کورونا وائرس کا علاج ، لاک ڈاؤن اور سفید پوش۔سجاداحمدشاہ کاظمی

کورونا وائرس کا کب تک مستقل علاج دریافت ہو گا؟ سائنسندان اس وباء کو شکست دینے کے لئے ویکسین ایجاد کرنے میں کب تک کامیاب ہو پائیں گے؟ اس حوالے سے تاحال کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی، البتہ برطانوی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں ایک سو بتیس ہسپعتالوں میں اگلے سات دنوں میں ایک ہزار رضا کاروں پر تجربہ کیا جائے گا ۔

اور اسکے بعد ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے مزید بتایا کہ برطانوی حکومت نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی تحقیقی مہم شروع کی ہے۔ جس میں بہترین ڈاکٹرز کی ٹیم آپریشنز کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی ہیکہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں متعدی بیماریوں اور عالمی صحت کے پروفیسر پیٹرہاربی اور میڈیکل ایپیڈیمولوجی کے پروفیسر مارٹن لانڈرے کے زیر نگرانی ویکسین کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے۔ برطانوی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ ریسرچ ترجیعی بنیادوں پر ویکسین ایجاد کرنے کے لئے کام کر رہا ہے، جس کے لئے برطانوی حکومت نے دو اعشاریہ ایک ملین پاؤنڈ ادارے کو فراہم کر دئے ہیں۔ ایک دوسری خبر کے مطابق برطانیہ اور امریکہ نے کورونا کے مریضوں کا بلڈ پلازمہ سے علاج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

البتہ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ علاج وقتی تو موثر ہو سکتا ہے مگر اس طریقہ علاج کو مستقل علاج تصور نہیں کیا جا سکتا۔ چین نے اسی طریقہ علاج کو اپنا کر کورونا وائرس جیسی عالمی وباء کو کنٹرول کیا ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے ڈاکٹر طاہر شمسی نے اس طریقہ علاج کو اپنا کر اس وباء سے متاثرہ لوگوں کا علاج کرنے کا دعوہ کیا تھا۔ ایک دوسرے پاکستانی نژاد ڈاکٹر پروفیسر جان عالم نے بھی کورونا کی دوا تیار کر لینے کا دعویٰ کیا ہے مگر تاحال وہ بھی کسی مریض پر تجربہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ انہیں اس دوا کا تجربہ کرنے کے لئے حکومتی سرپرستی اور وزارت صحت سے اجازت کی ضرورت ہے۔ بہر حال امید کی کرن نمودار ہو چکی ہے آج نہیں تو کل ضرور اس عالمی وباء کا مستقل علاج اور ویکسین عام ہو جائے گی، حالات معمول کی طرف آئین گے اور زندگی کی رونقین بحال ہو جائیں گی۔

جب تک ویکسین یا مستقل علاج دریافت نہیں ہو جاتا تب تک اس وباء کے خوف کو لوگوں کی نفسیات سے الگ نہیں کیا جا سکتا، احتیاطی تدابیر کو ترک نہیں کیا جا سکتا اور حکومتیں شدید خدشات کے باعث، معمول کے مطابق کاروبار زندگی کو بحال کرنے کی اجازت عام عوام کو نہیں دے سکتیں اور جب تک معمول کے مطابق زندگی کی رونقین بحال نہیں ہو جاتیں تب تک چھوٹے کارباری، ملازمت پیشہ اور دیہاڑی دار لوگوں کو سنگین معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان حالات کی وجہ سے شدید پریشان طبقہ کو بھی آپ دو حصوں میں تقسیم کر کے دیکھیں، ایک وہ لوگ ہیں جو باہر نکل کر کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کو ننگ و عار نہیں سمجھے، اگر سمجھتے بھی ہیں تو مجبوری میں ایسا کرنے سے نہیں کتراتے اور دوسرے وہ سفید پوش لوگ ہیں جو حالات جیسے بھی ہوں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر بھوکا رہنے کو ترجیع دیتے ہیں۔

ان سفید پوش لوگوں کو امدادی پیکج دینے والے لوگوں سے بھی ڈر لگتا ہیکہ ہمارے معاشرے میں ویڈیوز اور فوٹوز بنا کر سوشل ویب سائٹس پر اپلوڈ کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے۔ جبکہ راشن یا امدادی رقم لیتے ہوئے ان سفید پوش لوگوں کی فوٹوز یا ویڈیو عام عوام دیکھیں سفید پوشوں کو یہ بات گوارہ نہیں، لہذہ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ مظلوم، بے بس اور مجبور یہی سفید پوش لوگ ہیں۔ اسی بے بسی، مجبوری اور سفید پوشی کے پیش نظر صاحب اسطاعت لوگوں کی طرف سے کیجانے والی امداد کے پہلے مستحق یہ سفید پوش لوگ ہیں مگر انکو یہ مدد اسی صورت میں قبول ہیکہ انکی مدد خالص خدا کی رضا کیلئے کی جائے۔

اسلئے ہم سب کو اور صاحب استطاعت لوگوں کو سب سے پہلے اپنے عزیز و اقارب میں، محلے یا علاقے میں ان سفید پوش لوگوں کو تلاش کر کے انکی مدد کرنی چاہئے ۔اسکے بعد ہاتھ پھیلا سکنے والے مستحقین کو ضرور اپنی زکوات، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دینا چاہئے۔ پروفیشنل بھیکاریوں اور سستی شہرت کے لئے فوٹو سیشن کرنے والوں کی حوصلا شکنی کرنا بھی ضروری ہیکہ ان دو قسم کے لوگوں کی وجہ سے مستحقین تک ان کا حق نہیں پہنچ پا رہا اور مجبور لوگوں کی عزت نفس مجروع ہو رہی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com