ایک سفر ایک یاد -روبینہ شاہین

ان دنوں جب ساری دنیا ایک کمرے تک محدود ہو گئی اور انسان نئی یادیں بنانے کی بجائے پرانی یادوں میں ڈؤبا ہوا ہے میرا بھی دل چاہا میں ان دنوں آپ سے اپنا ایک سفر بیان کروں۔

زندگی بذات خود ایک سفر ہے ہزاروں سال سے یہ دنیا چلتی آ رہی ہیں لاکھوں کروڑوں روز ہزاروں زندگیاں پیدا ہوتی ہے اور ہزاروں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ لیکن اللہ تعالی نے بعض دنیا میں ایسے انسان یا جانور پیدا کیے جو کہ رہتی دنیا تک مثال کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں اصحاب کہف کا کتا بیان کیا جاتا ہے جو کہ رہتی دنیا تک ایک مثال کے طور پر لیا جاتا رہے گا۔ اسی طرح بادشاہوں کی نشانیاں جو ایک یادگار کی حیثیت سے دیکھی بھی جاتی ہے اور ان جگہوں کی سیاحت بھی کی جاتی ہے۔ احرام مصر جو دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح بعض لوگ اس دنیا سے چلے بھی گے تو ان کی کوئی نہ کوئی نشانی آپ کو ان کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ مغل بادشاہوں کی نشانیاں بھی قابل ذکر ہے جن میں بادشاہی مسجد،شالا مار باغ،کامران کی بارہ دری،مقبرہ جہانگیر مغل بادشاہوں کی بہترین اور خوبصورت نشانیوں میں سرفہرست ہیں تمام عمارتیں اپنی زبانی بادشاہوں کی تعریف بیان کرتی ہے۔

ایسی ایک تاریخی کہانی شیخوپورہ کا ایک ہی نعرہ ہے جو ایک بادشاہ کی ایک ہرن سے محبت کی کہانی بیان کرتا ہے۔لاہور سے تقریباً 45کلومیٹر شمال مغرب میں ایک شکار گاہ ہے جو مغل بادشاہوں نے شکار کرنے کے لئے جنگل میں تعمیر کروائی لاک ڈاون سے ایک مہینہ پہلے شہخوپورہ جانے کا اتفاق ہوا تو سوچا کیوں نہ اس شکارگاہ کی سیر کی جائے چناچہ ہم نے کھانے پینے کا سامان رکھا اور سفر باندھ لیا ایک گھنٹے کے اندر ہم اس شکار گاہ میں موجود تھے۔کچے پکے راستوں سے ہوتے ہوئے ہم ہرن مینار پہنچے اور جیسے ہی گاڑی سے اترنے حدنگاہ پہلی ہوئی تاریخی خوبصورت میدان پر نظر پڑی تو بات سمجھ آنی شروع ہوئی گاڑی پارکنگ میں کھڑی کی سامان اٹھایا اور اندر کی طرف چل دیے اینٹری پر ٹکٹ خریدی اور ہرن مینار داخل ہوگئے سامنے انتہائی خوبصورت تالاب اور تالاب کے اوپر بنی ہوئی پرانی تاریخی عمارت بہت خوبصورت لگ رہی تھی تالاب کے پاس ہی ایک بہت خوبصورت اور بہت اچھا ایک مینار تعمیر کیا ہوا تھا اس کو ہرن مینار کہا جاتا ہے۔

شہزادہ سلیم عرف شہزادہ شیخو کے نام سے اس علاقے کا نام شیخوپورہ رکھا گیا اور شکار کے لیے آنے شہزادے کا بہت پیارا ہرن غلطی سے اس کی بندوق کی گولی کا نشانہ بنا اس کا دکھ بہت زیادہ ہوا شہزادے نے ہرن کو اسی جگہ دفن کرکے ایک مینار ہرن کی محبت میں تعمیر کروایا اور اس مینار کو ہرن مینار کا نام دیا ۔ہرن مینار دیکھنے میں بہت خوبصورت جگہ ہے سارا دن ہم نے خوب انجوائے کیا تالاب میں موٹر بوٹ اور پیڈل بوٹ کا بھی انتظام ہے۔

بچوں نے خوب دوڑے لگائی تفریح کے لیے آنے والوں کا کافی ہجوم تھا تالاب کے اوپر ایک بارہ دری بنائی گئی ہے جو پورے تالاب کی سیر کرانے میں پیدل چلنے والوں کو ایک خوبصورت نظارہ فراہم کرتی ہے اور یہ سب کچھ دیکھ کر بہت اچھا لگا تو ہم نےواپسی کا سفر باندھا اور ایک گھنٹے میں ہم واپس لاہور آ گئے ہرن مینار کا سفر اور ایک دن کی سیرو تفریح زندگی کا ایک اہم سفر بن گیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com