چھوٹی خالہ - ام محمد سلمان

مجھے اب تک یاد ہے جب ہم اپنے بچپن میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے نانی اماں کے گھر جایا کرتے تھے۔ نانی اماں کا گھر بڑا پر سکون سا تھا۔ گھر کے سامنے ہی ایک کھلا میدان تھا جہاں سے ہر وقت ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آیا کرتے تھے۔

صحن کے بیچوں بیچ امرود کا درخت تھا جو بہت خوب صورت لگتا تھا۔ نانی اماں بڑی پرکشش شخصیت کی مالک تھیں۔ بہت پھرتیلی، چاک چوبند اور اسمارٹ!! ہر وقت کسی نہ کسی کام میں لگی رہتیں۔ بہت خوش لباس تھیں۔ گلے میں سونے کی چین اور ہاتھوں میں کانچ کی مینا چوڑیاں ہمیشہ موجود رہتیں۔ ہم سب نواسا نواسیوں پر تو وہ کسی فوجی جرنیل کی طرح حکومت کرتیں، پیار بھی کرتیں اور ساتھ تربیت بھی۔ نانی اماں کی پانچ بیٹیاں تھیں ۔

میری امی سب سے بڑی تھیں. باقی چاروں خالائیں امی سے چھوٹی تھیں۔ نانی اماں کے گھر میں ایک چیز اور تھی جو مجھے بہت اچھی لگتی تھی اور وہ تھیں میری تیسرے نمبر کی چھوٹی خالہ! اور چھوٹی خالہ کی کمر سے نیچے تک جھولتی ان کی لمبی چوٹی۔ خالہ کے بال بہت لمبے گھنے اور حسین تھے۔ پیشانی کے بالوں کی چھوٹی چھوٹی لٹیں کسی ناگن کی طرح بل کھائے ان کے چہرے کا طواف کرتی رہتیں۔ خوب صورت سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اکثر گھر کے کام کرتی پائی جاتیں۔ پھر ایک دن ان کی شادی ہو گئی۔ ہم نے تو بس تصویروں میں ہی دیکھا تھا خالہ کو دلہن بنے ہوئے ۔تب جاڑوں کا موسم تھا۔ ہم اپنے گاؤں میں تھے۔ اتنی سردی میں اتنا لمبا سفر کیسے کرتے بھلا؟ اس لیے بس ابا میاں ہی چلے گئے تھے ان کی شادی میں۔

اماں بہت روئی تھیں اس وقت! رونا تو بنتا ہی تھا، آخر کو ان کی بہن کی شادی تھی اور وہ شامل نہ ہو سکیں۔ لیکن خیر... جو اللہ کو منظور ۔جب اگلی بار گرمیوں کی چھٹیوں میں ہم کراچی گئے تو پھر خالہ کی سسرال بھی گئے تھے۔ خالہ ہم سب سے مل کر بہت خوش ہوئیں۔ خالو جان بھی بہت اچھی طبیعت کے تھے. بہت ملنسار اور محبت کرنے والے۔ جب بھی ملتے بڑے اخلاق و مروت سے پیش آتے۔ خالہ بہت خوش تھیں ان کے ساتھ۔ یوں ہی چودہ پندرہ سال گزر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں چار بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا. ایک بیٹا دو تین سال کی عمر میں ہی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ دونوں میاں بیوی رب کی رضا میں سر جھکا کے رہ گئے۔ اللہ کا شکر تھا آنگن میں پانچ مہکتے پھول ابھی باقی تھے جو چاروں طرف مسکراہٹ بکھیرتے۔ پھر ایک دن قسمت نے پلٹا کھایا اور خالو جان جو کسی کام سے چھت پہ چڑھے تھے، اچانک نیچے گرے اور ایسے گرے کہ پھر کبھی اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہو سکے۔

ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی تھی، بہت علاج کے باوجود بھی صحت یاب نہ ہو سکے۔ بالکل ہی بستر کے ہو کر رہ گئے. گردن تک بھی نہ ہلا سکتے تھے۔وہاں سے خالہ کی آزمائشوں کا دور شروع ہوا اور میری چھوئی موئی سی نٹ کھٹ سی خالہ صبر کا پہاڑ بن گئیں۔ ناتواں کاندھوں پر بچوں کی ذمہ داری بھی اور معذور شوہر کی بھی! کیسے زندگی کی گاڑی کو گھسیٹا کیسے کیسے دکھ جھیلے.... اور مستقل جھیلتی چلی گئیں۔ جانے کتنے وقتوں کے فاقے کاٹے، کیسی کیسی درد بھری راتیں جاگتے گزاریں... بچوں کے چہروں پر ناتمام خواہشوں کے سائے دیکھے... آنکھوں میں حسرتیں دیکھیں... خود اپنی جوانی اور امنگوں کو مٹی میں رلتے دیکھا مگر اس وقت میں میری خالہ جن کا نام صابرہ تھا سچ مچ اسم با مسمی بن گئیں۔ ہمیشہ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنے والی۔

مشکلات کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے والی۔ میاں کے علاج کے لیے کہاں کہاں نہ ماری ماری پھریں.... مجھے آج بھی ان کا رونا تڑپنا یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ وہ جو کبھی کبھار کی نماز پڑھنے والی تھیں، اب تہجد گزار بن گئیں۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر رب العالمین کے سامنے جھولی پھیلا کے شوہر کی صحت مندی کی دعائیں مانگتیں.پھر اللہ نے کچھ کرم کیا، کئی سال کے علاج کے بعد خالو جان کچھ بیٹھنے کے لائق ہوئے تو گھر میں ہی کچھ کام شروع کر دیا۔ بیوی اور بچے ساتھ شامل ہو جاتے اور گھر کی گاڑی آہستہ آہستہ خوش اسلوبی سے چلنے لگی. مگر وہ تھے تو معذور ہی اور ہر وقت کسی نہ کسی بیماری کی لپیٹ میں رہتے. خالہ ان کا بہت خیال کرتیں دن رات خدمت میں جتی رہتیں۔ خالو جب اپنی بیماری سے اکتا جاتے تو سارا غصہ بھی خالہ پر ہی نکالتے مگر وہ اللہ کی بندی پھر بھی صبر شکر سے ہنستے مسکراتے سب کچھ سنتیں اور اسی طرح اپنے محور میں گردش کرتی رہتیں۔ بہت سلیقہ مندی سے گھر کو چلاتیں۔

کم بجٹ میں بھی کسی کو احساس نہ ہونے دیتیں کہ اندر کا حال کیا ہے۔ ہاتھ میں ذائقہ بہت تھا سادہ سی چیز بھی پکاتیں تو بہت مزیدار لگتی۔ میں کبھی کبھی خالہ کو دیکھتی تو مجھے خیال آتا... شاید ایسی ہی ہوتی ہیں جنتی عورتیں... نماز کی پابندی کرنے والی، اللہ سے لو لگائے رکھنے والی، اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والی، ہر مشکل میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی رہنے والی۔ کبھی ٹوٹ کے بکھرے تو پھر کرچی کرچی وجود کو اکٹھا کر لینے والی۔ اپنی جان اور مال شوہر اور بچوں پر لٹا دینے والی۔ آخرت میں اجر کی قوی امید لیے، دنیا کے سارے دکھ ہنس کر جھیل جانے والی...! اپنے رب پہ کامل بھروسا اور حسن ظن رکھنے والی۔ ان کی عظمتوں کو سلام!وں ہی گردش لیل و نہار چلتی رہی اور خالہ کے بچوں کی یکے بعد دیگرے شادیاں بھی ہو گئیں۔ خالہ کی بڑی بیٹی صائمہ سے میرے دوسرے نمبر والے بڑے بھائی کی شادی ہوئی جو بہت پیار کرنے والی خیال رکھنے والی تھی اور ہے اور میری بہت پیاری دوست بھی۔

