کورونا وائرس، بلوچستان میں ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج - اقبال زرقاش

کوروناوائرس کے پھیلنے اور مریضوں کی رفتار میں اضافے کے خدشات دیگر صوبوں کی نسبت یہاں کہیں زیادہ ہیں ۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی ایک کیس کی سماعت کے دوران بلوچستان کی صورت حال کا نوٹس لیا اور ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی سامان فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے راہنما ڈاکٹر محمد ارسلان نے الزام لگایا ہے کہ بلوچستان حکومت نے ابھی تک ڈاکٹرز کو مکمل حفاظتی سامان نہیں دیا اور مسلسل جھوٹ بولا جارہا ہے انہوں نے حفاظتی سامان کی خریداری کے حوالے سے بھی کئی سوال اٹھائے ہیں اور کئی بے ضابطگیوں کی نشاندھی کی ہے اور کہا ہے کہ تین ہزار روپے کی چیز کو چالیس ہزار کی ظاہر کرکے مال بنایا جارہا ہے انہوں نے گرفتار ڈاکٹرز کی رہائی اور پولیس گردی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ بھی کیا ۔انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات کو ہوا میں اڑانے کا بھی الزام لگاتے ہوئے 533 عارضی ڈاکٹرز کو مستقل نہ کرنے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دانستہ طور پر ہمیں موت کے منہ میں دھکیلنے پر تلی ہوئی ہے ایک طرف ڈاکٹرز کو پولیس سلامی دے رہی ہے تو دوسری طرف ڈنڈے برسا رہی ہے۔

یہ رویہ قابل مزمت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ڈاکٹرز کے موقف میں وزن ہے اور وہ حق بجانب ہیں اس سے پہلے کوروناوائرس سے ڈاکٹرز کی ہلاکت کے بارے رپورٹ سامنے آئی ہیں کہ ان کے پاس پراپر حفاظتی سامان نہ تھا جس میں ینگ ڈاکٹر اسامہ کا حوالہ دیا جاتا ہے اس وقت بھی پندرہ سے بیس ڈاکٹرز کوروناوائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور پچاس سے زائد ڈاکٹرز کوروناوائرس کے شک میں قرنطینہ میں چلے گئے ہیں ایسے سنگین حالات میں ڈاکٹرز کی حوصلہ شکنی نہیں بلکہ حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ان کے ساتھ تشدد کا راستہ اپنا کر بلوچستان حکومت نے اپنی ساکھ بری طرح مجروع کی ہے ۔ میرے خیال میں بلوچستان حکومت ڈاکٹرز کے ساتھ زیادتی کے مرتکب افراد کے خلاف ایکشن کے کر ڈاکٹرز کے زخموں پر مرھم رکھے ۔

ایسے حالات میں جب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ صحت کے حوالے عدم تحفظ کا اظہار کر چکی ہو تو پھر وفاقی حکومت کو ڈاکٹرز کے جائز مطالبات مان لینے چاہیے اس میں ہی ہماری بھلائی ہے ہم مذید غفلت اور لاپروہی کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔آئے روز کوروناوائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ حکومت کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔کچھ تجزیہ نگار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ جو اعداد شمارر حکومت پیش کررہی ہے حالات اس سے کہیں زیادہ سنگین ہیں کیونکہ کوروناوائرس کے مریضوں کے ٹیسٹوں کی رفتار انتہائی سست ہے جو حالات کی سنگینی کے ادراک کو نہیں بھانپ سکتی اور اصل صورت حال آنکھوں سے اوجھل ہے۔

لہذا بروقت مثبت اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے یہ جنگ ڈاکٹرز کو ہر ممکن سہولیات اور ان کی حوصلہ افزائی کے بغیر نہیں جیتی جاسکتی ہمیں اپنے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف پر فخر کرنا چاھیے جو نامناسب حالات میں بھی قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں پوری قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں ان شاء اللہ ہم آزمائش کی اس گھڑی میں قوت ایمانی سے ڈاکٹرز کے ساتھ مل کر اس وباء کو شکست دیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com