بھلائی اور احسان مانگنے کی رات - طاہرہ ثمرہ خان

دنیائے انسانیت کو ایک احسان کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ عالم اسلام کو ایک بہترین موقع ملا ہے ۔ اس احسان اور بھلائی کو طلب کر کے دنیا کو دین اسلام کی طاقت دیکھانے کا۔شعبان المعظم کے ماہ مقدس کو رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا مہینہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔

بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے مزین یہ مقدس ماہ ہم سب کو میسر ہے۔سرکار غوث اعظم جیلانی رحمتہ اللہ علیہ "شعبان"کے پانچ حروف "ش،ع،ب،ا،ن "کے متعلق نقل فرماتے ہیں:ش سے مراد "شرف"یعنی بزرگی، ع سے مراد "عُلُوّ"یعنی بلندی, ب سے مراد "بِر " یعنی احسان، ا سے مراد "الفت" اور ن سے مراد "نور"ہے ۔ تو یہ تمام چیزیں خالق کائنات اس مہینہ میں لوگوں کو عطا فرماتا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔بھلائی عطا کی جاتی ہے۔ برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔خطائیں مٹا دی جاتی ہیں ۔ گناہوں کی معافی عطا کی جاتی ہے۔ دنیائے اسلام کو اپنے گناہوں کی معافی طلب کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید باندھ لینی چاہیے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہی تو ہو گا اگر وہ توبہ کو قبول فرما لے اور دنیا کو اس موذی وائرس سے نجات عطا فرما دے۔

تو پھر سب کو مل کر "شب برات کی فضیلت والی رات میں اللہ تعالیٰ سے اس کا احسان مانگ لینا چاہیے۔ شعبان المعظم کی پندرہویں رات کو بھلائیوں والی راتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔(وہ راتیں جن میں انسانوں کو بھلائیاں عطا کی جاتی ہیں). دنیاکویہ بھلائی والی رات عطا کردی گئی ہے۔ آج پندرہ شعبان المعظم ہےتو آئیں سب انسان اس دنیا کے بنانے والے رحمٰن رب سے بھلائی مانگ لیں۔کرونا جیسے طاعون سے نجات مانگ لیں۔جب بندے اس کے سامنے سراپا سوال بن جائیں گے۔اپنی جھولیاں پھیلا لیں گے تو یقیناً وہ پاک پروردگار اپنے بندوں کو مایوس نہیں لوٹائے گا۔

اس خالق ارض و سما کی رحمت جوش میں آئے گی اور وہ اپنی رحمت سے دنیا کو بھلائی عطا فرمائے گا۔یہ دنیا اس کے "کن"کی ہی تو مظہر ہے۔وہ جو چاہے تو کیا ممکن نہیں۔اس کے کن سے سب ہی تو ممکن ہے۔کرونا وائرس جو ہزاروں انسانوں کی زندگیاں نگل چکا ہے۔ہزاروں کی تعداد میں لوگ بستر مرگ پر پہنچ گئے ہیں اس طاعون کی وجہ سے اس وبا نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس موذی مرض سے نجات کا بس ایک ہی ذریعہ ہے کے اپنے رب تعالیٰ کو راضی کر لیا جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com