امی کے انتقال کے بعد اس نے میری ماں کے گھر کو ماں کی طرح ہی سنبھال لیا، حالانکہ اتنی عمر نہ تھی۔ مگر ماں کی طرح شفیق اور سب کا خیال رکھنے والی۔ پورے گھر کو سمیٹ کر چلنے والی۔ اس کے ہوتے کبھی ماں جیسے مہربان کندھے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی، ہمارے سارے دکھ سکھ اپنے آنچل میں سمو لینے والی۔ خوشیوں میں خوش اور دکھوں میں رنجیدہ ہو جانے والی۔ ایسی بھابیاں بھی قسمت والوں کو نصیب ہوتی ہیں۔ الحمد للہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر احسان ہے۔ خالہ کی چھوٹی بیٹی میرے سب سے چھوٹے بھائی کی دلہن بنی۔خالہ خالو، بچوں کی شادیوں سے فارغ ہوئے تو پوتا پوتیوں کی بھی لائن لگ گئی گھر میں۔ ایک عورت کے مہربان وجود سے اس گھر کی بنیادیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئیں۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب آٹھ مارچ 2020ء کو دنیا میں عورتوں کے نام نہاد حقوق کا غلغلہ مچا تھا اور میرے خالو دو دن موت و حیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد شام پانچ بجے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔زندگی انساں کی ہے مانند مرغ بے نواشاخ پر کچھ دیر بیٹھا، چہچہایا، اڑ گیاخالو کا بھی وقت پورا ہو گیا، چلے گئے اس دنیا سے۔ جنازہ اٹھ گیا، قبرستان میں ایک قبر اور آباد ہو گئی۔ اور میری خالہ اپنے تین جوان بیٹوں اور دو بیٹیوں کو اپنے کاندھے سے لگائے تسلیاں دیتی رہ گئیں۔ایسی ہوتی ہیں خواتین!! گھر بسانے والی قربانیاں دینے والی جو شکوہ نہیں کرتیں!! ہماری اصل عورت تو یہ ہے جو اسلام بھی چاہتا یے اور یہی عورت ہے جو ہمارے معاشرے کی صحیح عکاسی کرتی ہے ۔ یہ جو 8 مارچ کو سڑکوں پر بیہودہ سلوگن اٹھائے پھر رہی تھیں، یہ کیا جانیں عورت کیا ہے؟ انھوں نے کب ایسی قربانیاں دیں؟؟ وہ کیا جانیں عورت کے فرائض کے بارے میں جسے نسلوں کا امین بنایا ہے اللہ رب العزت نے ۔

جس کے کاندھے پر ایک بھاری ذمے داری ڈالی ہے اولاد کی پرورش و تربیت کی، اس معاشرے میں امن و سکون کی ۔ ایک عورت جب گھر کو پرسکون رکھتی ہے تو ایک صحت مند معاشرہ وجود میں اتا ہے۔ یہی بات سمجھنے کی ضرورت ہے ہماری آج کی عورت کو ۔ عورت تو نام ہے وفا و قربانی کا۔ اپنے گھر بار کے لیے بچوں کے لیے والدین کے لیے اپنے پیارے رشتوں کے لیے اور سب سے بڑھ کر اپنے رب کے لیے ۔ تکلیف تو تھوڑے وقت کی ہوتی ہے مگر اجر بے شمار اور دائمی ہوتا ہے۔ اس رات وہ میرے سامنے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔ گھر تعزیت کرنے والوں رشتے داروں اور پڑوسیوں سے بھرا تھا۔ ان کی آنکھوں سے دھیرے دھیرے آنسو ٹپک رہے تھے اور میرے تصور میں میری وہی نوجوان خالہ اپنی لمبی چوٹی کو کمر پر پھیلائے ہنستی کھیلتی نانی اماں کے گھر کے صحن میں پھر رہی تھیں۔

کون جانتا تھا ان کے نصیبوں میں کیسی دشواریاں لکھی ہیں۔ آج میری وہی خالہ اپنے مرحوم شوہر کے بستر کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی ہیں۔ نیند سے چونک کر اٹھ اٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں۔ انھیں تو عادت تھی نا راتوں کو جاگ جاگ کر شوہر کی خبر گیری کرنے کی.... جاتے جاتے ہی یہ عادت جائے گی! یہ ورق ورق تیری داستاں، یہ سبق سبق تیرے تذکرےمیں کروں تو کیسے کروں الگ، تجھے زندگی کی کتاب سے25 سال تک لگاتار بستر پہ پڑے شوہر کی خدمتیں کی تھیں۔ ہر اچھی بری سہی تھی۔ آج بھی اپنی اولاد کی ڈھال بنی ہیں۔ انھیں سہارا دیتی ہیں تسلیاں دیتی ہیں۔

اور خود ابھی بھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر نیر بہاتی ہیں! اپنے رب کو اپنے دکھڑے سناتی ہیں اپنے شوہر کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعائیں مانگتی ہیں۔اللہ تعالیٰ میری خالہ کو ان کی قربانیوں کا بہترین صلہ دے۔ دنیا و آخرت میں انھیں خوشیاں اور کامیابیاں نصیب کرے آمین یارب العالمین ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com