مسلمان اور مغربی تہذیب - عاصم رسول

یہ ہے ۱۲۰ صفحات پر مشتمل کتاب کا نام، جسے ناچیز نے آج دو نشستوں میں پڑھ لیا۔ یہ دراصل سعودیہ کے سلفی عالم دین شیخ سفر الحوالی کی تصنیف ہے۔ کتاب کا اصلی عربی نام "المسلمون و الحضارة الغربیه" ہے۔ کتاب اگرچہ بہت ضخیم ہے اور ۳۰۶۹ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔

تاہم اس کا مقدمہ پوری کتاب کا نچوڑ پیش کرتا ہے جو از خود سینکڑوں صفحات کا خلاصہ ہے۔مقدمہ میں فاضل مصنف نے اسلامی تہذیب کی خصوصیات و پاکیزگی کو پیش کرنے کے ساتھ خود مغرب کے دلائل کی روشنی میں مغربی تہذیب کا بہت منصفانہ محاکمہ کیا ہے، اور ان کے تضاد کو واضح کیا ہے۔ واقعہ یہ کہ اس حوالے سے موصوف نے مقدمہ میں مغربی مفکریں کے اتنے اقوال اور اقتباس پیش کیے ہیں کہ اندازہ ہوتا ہے کہ بزرگ مصنف نے کس قدر عرق ریزی سے کام لیا ہوگا۔

واضح رہے کہ اس کتاب کا آخری حصہ جو تقریناً ۵۰۰ صفحات پر مشتمل ہے وہ کتاب کی جان ہے، اس میں انہوں نے راز ہائے بستہ سے پردے اٹھائے ہیں اور سعودیہ کے مغرب نواب شہزادوں کو آئینہ دکھایا ہے۔ مگر عیش پرست حکم ران اصلاح کیا کرتے انہوں نے شیخ کو ہی جیل خانے میں بند کر دیا اور وہ اس وقت دوسرے حق گو سلفی علما مثلا سلمان عودہ اور عائض القرنی وغیرھم کے ساتھ پابند سلاسل کردیے گئے ہیں۔ اور قید و بند کی وجہ یہی کتاب بنی ہے۔

کتاب کی اہمیت کے حوالے سے مترجم لکھتے ہیں:اگر حسن البنا، سید قطب، علامہ اقبال، مولانا مودودی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی جیسے اصحاب علم و عزیمت اورحساس دل رکھنے والے علماء اور مغرب کی بالادستی کا انکار کرنے والے داعیان و مفکرین اور مغرب کے ناقدین موجود ہوتے تو وہ سفر الحوالی کے قلم کو چومتے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرتے۔ مجھے کہنے دیجئے کہ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین، اور الصراع بین الفکرۃ الاسلامیۃ والفکرۃ الغربیۃ جیسی کتب اس ضخیم ترین کتاب کا مقدمہ ہیں، اور یہ کتاب ان جیسی کتابوں کا تکملہ ہے، اس میں معاصر تاریخ کے دستاویزی ثبوت جمع کردیے گئے ہیں۔

اس میں مسلم حکمرانوں کوآئینہ دکھا یا گیا ہے، اس میں مسلمانوں کے مواقف، عربوں کی روش اور مغرب کے دام میں گرفتار ہونے کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کتاب کے بہت سے مندرجات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر یہ بھی واقعہ ہے کہ معاصر اسلامی مسائل اور عالمی سیاست پر گفتگو کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کتاب کا بغور مطالعہ کریں“(صفحہ نمبر ۲۴)

مملکت سعودیہ جو تہذیبِ اسلامی کی محافظ ریاست ہے اور جس پر اسلامی اخلاق و اقدار کے فروغ کی اولین ذمہ داری بنتی ہے اور جو الحمد للہ اس تعلق سے کافی سرگرم رہی ہے تاہم شاہ سلمان کے مسند آرا ہونے کے فوراً بعدکچھ ایسی تبدیلیاں عمل میں لائی جارہی ہیں جو شریعت اسلامی سے میل نہیں کھاتیں۔ چناں چہ مقدمہ میں مصنف لکھتے ہیں:

”سعودی ذمہ داروں نے اعلان کیاہے کہ وہ سنیما گھروں کے قیام کے لیے ۶۵ ارب ڈالر یعنی تقریبا ۳۰۰ ارب ریال خرچ کریں گے، حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ یہ سرمایہ جہاد کی تیاری اور بے روزگاری کے ازالہ کے لیے خرچ کیا جاتا، اس سرمایہ سے اسکول اور ہسپتال بنائے جاتے، ہم لوگ ان خدمات کے میسر نہ ہونے سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، بلکہ بعض علاقوں میں تو یہ سہولیات ہیں ہی نہیں، وژن ۲۰۳۰ تک حکومت کے بیان کے مطابق ان سینیما گھروں کی تعداد ملک میں ۳۰۰ سے زائد ہوگی“(صفحہ نمبر ۳۵)

مصنف نے مغربی فکرو فلسفہ پر منطقی اورغیر جذباتی تنقید کی ہے اور مغربی کے اپنے مصنفین اور مفکرین کے اقوال سے استشہاد کیا ہے۔ نمونے کے طور کچھ کا تذکرہ کرنا بے جا نہ ہوگا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

فرانسیسی مفکر Roger Garaudy، جس نے بعد میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام رجاء رکھا،مغربی تہذیب کو فرعونیت سے تعبیر کرتا ہے وہ کہتا ہے ”ایک طرف تم لوگ یہ دعوی ٰ کرتے ہو کہ زمین تمام لوگوں کو کھلانے کی اہل نہیں، تو پھر دوسری طرف امریکہ یہ زبردستی کیوں کرتا ہے کہ 15 %زمین بغیر کھیتی کے چھوڑ دی جائے تاکہ اس کے گیہوں کی قیمت علی حالہ باقی رہے۔

رجاء کی بات یوں بھی سچ معلوم ہوتی کہ امریکہ کے اپنے مادی اہداف ہیں، اس کے منافع بڑے زبردست ہوتے ہیں، بلکہ ہر طرح کے منافع کے لیے اس کے مقدمات ہوتے ہیں (یعنی وہ پہلے سے پیش بندی کرتا ہے)، سابق سعودی وزیر زراعت نے کہا”مجھ سے امریکی وزیر زراعت نے کہا کہ تم لوگ اپنی گیہوں کی مکمل پیداوار کو روک دو، امریکہ اس کے لیے تیار ہے کہ تم کو اس وقت جس قیمت میں گیہوں دے رہا ہے اس کی آدھی قیمت میں فراہم کرے گا، میں اس وزیر زراعت کو جانتا ہوں جبکہ وہ ریاض کے ایگزیکلچر کالج کا پرنسپل تھا“(صفحہ نمبر۶۴)

مغربی معاشرے کی مجرمانہ ذہنیت کے بارے ایک جگہ لکھتے ہیں:”مغربی معاشرے میں جرم کے اندر جرم کے ارتکاب کے لیے کوئی ایسا محرک نہیں ہوتا جس طرح پچھڑے ہوئے معاشروں میں ہوتا ہے، بلکہ ارتکاب جرم کے پیچھے محض یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی جرم انجام دے جس کا پولیس پتہ نہ لگا سکے، چنانچہ مجرم صرف پولیس کو گمراہ کرنے یعنی اس کو چکمہ دینے کے لیے جرم کرتا ہے، یہی اس کے ارتکاب جرم کا محرک ہوتا ہے، اور اسی میں اس کو لطف آتا ہے“(صفحہ نمبر ۶۶)

مغربی فلسفوں کے مطابق انسان کی مختلف حیثیتیں ہیں وہ ان حیثیتوں میں سب کچھ ہوتا ہے مگر انسان نہیں ہوتا اور اس مقصد حیات کو پورا کرنے والا نہیں ہوتا جس کے لیے خالق نے اشرف المخلوقات کا تاج اس کے سر پر سجایا تھا، نہایت پر زور انداز میں مصنف ایک جگہ لکھتے ہیں:

مسلم شخص صرف ایک اقتصادی انسان(کماؤ بیل) نہیں، جیسا کہ ایڈم اسمتھ Adam Smithیا ڈیوڈ رکارڈوDavid Recardoکا خیال ہے، نہ ایک مسلمان انسان کی شکل میں بھیڑیا ہوسکتا ہے جیسا کہ تھامس ہوبز Thomas Hobbesکا خیال ہے، نہ ہی وہ اخلاقیات سے عاری انسان ہے جیسا کہ میکاؤلی کا نظریہ ہے، نہ ہی وہ جنس پرست ہے جیسے کہ فرائڈSigmand Friedکا نظریہ ہے، نہ ہی وہ مارکسزم کے مطابق محض پیٹ کا بندہ ہے جو کہ معدہ اور آنتوں کا مرکب ہو اور اسی کے لیے جیتا ہو، نہ ہی وہ محض صارف ہے جو اپنی پوری عمر لبرلزم کے مطابق سیروسیاحت اور عیش و عشرت میں گزار دے۔

مسلمان تو ان تمام نظریات و فلسفات سے بالاتر ایک منفرد انسان ہے، جس میں مٹی کا مادہ ہے اور اللہ کی ڈالی ہوئی روح ہے، جو ثابت شدہ اخلاقیات، عقل اور معیار کا پیکر اور پابند ہے، وہ جہاں بھی جائے اور جہاں بھی رہے اسے اللہ کا بندہ ہونے کا استحضار رہتا ہے، یہی وہ تصور ہے جو اس کو ایک منفرد وجود اور مطلق آزادی فراہم کرتا ہے“(صفحہ نمبر ۷۱)

دراصل مصنف مغرب کی حقیقی تصویر دکھا کر عالم عربی خصوصاً مملکت سعودیہ کو مغرب نوازی سے باز رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ انہوں نے زورِ قلم اس پر صرف کیا ہے کہ مغربی تہذیب کو مستدر کرنا اور اسلامی تہذیب پر اعتماد کرنا ہی کامیابی کی کلید ہے۔ مقدمہ میں امریکہ ایک عیسائی مذہبی ریاست اور دہشت گردی کے متعلق بھی بہت کچھ لکھا اور رقم کیا گیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کتاب کا مقدمہ بہت پُر زور اور طاقت ور ہے۔ جسے ڈاکٹر محمد طارق ایوبی ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اردو دان طبقہ اس پر ڈاکٹر صاحب کا بے حد شکر گزار ہے اور ہم ندوی صاحب سے گزارش کرتے ہیں کہ پوری کتاب کا اگر ممکن نہیں تو کم از کم اس کتاب کے اہم ابواب کا اردو میں ترجمہ کرکے خیر دارین حاصل کریں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */