائی گئ ہے۔ہمارے اپنے گورنر اسٹیٹ بنک نے پیداوار کی کمی کا اندازہ1.5فیصد لگایا ہے یہ کمی جان بوجھ کر کم ظاہر کی گئ ہے۔ عالمی بنک نے ہمارے آنے والے سال کیلئے بھی کمی کا اندازہ 1 فیصد لگایا ہے ۔یہ تمام کے تمام اندازے ہیں کیو نکہ تباہی تو ابھی جاری ہے۔

ختم ہونےکا کسی کو کچھ پتہ نہی ہے۔اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے پاکستانی لیبر کا گھروں میں لمبے عرصے تک بیٹھنا ممکن نہی ہے۔حکومت اور دیگر فلاحی ادارے کب تک غریبوں کو راشن پہنچاتے رہیں گے؟وگوں کو اپنے آپ کو وائرس سے بچانا بھی ہے اور کمانا بھی ہے ۔عمران خان نے اگر لاک ڈ ائون میں نرمی کرکے کچھ کاروبار کو کھو لا ہے تو وہ اپنے لوگوں کی مشکلات کو بہت اچھا طرح جانتےہیں۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے مہنگائی کا اندازہ 11 سے 12 فیصد لگایا ہے۔شرح سود اب 9 فیصد کردی گئ ہے۔یہ کاروباری لوگوں کا پرانا مطالبہ ہے۔کاروبار چاہے چھوٹے ہوں یا بڑے انہیں لمبے عرصے تک بند نہی رکھا جا سکتا۔کاروبار پر جانے والے تمام لوگوں کی تربیت ضروری ہے۔کارکن ماسک اور دستانے استعمال کریں اور مناسب فاصلے بھی رکھیں۔

کام بھی کریں اور احتیاط بھی رکھیں۔ذمہ داری اب دوہری ہوگئ ہے۔صنعتکاروں سے یہ بھی کہا جارہا تھا کہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ ادا کرہیں۔یہ ادائیگی بھی ذیادہ دیر تک مشکل تھی ۔کارخانے میں کام ہوگا اشیاء پیدا ہونگی اور فروخت ہونگی اسی صورت میں ادائیگیوں ہو سکتی ہیں ۔پورے سرکل سے بات بنانی تھیوزیر اعظم کے لکھے ہوئےخط نےعالمی اداروں کو قرضوں میں سہولت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ G20گروپ کے اجلاس میں ملکوں کی مدد کا اعلان ہو گیا ہے روایتوں کا اطلاق یکم مئ سے ہو جائے گا۔تمام دنیا مسئلہ کی شدت کو سمجھ رہی ہے۔ہمارے ملک کے حکمرانوں نے مودی جیسی غلطی نہیں کی وہاں لاک ڈ ائون کا اعلان بغیر سوچے سمجھے کیا گیا دوسرے شہروں اور ملکوں کے لوگ بہت ذلیل ہوئے۔

ہمارے ملک میں ہر روز مشورے سے فیصلے ہو رہے ہیں۔اگر کارخانے اور کاروبار بند رہتے ہیں تو ٹیکس بھی کم اکٹھا ہوگا ابھی اپریل کے آخری دن ٹیکسوں کی درست صورت کا پتہ چلے گا۔ ملک کے اندر کاروباری لوگ قرضوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہمیں یہ بالکل وہی صورت حال ہے جیسے غریب ملکوں کی ۔کرو نا وائرس نے پوری دنیا کے حالات مکمل طور پر بدل دیئے ہیں ۔دنیا کو سمجھنے کیلئے نیا اندازاپنانا ضروری ہوگیا ہے۔ حکومت پاکستان نے چین سے سی پیک تحت لگے بجلی کے منصوبوں پر بات کی ہے کہ ان کے قرض ختم کئے جائیں۔

ملک کے اندر ان کمپنیوں سے بھی بات ہورہی ہے جنہوں نےکئ دہائ پہلے بجلی پیدا کرنے کے کارخانے لگائے تھے ۔تب فی یونٹ قیمت ذیادہ طے کی گئ تھی ان کی قیمتوں کی وجہ سے سر کاری خزانے پر بڑا بو جھ ہے۔حکمت کیلئے مسئلہ بڑا پیچیدہ ہےسرکاری مسئلہ کو حل کرنے کیلئے مزید ذہین اور تجربہ کار لوگوں کی اشد ضرورت ہے۔لاک ڈ ائون میں سہولیات بھی ضروری ہیں اور وائرس سے بچاؤ بھی ضروری ہے۔ملک کے ذہین لوگ حکومت کومشورے دیں۔تاکہ حکومت دونوں محاذوں پر صحیح انداز سے لڑ سکے ۔حکومت پر مخالفوں انداز سے گفتگو کا یہ وقت نہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */