خیرات مانگنے کی بجائے ، بچت کیجئے - محمد عاصم حفیظ

وزیر اعظم عمران خان نے کرونا بحران سے نکلنے کے لئے فنڈ قائم کر دیا ہے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور ملک کے اندر مخیر حضرات سے تعاون کی اپیل کی کئی ہے ۔ حکومت اس فنڈ کو مستحق افراد کے لئےراشن کی فراہمی ، بے روزگار ہو جانیوالوں کی امداد اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال کرے گی ۔

حکومتی سطح پر اس طرح کا ریلیف فنڈ قائم ہونا اچھی بات ہے لیکن ذرا ٹھہرئیے کیا حکومت خود بھی کرونا کی مصیبت سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ ہے ؟ کیا صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کرکے اور موبائل فون کمپنیوں کے دس بیس روپے والے میسجز سے فنڈز اکھٹے کرنا ہی کافی ہے ؟اگر تو حکومت واقعی غریب ، مستحق اور بے روزگار ہوجانیوالوں کی مدد کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرے ۔ اس وقت ملکی تاریخ کی سب سے بڑی وفاقی و صوبائی کابینہ موجود ہیں ۔ ہر وزیر کے ساتھ سٹاف اور مراعات کی مد میں اربوں روپے ماہانہ خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ حکومت یا تو کابینہ مختصر کرے یا پھر وزراء کے اخراجات اور مراعات ، پروٹوکول کو کم سے کم ایک سال سال کے لئے ختم کر دیا جائے ۔ اس سے اربوں کی بچت ہو گیرکان اسمبلی اپنے انتخابات پر کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں ، ان کو تنخواہوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔

اس کے علاوہ سفری اخراجات ، فضائی مفت ٹکٹ اور دیگر مراعات ان کو ملتی ہیں ، ان کو ختم کرکے بھی اربوں روپے بچا کر کرونا فنڈ میں لگائے جا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ اعلی افسران کی مراعات ، پروٹوکول پر ہر روز کروڑوں روپے ضائع ہو جاتے ہیں ۔ ان کو فوری طور پر روک دینا چاہیے ۔حکومت فنون لطیفہ ، ڈانس ، کلچرل سرگرمیوں ، ناچ گانے کے فروغ اور ان تقریبات کے انعقاد کے لئے ہر سال بجٹ میں اربوں روپے رکھتی ہے ۔ اس کے باقاعدہ محکمے اور ادارے قائم ہیں جو کہ ان فنڈز کو استعمال کرتے ہیں ۔ انہیں فوری روک کر یہ رقم مستحق افراد کو راشن فراہم کرنے پر لگانی چاہیے کیونکہ ایسے وقت میں ان کلچرل اور فنون لطیفہ کی سرگرمیوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ لوگوں کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔

اسی طرح تعلیمی ادارے سکولز ، کالجز اور یونیورسٹیاں، محکمے ، سرکاری سطح پر بہت سے دفاتر اپنے طور پر بھی تفریح اور اسپورٹس کے نام پر ہر سال مجموعی طور پر اربوں روپے استعمال کرتی ہیں ۔ حکومت کو چاہیے سب اداروں اور محکموں سے تفریح اور سپورٹس کا فنڈ واپس لیا جائے اور اسے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے ۔ ایک سال ناچنا گانا ، ڈانس اور میوزک نہ بھی ہو گا تو گزارا ہو جائے گا لیکن کھانا تو روز کھانا ہوتا ہے اور اگر اس صورتحال سے کسی کی جان چلی گئی تو ہم سب مجرم ہوں گےاسی طرح سجاوٹ ، جشن بہاراں ، سال نو اور دیگر کئی مواقع پر سرکاری سطح پر اخراجات ہوتے ہیں ان کو بھی فوری روک کر اس فنڈ میں رقم شامل کرنی چاہیے ۔

جب حکومت خود بچت کرے گی اور سنجیدگی دکھائے گی تو یقنا باقی لوگ بھی دل کھول کر تعاون کریں گے لیکن اگر ایک طرف شاہانہ اخراجات جاری ہوں ، پروٹوکوں اور سکیورٹی کے نام پر قومی دولت لٹائی جا رہی ہو ، غیر ضروری مراعات اور فنڈز خرچ کئے جا رہے ہوں ، جشن بہاراں ، کلچرل سرگرمیوں ، میوزک و ڈانس کے نام پر تقریبات منعقد کی جا رہی ہوں تو دوسری جانب عوام سے مدد کی اپیل بلکل ہی بے اثر رہے گی ۔حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اس بارے غور کرے ورنہ یہ مہم کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہو گی اور خدانخواستہ کرونا بحران کسی بڑے انسانی المیے کو جنم نہ دے دے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */