امداد مستحقین تک پہنچ جائے گی - حبیب الرحمن

اس میں کوئی شک نہیں کہ امداد دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے کہ جن ہاتھوں (ٹائیگر فورس) سے یہ امداد تقسیم ہو رہی ہے وہ خود صرف "رضاکار" ہی ہونگے۔

اگر ایسا نہیں ہوا اور ان میں وہ افراد بھی شامل ہو گئے جو خود امداد کے مستحق ہونگے یا ان کے ضمیر اتنے بیدار نہیں ہونگے کہ وہ اپنی خواہشات پر بند باندھ سکیں تو پھر اس تقسیم ہونے والی امداد کا حقیقی مستحقین تک پہنچنا ممکن نہ رہے گا اور امداد بانٹنے والے ہاتھوں میں پڑے بڑے بڑے چھید تقسیم ہونے والی امداد کو آخری سرے تک پہنچانے سے پہلے ہی راستے میں بہاتے اور گراتے چلے جائیں گے جس کی وجہ سے اصل مستحقیقن تک امداد کے چند قطرے ہی پہنچ پائیں گے۔

ایک بات تو ابھی تک یہ بھی واضح نہیں کہ جس امدادی رقم کا اعلان کیا گیا ہے اور جس کو ایسے مستحقیقن تک پہنچانا ہے جو اس لاک ڈاؤن کے نتیجے میں گھر میں قید ہو کر دو وقت کی روٹی کو بھی ترس گئے ہیں، اس میں دیگر اخراجات شامل ہیں یا اس کیلئے الگ فنڈ مختص کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر امداد 100 روپے ہے تو کیا یہ 100 کے 100 پورے تقسیم کئے جانے ہیں یا اس میں ترسیل کے سلسلے میں جتنے لوازماتی اخراجات ہونگے وہ بھی شامل ہونگے۔ اگر ان 100 روپوں میں ٹائیگر فورس کی وردیاں، ان کی تنخواہیں، راشن کی صورت میں پیکنگ کے سامان سمیت دیگر اخراجات اور اس کو مستحقین کی دہلیز تک پہنچانے کے سلسلے میں کرائے کی گاڑیوں اور پیٹرول وغیرہ کے اخراجات بھی شامل ہیں تو پھر اعلان کئے گئے 100 میں سے شاید 50 روپے بھی مستحقین تک نہ پہنچ سکیں اور امداد فراہم کرنے کے جو مقاصد ہیں وہ اس شکل و صورت میں حاصل نہ ہو سکیں جو حکومت حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔

کسی امداد کو کسی مستحق تک پہنچانا کوئی آسان کام نہیں اس لئے کہ پاکستان میں غربت کے ساتھ ساتھ بے ضمیری اتنی زیادہ ہے کہ جس کا شمار ممکن نہیں۔ کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جس کو فوری ضرورت تو صرف ایک وقت کے کھانے کی ہو اور وہ اپنا پیٹ بھر کے بعد باقی بچاہوا کھانا آگے بڑھادے، اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جتنے وقت کا کھانا بھی جمع کر سکے کر لے بیشک اس کے سامنے کئی بھوکے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر ہی کیوں نہ رہے ہوں۔جہاں جہاں بھی مستحقین کو امداد پہنچائی جا رہی ہے وہاں وہاں اسی قسم کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ جسمانی لحاظ سے مضبوط اور قوی افراد اپنے زور پر کئی کئی پھیرے لگا کر امدادی اشیا لوٹ لیتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ امدادی اشیا ہوں یا نقد رقم کی تقسیم کا معاملہ، اتنا سہل نہیں جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔

حکومت بار بار ان افراد کا ذکر کرتی دکھائی دی ہے کہ وہ دہاڑی دار مزدور جس کی دو وقت کی روٹی کا انحصار روز کی مزدوری پر ہی تھا، وہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں بے روزگار ہوجانے کی وجہ سے حقیقی امداد کا مستحق ہے۔ حکومت کا کہنا بالکل بجا ہے لیکن جس وقت امداد تقسیم کی جا رہی ہوگی، اس بات کا کیسے پتہ چل سکے گا کہ امداد لینے والوں میں وہی افراد ہیں جو روز کما کر روز گزارا کرنے والوں میں سے ہیں؟۔ملوں یا کارخانے والوں کا ریکارڈ تو بلا شبہ کہیں نہ کہیں درج ہوگا لیکن جو ہر صبح منڈیوں، بازاروں یا سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر آکر اس آسرے پر بیٹھ جایا کرتے تھے کہ شاید کوئی ان کی قسمت کا دروازہ بھی کھٹکھٹانے والا آ جائے، کیا پاکستان کے کسی ادارے کے پاس ان کا بھی کوئی ریکاڑڈ موجود ہے؟۔

یہ سب افراد تو وہ ہیں جو پھر بھی ظاہری آنکھوں سے نظر آنے والوں میں شامل ہیں لیکن وہ بہت ہی چھوٹے کاروبار کرنے والے جن میں موٹر مکینک، بینرز بنانے والے، شادی کارڈ لکھنے والے، پان چھالیہ بیچنے والے، موبائلز یا ریڈیو اور ٹی وی ریپئر کرنے والے بیشمار ایسے افراد کا گزارہ کیا روز کی دیہاڑی پر نہیں ہوتا ہوگا۔ بلکہ اگر سچ پوچھیں تو کاروبار سے وابستہ سب افراد خواہ وہ بڑے بیوپاری ہوں یا چھوٹے، ان سب کے گھر کولہا روز کی آمدنیوں پر ہی تو چلتا ہے، کیا یہ سب بنا کاروبار اپنے بیوی بچوں کا پیٹ بھر سکنے کے قابل ہو سکیں گے۔

حکومت کی نیت اور اقدامات کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں لیکن اس امداد کی تقسیم کے سلسلے میں اسے بہت ہی زیادہ آنکھیں کھلی رکھنا ہونگی اور اس بات کا جائزہ بھی لینا ہوگا کہ بانٹنے والے ہاتھوں میں بے ضمیری اور بے ایمانی کے بڑے بڑے چھید تو نہیں جو امداد کو منزل مقصود تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہوں۔ایک بات یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ہر وہ رقم جو امداد کیلئے مختص کردی جائے۔

اس میں کسی قسم کے دیگر اخراجات شامل نہیں ہونے چاہئیں تاکہ جتنی رقم یا امدادی اشیا مستحقین تک پہنچانی مقصود ہوں وہ ٹھیک ٹھیک اسی مقدار میں ان تک پہنچ سکے۔ امید ہے کہ مستحق افراد کے درست ڈیٹا سے لے کر ان تک امداد پہنچنے تک، ہر کام کی کڑی نگرانی کی جائے گی اور لاک ڈاؤن پر نہایت سختی کے ساتھ عمل کروایا جائے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */