کرونا کی جنگ اسلام کے سنگ - رضیہ انصاری

قارئین کرام اللہ رب العزت نے اس دنیا کو تخلیق کیا اس میں انسانوں کو پیدا کیا تخلیق انسانی کے بعد اس نے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے جو وقتا فوقتا اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے یو ں یہ سلسلہ حضرت آدم ؑ سے شروع ہوا اور اس کا اختتام آخری نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ سرکار دو عالم ﷺ پر آکر اتم ہوا گذشتہ تما م امتیں انبیاء کرام کسی نہ کسی آزمائش میں مبتلا کئے گئے ۔

گذشتہ کئی مہینوں سے ایک جنگ جو مسلسل مسلم و غیر مسلم کے ساتھ چلے آرہی ہے اس کانام کرونا ہے یہ ایک ایسا جرثومہ ہے جس نے اسلام کی تمام سپر پاور طاقتوں کو بھی بے بس کر کے رکھ دیا ہے ۔جہاں اس وبا نے ہماری معیشت ،معاشرت اور سماج پر برے اثرات ڈالے ہیں وہیں اس نے مغربی ممالک میں اسلام کا نام منوایا ہے اور وہ تمام غیر مسلم فلاسفہ ،ملحد و مستشرق اس با ت کو تسلیم کر رہےہیں کہ اسلام ہی سچا دین ہے اور اللہ ہی کی ذات برحق ہے۔اب اگر اس جرثومہ کے نام پر غور کیا جائے تو یہ یہ ان الفاظ کا مجموعہ ہے"کرونا وائرس"ک سے مراد"کرو رب کی عبادت"ر سے مراد " روزہ رکھو "و سے مراد "وضو کرو "ن سے مراد" نمازادا کرو"ا سے مراد" اللہ ایک ہے "رسے مراد "راستہ "س سے مراد "سیدھا"اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کرونا نے اپنا سکہ منوا کے ہی غیرمسلم کو رب کو تسلیم کروایا ہے ۔

یہی وہ راستہ ہے جس کی تعلیم ایک لاکھ جوبیس ہزار پیغمبر دیتے رہے۔اب اگر ہم اسلام کا نقطہ نظر دیکھیں تو ک سے مراد "کرو رب کی عبادت"ارشاد باری تعالیٰ ہے:”یٰأیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمُ الَّذِيْ خَلَقَکُمْ“"اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کروجس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا"جن و انس کی تخلیق کا مقصد بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا:”وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ والانسَ الاَّ لِیَعْبُدُوْن“یہ دونوں آیات رب کی کبریائی بیان کرتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عبادت کئے جانے کے لائق صرف اور صرف اللہ ہی ہے جو قرآن میں بار بار اس بات کو دہرا رہا کہ اس کی ہی عبادت کرو۔

ر سے مراد" روزہ رکھو"روزہ کی اہمیت قرآن و سنت دونوں سے ثابت ہےارشادِ باری تعالیٰ ہے:’"يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَي الَّذينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُون"ترجمہ: اے ایمان والو! روزہ اس طرح تم پر لکھ دیا گیا ہے (فرض کر دیا گیا ہے) جس طرح تم سے پہلے والوں پر لکھ دیا گیا تھا۔ تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (البقرہ: 183)

ایک دوسری آیت میں ان لوگوں کے متعلق حکم بیان ہوا جو روزہ رکھنے سے معذور ہیں جیسا کہ مریض،مسافر،اور کمزور افراد وغیرہ نیز روزہ کے غیر عمدی کفارہ کا تذکرہ بھی ہوا’’... فَمَنْ كانَ مِنْكُمْ مَريضاً أَوْ عَلي‏ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَ عَلَي الَّذينَ يُطيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعامُ مِسْكين...‘‘ ترجمہ: اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو جائے یا سفر میں ہو۔ تو اتنے ہی دن دوسرے دنوں میں روزے رکھے۔ اور جو اپنی پوری طاقت صرف کرکے بمشکل روزہ رکھ سکتے ہوں تو وہ فی روزہ ایک مسکین کی خوراک فدیہ ادا کریں۔( البقرہ: 184)احادیث ِ مبارکہ میں روزہ کی فضیلت۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.( بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب صوم رمضان احتسابا من اليمان، 1 : 22، رقم : 38)

’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.(نسائی، السنن، کتاب الصيام، 2 : 637، رقم : 2230، 2231)’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘ و سے مراد "وضو کرو "و ضو کی اہمیت بھی قرآن و سنت سے ثابت ہےاللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو اپنے چہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور اپنے سروں کا مسح کر لو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھولو۔ ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ تم پر تنگی کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو۔ (سورۃ المائدۃ: ۶ )

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک میری امت کو قیامت والے دن اس حال میں پکارا جائے گا کہ ان کے اعضائے وضو آثار وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔ پس جو شخص اپنی اس چمک کو بڑھانے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ایسا کرنا چاہیے۔ (متفق علیہ) البخاری (/۲۳۵۱۔ فتح)و مسلم (۲۴۶) (۳۵)۔حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے خلیلﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا۔ مسلم (۲۵۰) ۔ن سے مراد "نماز ادا کرو"نماز کی فرضیت بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے. وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَ(البقره، 2 : 43)اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔

سورہ طٰہٰ میں ارشاد خداوندی ہے :وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي(طه، 20 : 14)’’اور میری یاد کی خاطر نماز قائم کیا کرو۔‘‘احادیثِ مبارکہ میں نماز کی اہمیت حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَی خَمْسٍ. عَلَی أَنْ يُعْبَدَ اﷲُ وَ يُکْفَرَ بِمَا دُوْنَهُ. وَإِقَامِ الصَّلَاةِ. وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ. وَحَجِّ الْبَيْتِ. وَصَوْمِ رَمَضَانَ.(مسلم، الصحيح، کتاب الإيمان، باب : بيان أرکان الإسلام ودعائمه العظام، 1 : 45، رقم : 16)’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے سوا سب کی عبادت کا انکار کرنا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اﷲ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اﷲُ عزوجل، مَنْ أَحْسَنَ وُضُوئَهُنَّ وَصَلَّاهُنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُکُوْعَهُنَّ وَخُشُوْعَهُنَّ، کَانَ لَهُ عَلَی اﷲِ عَهْد أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عَلَی اﷲِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ.(أبو داود، السنن، کتاب الصلوٰة، باب فی المحافظة فی وقت الصلوات، 1 : 175، رقم :’’اﷲ تعالیٰ نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جس نے ان نمازوں کے لئے بہترین وضو کیا اور ان کے وقت پر ان کو ادا کیا، کاملاً ان کے رکوع کئے اور ان کے اندر خشوع سے کام لیا تو اﷲ عزوجل نے اس کی بخشش کا عہد فرمایا ہے، اور جس نے یہ سب کچھ نہ کیا اس کے لئے اﷲ تعالیٰ کا کوئی ذمہ نہیں، چاہے تو اسے بخش دے، چاہے تو اسے عذاب دے۔

‘‘ا سے مراد "اللہ ایک ہے"اللہ ایک ہے اس کی گواہی زمین و آسمان میں موجود ہر چیز اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دے رہی ہے۔قرآن میں مجید میں موجود سورۃ اخلاص اللہ تعالیٰ کے یکتا ہونے کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:• قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ کہہ دو وہ اللہ ایک ہے۔• اَللَّـهُ الصَّمَدُ اللہ بے نیاز ہے۔• لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔• وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔

و سے مراد " واپس آجاؤ" ر سے مراد" راستہ ہے " اور س سے مراد" سیدھا ہے"اس سے مراد یہ ہے کہ واپس آجاؤ سیدھے راستے پر اب وہ سیدھا راستہ کون سا ہے اس کا ذکر قرآن پاک کی پہلی سورۃ الفاتحہ کی پانچویں آیت اھدنا الصراط المستقیم جب انسان یہ دعائیہ کلمات ادا کرتا ہے تو ساتھ ہی وہ کہتا ہے قرآن میں موجود ہے:صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا نہ ان لوگوں کا راستہ جن پر غضب ہو اور نہ گمراہوں کا۔(سورۃ االفاتحہ:7)اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کرونا نے جہاں منفی اثرات ڈالے ہیں ۔

اسلام کی بابت میں اس نے اپنا سکہ منوا چھوڑا ہے ۔ہمارے انبیا ء کرام بھی اپنی امتوں کو یہی درس دیتے رہے کہ اللہ ایک ہے اسکی عبادت کرو ،نماز پڑھو ،روزے رکھو، سیدھے راستے پر چلو اور حالیہ علماء و مشائخ بھی یہی تعلیمات دے رہے ہیں ۔ اور کرونا جن الفاظ کا مجموعہ ہے وہ بھی یہی پکار پکار کہ کہہ رہا ہے۔سمیرے بہن بھائیوں عزیزان گرامی ابھی بھی وقت ہے اپنے رب کو منا لو استغفار کرلو کہیں دیر نہ ہو جائے ۔اللہ پاک امتِ محمدیہ پر اپنا رحم و کرم فرمائے۔آمین( وما توفیقی اللہ باللہ)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com