ٹائیگر فورس کی بجائے بلدیاتی انتحابات - ذیشان نور خلجی

حکومت نے لاک ڈاؤن میں اکیس اپریل تک کی توسیع کر دی ہے۔ لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بات اس سے بھی آگے بڑھ جائے گی۔ جب کہ پہلے ہی تین ہفتے بیت چکے ہیں گھروں میں بند ہوئے۔

دنیا کے باقی ممالک کو صرف کرونا وائرس کا ہی سامنا ہے جب کہ ہمیں ساتھ ایک مختلف قسم کی صورتحال بھی در پیش ہے۔ گو اللہ کا شکر ہے یہاں وباء اس تیزی سے نہیں پھیلی لیکن اب عوام کو بھوک اور غذائی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ کیوں کہ پاکستانیوں کی اکثریت جس کلاس سے تعلق رکھتی ہے وہ زیادہ تر دیہاڑی دار افراد پر مشتمل ہے جو کہ روزانہ کی بنیاد پہ کماتے ہیں تب ہی ان کا چولہا جلتا ہے۔ ان میں چھابڑی فروش، ریڑھی بان، فیکٹریوں کی لیبر وغیرہ شامل ہے۔ اور یہ بات بہت حوصلہ افزاء ہے کہ ان افراد کی مدد کو محلے اور گاؤں کی سطح پر مخیر حضرات نے اپنی سی کوششیں کیں۔ لیکن اب تین ہفتے بیت چکے ہیں اور قدرے خوشحال گھرانے بھی، جنہیں ہم مڈل کلاس یا سفید پوش طبقہ کہتے ہیں مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔

چونکہ ان لوگوں کی واحد متاع عزت ہوتی ہے تو یہ لوگ اس کا بھرم رکھتے ہوئے کسی کے آگے جھولی نہیں پھیلا سکتے۔ بلکہ بسا اوقات ان کے قریبی لوگ بھی نہیں جان پاتے کہ یہ بھی مستحقین میں شامل ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ ان لوگوں کی مدد بھی ہو جائے اور بھرم بھی نہ ٹوٹے۔اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ایک اچھا قدم اٹھایا ہے ٹائیگر فورس کے قیام کا۔ لیکن اس بارے کچھ تحفظات بھی سامنے آتے ہیں۔اول: جو لوگ اس میں شامل ہوں گے وہ کوئی تربیت یافتہ تو نہیں ہوں گے۔ لہذا ان کو ڈھنگ سے چلانا بھی حکومت کے لئے ایک چیلنج ثابت ہوگا۔دوم: نفسا نفسی کا عالم ہے اور ساری حکومتی مشینری کرونا وائرس کی روک تھام میں لگی ہے۔ لہذا حکومت کے لئے یہ بھی ایک چیلنج سے کم نہ ہوگا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فورس میں شامل ہونے والے افراد واقعی ہی رضا کار ہیں۔

کیوں کہ یہ امکان خارج از قیاس نہیں کہ تخریب کار عناصر بھی فورس کی آڑ لے کر اپنی سر گرمیاں انجام دیے سکتے ہیں۔سوم: مشکل کی اس گھڑی میں ایک بہت بڑے فنڈ کی ضرورت ہے۔ سو اس کا اکٹھا کرنا بھی حکومت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔میری رائے ہے ایسے میں حکومت اگر گھروں میں بیٹھے محمکہ تعلیم کے افراد اور بارکوں میں بیٹھے پاک فوج کے جوانوں کو استعمال میں لائے تو یہ زیادہ سود مند ہوگا۔اول: یہ لوگ ایسے معاملات میں نسبتاً تجربہ کار ہیں۔ اور ویسے بھی ان افراد کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔دوم: ان کا سارا ریکارڈ پہلے ہی سرکار کے پاس موجود ہے۔ لہذا تخریب کار عناصر کے شامل ہونے کی گنجائش ہی نہیں بچے گی۔سوم: فنڈز کی کمی دور کرنے کے لئے پہلے سے موجود ڈیم فنڈ کے اربوں روپے کو استعمال میں لایا جائے۔ اور اس سے حکومت کا اعتماد بھی بحال ہو گا جو کہ اسی ڈیم فنڈ کی بدولت مسخ ہو چکا ہے۔

اور عوام ایک دفعہ پھر سے اعتبار کرتے ہوئے مزید فنڈز دیں گے۔لیکن ان سب جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے اگر حکومت بلدیاتی انتحابات کا اعلان کر دے تو اس سے بہت زیادہ فائدہ لیا جا سکتا ہے۔ اور حکومت کی توجہ بھی وائرس سے نہ ہٹے گی۔ الٹا عوامی نمائندے بوجھ اٹھانے کو سامنے آ جائیں گے۔ اور اس کے لئے بہت سادہ سا لائحہ عمل اپنایا جائے۔اول: پچھلے الیکشن میں جو وارڈز اور یونین کونسلز کی حلقہ بندی کی گئی تھی اسے برقرار رکھا جائے۔دوم: امیدواران سے صرف آن لائن درخواستیں ہی وصول کی جائیں۔سوم: انہیں پابند کیا جائے کہ الیکشن مہم چلانے کی صرف ایک ہی صورت ہوگی کہ اپنی اپنی وارڈز کے گھروں میں ذاتی جیب سے راشن پہنچایا جائے۔ اس کے علاوہ نہ تو جلسہ منعقد ہو سکے گا نہ ہی کوئی عوامی اکٹھ۔ بلکہ راشن کی تقسیم کے لئے بھی اجتماع کی اجازت نہ ہوگی۔

اور پھر جب کرونا وائرس کی آفت سے جان چھوٹ جائے تو فی الفور انتخابات کروا دیے جائیں۔اس اقدام سے حکومتی بوجھ بٹ کر بلدیاتی امیدواروں کے کندھوں پر آ جائے گا اور عوام کو بھی حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا۔ اور وباء کے بعد بلدیاتی الیکشنز کے انعقاد سے حکومت بھی اپنے فرض سے سبکدوش ہو جائے گی۔قارئین ! اگر اس مشورے پہ عمل کر لیا جائے تو پھر چاہے لاک ڈائون مہینوں طویل ہوجائے عوام بھوکے نہیں مریں گے۔ ورنہ اس ٹائیگر فورس کے فنڈز آخر کتنے عرصہ تک عوام کا پیٹ بھر سکیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com