والدین کی تربیت - روبینہ عبد القدیر

’’ہماری بیٹی بہت ضدی ہے، بڑا بیٹا بہت بدتمیز ہوگیا ہے، ایک بیٹی گالیاں بہت دینے لگی ہے، اور میراایک ا بیٹا بہت جھوٹ بولنے لگ گیا ہے، پتا نہیں بچے یہ سب کہاںسے سیکھتے ہیں؟ اسکول میں دوسرے بچوں کے ساتھ مل کر ایسے ہوگئے ہیں‘‘۔

اس طرح کے جملے عموماً ہمارے سننے میں بہت آ رہے ہوتے ہیں، یا پھر ہم کسی کے بدتمیز بچے کو دیکھ کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ:’’اس بچے کے ماں باپ بہت جاہل ہیں، اپنے بچے کی درست تربیت ہی نہیں کی‘‘۔ لیکن کیا کبھی کسی نے سوچا کہ بچے ایسے کیوں ہیں؟ بچے اتنے بگڑ رہے ہیں توکیا بچوں کی صحبت خراب ہے یا وہ دوسرے بچوں سے سیکھ رہے ہیں، آپ نے ہمیشہ بچوں کی تربیت کے بارے میں تو بہت کچھ پڑھا اور سنا ہوگا لیکن کبھی والدین کی تربیت بارے نہیں سنا ہوگا۔ بچوں کی تربیت کرنے والوں نے کبھی یہ کیوں نہیں کہا کہ: ’’والدین کوبھی تربیت کی ضرورت ہے‘‘، بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کا ننھا سادماغ اپنے گھر والوں کو پہچاننا شروع کرتا ہے، وہ ماں کے لمس کو، باپ کے بوسے کو، بہن بھائیوں کی شرارتوں کو پہچاننے لگ جاتا ہے۔

اور یہ یہیوقت ہوتا ہے جب والدین نے تمیز اور تہذیب کا مظاہرہ کر کے بچے کو اچھے اور برے کی تمیز کروانی ہوتی ہے۔ ماں گود میں بچے کو ڈال کر دوسرے بچوں پر چیخ چلا رہی ہوتی ہے اور گود میں پڑا بچہ وہ چیزیں اپنے اندر محفوظ کر رہا ہوتا ہے جو بڑے ہو کر اس کی ضد اور جھنجھلاہٹ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ باپ بچے کے سامنے بیوی پر دھاڑ رہا ہوتا ہے، بچوں کو گالیاں دے رہا ہوتا ہے اور اس بچے کے دماغ کے کسی کونے میں وہ گالیاں محفوظ ہورہی ہوتی ہیں۔ جو بچے کے بڑے ہونے پر سامنے آتی ہیں اور والدین کہہ رہے ہوتے ہیں کہ :’’ہمارا بچہ اسکول اور مدرسے جانے لگا تو گالیاں سیکھ آیا‘‘ بچوں کی تربیت سے پہلے والدین کو تربیت کی ضرورت ہے، والدین کا کام صرف بچے کو پیدا کرنا، اچھے کھانے کھلانا، مہنگے اسکولوں میں تعلیم دلوانا، بڑے مدرسوں میں بھیجنا اور ان کی ہر فرمائش پوری کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ بچے کو کچھ بھی نہ دیں بس اس کی اچھی تربیت کریں، کیوں کہ بچے کی اچھی پرورش آپ کی ذمہ داری ہے۔

اکثر بچے بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں، جب وہ پہلی مرتبہ اپنی توتلی زبان سے گالی نکالتے ہیں تو والدین ہنستے ہیں۔ ’’ارے ہمارا بچہ کتنی پیاری گالی دیتا ہے‘‘۔ وہ اس پہلے قدم پر بچے کو روکتے نہیںبلکہ اس کے بولنے پر خوش ہوتے ہیں اور جب وہ خوش ہوتے ہیں تو بچہ سمجھتا ہے کہ یہ کوئی غلط بات نہیں، اسے یہ چیز بری نہیں لگتی وہ تھوڑا سا بڑا ہو کر بے دھڑک گالیاں دینے لگتا ہے اور اس وقت ماں اس بچے کو تھپڑ مارتی ہے۔ اور صرف تھپڑ نہیں ساتھ خود بھی گالیاں دے رہی ہوتی ہے، اب اس بھولی عورت کو کون سمجھائے کہ جس بات سے تم بچے کو مار رہی ہو وہی تم خود کر رہی ہو، بچے کا ننھا دماغ الجھ جاتا ہے کہ،ماں مجھے گالیاں دے کر گالیاں دینے پر مار رہی ہے۔ اکثر مائیں بچے کی ضد کا رونا روتی ہیں،لیکن وہی مائیں ساس یا نند کے بچے کو کسی ضد پر ٹوکنے سے بچے کو بغل میں داب کر کہہ رہی ہوتی ہیں:’’ کیا ہوگیا جو یہ فلاں چیز مانگ رہا ہے، بچے تو ضد کرتے ہی ہیں‘‘۔ اس ماں کا یہ ایک جملہ بچے کو آسمان تک لے جاتا ہے، بچہ ماں کی ہمدردی پا کر مزید ضدی بن جاتا ہے۔

پھر وہی مائیں کہہ رہی ہوتی ہیں:’’ پتا نہیں میرا بچہ ہی اتنا ضدی کیوں ہے؟ اگر بچہ بہت مار پیٹ کرنے والا ہو، ساتھ کھیلتے بچوں کی چیزیں چھین لیتا ہو، کسی کو دانت سے کاٹ دیتا ہو، کسی کو چٹکی کاٹ کر بھاگ جاتا ہو، کسی کے بال نوچ لیتا ہو تو اس بچے کی والدہ اس کوسب بچوں کے سامنے مارتی ہے اور جب وہ معصوم بچہ سب کے سامنے اپنے ساتھ یہ برتاؤ دیکھتا ہے تو اس کے اندر غصہ بھر جاتا ہے۔ ننھا سا بچہ غصے کے مفہوم سے آشنا نہیں ہوتا لیکن غصہ اسے بھی آتا ہے، پھر وہ بچہ بار بارمار کھانے کے بعد ایک دن ایسا آتا ہے کہ اسے جتنا مار لو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

وہ اسی ڈھٹائی سے سب بچوں کے ساتھ لڑتا جھگڑتا ہے، گالیاں دیتا ہے، چھینا جھپٹی کرتا ہے اور ان کے والدین سر پکڑے بیٹھے ہوتے ہیں یا پھر بچے پر کسی جن یا اثرات کا وہم پال کر پیروں فقیروں کے سے علاج ، دم درود کرواتے ہیں اور جب ایک پیر بالکل ٹھیک ٹھاک بچے پر دم کرتا ہے تو اس بچے کے اندر واقعی جن نکل بھی آتا ہے۔ کچھ بچے بہت بے شرم ہوتے ہیں (معذرت کے ساتھ سخت الفاظ کا استعمال کرنے پر مجبور ہوں کیونکہ یہ ضروری ہے) بچے امی ابو والا کھیل کھیلتے ہوئے بہت بڑی بڑی باتیں کر رہے ہوتے ہیں، میں نے ایسے بچے بھی دیکھے جو اپنے ساتھ کھیلتے بچوں کے کپڑے اتار رہے ہوتے ہیں، گڑیا سے کھیلتی بچی اپنی گڑیا کو ماں بن کر فیڈ کروا رہی ہوتی ہے۔

کچھ بچیاں حاملہ ہونے کی ایکٹنگ کر رہی ہوتی ہیں اور جب والدین اپنے بچوں کو ایسی حرکتیں کرتے دیکھتے ہیں تو غصے سے آگ بگولہ ہوکر کہتے ہیں:’’ کتنا بے حیا ہے‘‘لیکن وہ والدین یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس بچے میں بے حیائی کیوں آئی؟ بچی جس نے ابھی تک سکول مدرسہ نہیں دیکھا ،گھر میں ہی رہ کر وہ گڑیا کو فیڈکروا رہی ہے، بچے ایک دوسرے کے کپڑے اتار رہے ہیں، بچے نے یہ چیز دیکھی ہے، اس کے دماغ کے کسی کونے میں یہ چیز بسی ہوئی ہے تب ہی اس نے ایسا کیا ہے ۔ والدین خود بچے کے بگاڑ کا سبب ہوتے ہیں۔

پہلے زمانے میں مائیں بچے کو بغیر وضو دودھ نہیں پلاتی تھیں، بچوں کو گود میں لے کر تلاوت قرآن کیا کرتی تھیں، شوہر سے دھیمے لہجے میں بات کرتی تھیں، گالیاں دینا کفر سمجھتی تھیں، شرم و حیا کا پیکر ہوا کرتی تھیں اور پھر ان ماؤں کے ہی بچے شیخ سعدی، اسماعیل بخاری، محمد بن قاسم، سلطان غزنوی، صلاح الدین ایوبی بن کر ماں کی گود سے نکلتے تھے اور پوری دنیا میں چھا جاتے تھے۔

آج کل کی نسلوں میںفلمی کرداروں ،ڈرامہ اداکروں کا عکس تو نطر آتا ہے لیکن افسوس کوئی محمد بن قاسم نظر نہیں آتا، کیوں کہ آج والدین کو تربیت کی ضرورت ہے، والدین خود کو تبدیل کریں، اپنا رویہ تبدیل کریں، زندگی سے جھوٹ، بے ایمانی، دھوکہ، غصہ، گالیاں، لڑائی جھگڑے نکال دیں اور پھر اپنے بچوں کی تربیت کریں تو وہ بچہ معاشرے کا ایک بہترین فرد بنے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com