شب برات اور رسمی معافے نامے کی بحث - رضیہ انصاری

شروع اللہ کے بابرکت نام سے جو بہت مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔اللہ جلا شانہ نے اسلامی مہینوں میں کچھ خاص دن کی فضیلت رکھی ہے ان مہینوں میں ایک شعبان المعظم بھی ہے اس مبارک میں مہینے اور اس میں آنے والی ایک رات جسے شب برات کہا جاتا ہے۔

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’اﷲ عزوجل (خاص طور پر) ان چار راتوں میں بھلائیوں کے دروازے کھول دیتا ہے، عیدالاضحی کی رات، عیدالفطر کی رات، شعبان کی پندرھویں رات (اس رات میں مرنے والوں کے نام اور لوگوں کا رزق اور (اس سال) حج کرنے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں) عرفہ (نو ذی الحج کی رات، آذان فجر تک)۔‘‘شعبان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آقاﷺ نے فرمایا!الشعبان شهری’’شعبان میرا مہینہ ہے"مذکورہ حدیث مبارکہ سے ماہ شعبان کی فضیلت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ رسول مکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مہینے کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے۔ جس مہینے کو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا مہینہ فرمادیں، اس کی عظمت اور شان کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:"شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے"(الجامع الصغير، رقم الحديث 4889)

اس رات کو جو معافی نامے کا میسج ہرجگہ گردش کرتا نظر آتا ہے اسکی حقانیت کیا ہے ؟’’آج شب برا ت ہے ہمارا نامہ اعمال تبدیل ہونےوالا ہے۔ہماری زندگی کی ایک اور کتاب بند ہونیوالی ہے اور کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کی کتاب حقوق العباد و حقوق اللہ معاف کرانے سے قبل ہی بند ہوجائے۔کیونکہ حقوق اللہ تو معاف ہوسکتے ہیں مگر حقوق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک معافی نہ مانگی جائے۔سو آج تک میری طرف سے جانے انجانے میں کوئی غلطی، گستاخی، غیبت ہوئی، یا آپ کا دل دکھا ہو تو اللہ کی رضا کے لیے مجھے معاف کر دیں۔میں نے بھی اللہ کی رضا کے لیے سب کو معاف کیا‘‘۔

یہ منافقانہ اور رسمی معافی کے سوا کچھ نہیں ۔میرے مشفق بہن بھا ئیوں اور دوستوں معافی مانگنا بہت اچھی بات ہے اور یہ اعلیٰ ظرفی ہے جو معافی مانگنے میں پہل کرے اور یہ ایسی صفت جو ہر انسان کے اندر موجود ہو لیکن اس رسمی میسج کو آگے سے آگے بھیجنے کا کیا فائدہ ؟ ارے جائیے نا اپنے ان برسوں سے روٹھے ہوۓ بہن بھائیوں کہ پاس انکے گلے لگ جائیے ان سے معافی مانگیے ۔یہ طریقہ ہے ان کو منانے کا ہے ۔ اور میرے نزدیک یہ میسج آگے سے آگے بھیجنا وقت کے ضیائع کے سوا کچھ نہیں کیوں کہ یہ رسومانہ معافیاں نہ قرآن میں ہیں نہ احادیث میں اور نہ ہی سلف صالحین سے ایسی کوئی بات سامنے آئی ہے ۔

یہ تو انفرادی معافیوں کا معاملہ ہے لیکن بحیثیت قوم کچھ ہمارے ایسے اجتماعی گناہ ہیں، جن پر اجتماعی یوم توبہ و معافی منانا چاہیے کیونکہ فطرت افراد سے اغماض بھی کرلیتی ہے مگر کرتی نہیں کبھی ملت کے گناہوں کو معاف تو ہمیں معافی اپنے ان کشمیری بھائیوں سے مانگنی چاہیے جو پچھلے آٹھ ماہ سے قید و بند جہاں معصوم بچوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں لیکن کوئی مسلم ملک ان کیلئے آواز بلند نہیں کر رہا ۔سب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔"اسلام ایک جامع نظام زندگی اور کامل ضابطہ حیات ہے " اسلام نے ہر شعبہ زندگی میں وسعت رکھی ہے کیوں کہ اسلام جزئیات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ستون ہے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم دونوں جہانوں میں کامیابی کا سہرا اپنے نام کر سکتے ہیں ۔

اور اپنی زندگی کو سکون سے مالا مال کر سکتے ہیں ۔ان شاء اللہ آخر میں یہ کہوں گی اللہ کے حضو ر سجدہ ریز ہو کر اس سے گڑ گڑ ا کرمعافی مانگیے ،توبہ و استغفار کیجیے ،اپنے مرنے والوں کو ایصالِ ثواب کیجئے ۔اور ان تخلیق کردہ رسومات سے کنارہ کشی اختیار کیجئے ۔ اللہ کریم اس مبارک رات کے صدقے پوری دنیا میں امن عطا فرمائے اور اس عالمی وبا کرونا سے نجات دے ۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com