لوگ ٹائیگر فورس کے منتظر ہیں - سجاداحمدشاہ کاظمی

بالخصوص نوجوان طبقہ سیاسی مخالفین کو برداشت نہیں کرتا، سیاسی تعصب نوجوانوں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، لہذہ سوائے تحریک انصاف کے متوالے نوجوانوں کے کوئی اس فورس کا حصہ نہیں بنے گا۔ اسکی بڑی وجہ فلاحی مشن کو وزیر اعظم کی طرف سے مخصوص نام (ٹائیگر فورس) دینا ہے۔

اسی لئے تحریک انصاف کے خلاف اپوزیشن کے ساتھ منسلک لوگوں نے بھی اپوزیشن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹائیگر فورس کو مسترد کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیرعظم عمران خان صاحب جب تک ٹائیگر فورس کو مکمل طور پر فحال کریں گے، تب تک شاید لاک ڈاؤن سے متاثرہ لوگ دل برداشتہ ہو کر روڈوں پر آ جائیں گے۔ لوگوں کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ شاید وزیراعظم عمران خان صاحب اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل پیرا ہیں اور ٹائیگر فورس تشکیل دیکر پارٹی کارکنان کو متحرک کرنا چاہ رہے ہیں۔ بہر حال یہ سب افوائیں یا لوگوں کی قیاس آرائیاں ہو سکتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کڑے وقت میں کوئی فورس تشکیل دینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہ تھی، وزیراعظم کو وہ کام (جو ٹائیگر فورس سے لینا چاہ رہے ہیں) لاک ڈاؤن کے دنوں بلدیاتی نمائندوں، اساتذہ، ہیلتھ ورکرز اور دیگر سرکاری ملازمین (جو لاک ڈان کی وجہ سے چھٹیوں پر ہیں) سے لے سکتے تھے۔ اسطرح ٹائیگرز کے یونیفارم، تربیتی عمل، مراحات، تنخواؤں اور آمد و رفت پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے بچا کر امدادی پیکج میں شامل کئے جا سکتے تھے۔ یہ سارا کام نئے سرے سے ایک نئی فورس تشکیل دینے سے گئی گنا آسان تھا، بلکہ وزیراعظم کے ہدایات جاری کرتے ہی فوری طور پر شروع ہو جانا تھا لیکن نجانے وزیراعظم کو ایسی بھی کیا سوجھی کہ باقائدہ فورس تشکیل دینے پر ہی ڈٹ گئے اور اپوزیشن کو تنقید کا موقعہ فراہم کر دیا۔

ایمرجینسی ٹاسک فورس ہی بنانا اگر ضروری تھا، تب بھی ’’ٹائیگر اور فورس‘‘ جیسے قابل اعتراض الفاظ کے بجائے کسی ایسے نام کا انتحاب کرتے کہ جو کم از کم سیاسی تاثر سے پاک ہوتا اور یہ مشن پولیٹی سائز ہونے سے محفوظ رہ پاتا۔ اب اپوزیشن کے منہ پر ہاتھ رکھا جا سکتا ہے نہ ہی سوشل میڈیا سیلز کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، ہر مخالف پارٹی کا سوشل میڈیا سیل اور مخالف صارفین، وزیراعظم کے فوت شدہ کُتے ( جس کا نام ٹائیگر تھا) کی تصاویر شیئر کر کے تحریک انصاف کے کارکنان کا منہ چڑا رہے ہیں۔ کچھ لوگ اس فورس کی تشکیل کو آئین کے آٹیکل دو سو چھپن کی خلاف ورزی بتاتے ہیں، اور کچھ کے نزدیک یہ فورس تشکیل دے کر اس کے ذریعے صرف تحریک انصاف کے مخصوص لوگوں کو نوازنا اور تحریک انصاف کو ووٹ نہ دینے والوں کو محروم رکھنا ہے۔

جو ہونا تھا سو وہ ہو گیا، ویسے بھی وزیراعظم دھن کے پکے آدمی ہیں، انہوں نے جو کرنا ہو بس کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخر کب تک ٹائیگر فورس مکمل طور پر آپریشنل ہو گی اور کب تک ٹائیگرز سیفٹی کٹس، راشن، نقدی اور دیگر ضروری امدادی پیکج کندھوں پر اٹھائے مستحقین کے دروازوں پر دستگ دیں گے؟ لوگ اس بابت ٹائیگر فورس کا انتظار کر رہے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */