صاف پانی منصوبے کاکیابنا - الیاس محمدحسین

خودکو مستقبل کا وزیر ِ اعظم سمجھنے والے میاںشہباز شریف جب سے اقتدار سے باہرہوئے ہیں بڑی مشکل میں ہیں انہیں نیب طلب کرے یا پھر عدالت میں پیشیاں بھگتیں ، پارٹی اجلاس ہوں یا پھر کرونا وائرس کے متعلق APC لیکن مزے کی بات یہ ہے ہر جگہ ان کا انداز تقریر کرنے والا ہوتاہے ۔

ان سے سوال کوئی پوچھا جاتاہے جواب میں وہ انگلی ہلا ہلا کر اپنی رٹی رٹائی نام نہاد کارکردگی رپورٹ سنانا شروع کردیتے ہیں لوگوںکو یادہوگا اخبارات میں بھی چھپا تھا اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف پنجاب حکومت کی 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا بتائیں کہ 56 کمپنیوں میں اربوں روپے کی کرپشن کیونکر ہوئی۔ صاف پانی کمپنی میں چار ارب روپے لگ گئے ایک بوند پانی کا نہیں ۔ کہاں ہے آپ کی گڈگورننس، کہاں ہے آپ کی حکومت ؟ آپ نے کس کے خلاف کارروائی کی ہے۔ آپ یہ بتائیں۔

14لاکھ 50 ہزار روپے پر کیپٹن (ر) عثمان کی تعیناتی کمپنی میں کس قانون کے تحت کی گئی حالانکہ سول سرونٹ کے طور پر وہ ایک لاکھ روپے تنخواہ لے رہا تھا لیکن اس کے باوجود آپ اس کو 14لاکھ روپے دے رہے تھے۔ اس پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جتنی بھی کمپنیوں کے سربراہان ہیں۔ ان کی تنخواہوں کا فیصلہ انہوں نے نہیں کیا یہ ایک بورڈ تھا جس نے فیصلہ کیا۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کس طرح کے وزیراعلیٰ ہیں آپ کو اس بات کا علم نہیں کہ آپ کی ناک کے نیچے لاکھوں روپے قومی خزانے سے ضائع ہو چکے اور آپ خاموشی سے دیکھتے رہے اس پر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے 160 ارب روپے قومی خزانے سے بچائے ہیں اور اس حوالے سے کم از کم آپ مسلم لیگ (ن)کی حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف تو کریں۔

اس پر اس وقت کے چیف جسٹس نے کہا میں کیسے کسی کی تعریف کروں یہاں پر کچھ اچھا نہیں ہے۔ اس پر شہبازشریف نے کہا تھا کہ ہمارے دور میں بہت سارے اچھے منصوبے بھی لگے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سارے دور ہی آپ کے تھے۔ گذشتہ 10سال سے آپ کی پنجاب میں حکومت ہے۔بتائیں یہاں پر کیا لوگوں کو ان کے حقوق مل رہے ہیں۔ 56 کمپنیاں آپ نے بنا لیں۔ اربوں روپے کی کرپشن ہو گی جس کو ہاتھ ڈالیں وہیں سے کچھ نہ کچھ نکلتا ہے اور آپ سب اچھے کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میاں صاحب معذرت کے ساتھ میں آپ کا یہ جواب مکمل طور پر مسترد کرتا ہوں۔ آپ مجھے مطمئن نہیں کر سکے۔ اس پر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ مجھے کتے نے نہیں کاٹا کہ اس طرح میں لوگوں کی خدمت کرتا رہا ہوں۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے آپ سے اس طرح کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ جس پر شہبازشریف نے فوراً معافی مانگ لی پھر وہی گھسا پٹا رٹا رٹایا بیان دہراناشروع کردیا کہ میں نے واقعی قوم کی خدمت کی ہے اگر ایک دھیلے کرپشن ثابت ہو جائے تو پھر جو مرضی سزا دے دیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میاں صاحب ملک میں آزادعدلیہ اور قانون اور آئین کے بالادستی ہے آپ کا بھی احتساب ہو سکتا ہے۔ اس پر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میرا احتساب جب مرضی کریں اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے احتساب کی ضرورت پڑی تو ہم آپ کے احتساب کے لئے اداروں کو لکھیں گے۔ اس پر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو مجھے پھندا لگا دیا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں پھر آپ کوکہہ رہا ہوں کہ آپ اپنے متعلق بات نہ کریں ہم آپ کی ذات سے متعلق بات نہیں کر رہے ہمیں یہ بتائیں بطور وزیراعلیٰ آپ نے کمپنیاں کس قانون کے تحت تشکیل دیں۔ ان کمپنیوں میں لاکھوں روپے کی تنخواہ پر کیوں بھرتیاں کیں۔ کیوں اپنوں کو نوازا گیا۔ یہاں یہ اختیارات سے تجاوز کا معاملہ ہے۔ یہاں پر قومی خزانہ کو اربوں روپے کی کرپشن کا معاملہ ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی رقم کا پیسہ واپس قومی خزانے میں آئے گا۔ شہبازشریف فیصلہ کر لیں کہ پیسہ آپ نے واپس دینا ہے یا کمپنیوں کے سی ای اوز نے واپس کرنا ہے۔

صاف پانی کرپشن اسکینڈل میں اس سے قبل شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز، داماد عمران علی یوسف، سابق وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا، سابق رکن اسمبلی اور ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر وحید گل بھی پیش ہو چکے ہیں۔ نیب صاف پانی کمپنی میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں 4 اعلیٰ افسران ناصر قادر بھدل، ڈاکٹر ظہیر الدین، محمد سلیم اور محمد مسعود اختر کو بھی گرفتار کرچکا ہے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے بہاولپور ریجن میں انتہائی مہنگے داموں 116واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے اور حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔عائشہ غوث پاشا پر الزام ہے کہ صاف پانی کمپنی کی چیئرپرسن ہونے کی حیثیت سے انھوں نے من پسند فلٹر پلانٹ لگانے والی کمپنیوں کو نوازا اور جن کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے انہوں نے مارکیٹ ریٹ سے کئی گنا زیادہ ریٹ پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کا ٹھیکہ دیا گیا۔

میاں شہبازشریف نے چیف جسٹس کے روبرو اس بات کا اعتراف کرلیاکہ سرکاری محکموںمیں بھی کرپشن کے باعث اربوں کا ضیاع ہوجاتاہے ایک طرف تو موصوف کا یہ دعویٰ کی ایک دھیلے کی بھی کرپشن نہیں کی دوسری طرف سرکاری محکموںمیں اربوںکے ضیاع کی باتیں درحقیقت اعتراف ِ گناہ ہے ۔جبکہ صاف پانی کمپنی اسکینڈل میں شہباز شریف پر اختیارات کے ناجائز استعمال ،بورڈ آف گورنرز کو نوازنے اور ٹینڈرنگ کے بغیر کمپنیوں کو ٹھیکے دینے کے الزامات ہیں نیب نے 17 نکات پر مشتمل نوٹس وزیر اعلیٰ کو بھجوا رکھا ہے جس میں ان پر مبینہ طورپر لگنے والے الزامات کی تفصیلات درج ہیں۔

جس میں شہبازشریف سے کہا گیا ہے کہ آپ کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا کہ صاف پانی کی فراہمی کے مستقل حل کے بغیرصاف پانی کمپنی قائم کرتے جبکہ پنجاب ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی شکل میں آپ کے پاس تجربہ کار میکنزم موجود تھاپھر بھی ٹھوس سفارشات اور پراجیکٹ اسٹڈی کے بغیر صاف پانی کمپنی قائم کرنے کا حکم دیا اور امکانات اور آپشن کو نظر انداز کیا گیا۔لیٹر میں کہا گیا ہے کہ آپ نے کسی ٹینڈر اور شفافیت کے بغیر کنسلٹنٹ کو بھرتی کرنے کا حکم دیا۔لیٹر میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ صاف پانی فراہمی کے منصوبے پر لوکل گورنمنٹ کے ذریعے عمل درآمد کرنے کے بجائے کے ایس بی کمپنی کو کنٹریکٹ دیا جبکہ ساتھ ہی لوکل گورنمنٹ کو بھی منصوبے کیلئے ہدایات دیں مگر جو ایک کنٹریکٹ منظور کیا گیا صاف پانی کمپنی میں وہ کے ایس بی کو دیا گیا۔

لیٹر میں وزیر اعلیٰ پنجاب پر اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز وزیر اعلیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی کنٹریکٹ منظور نہیں کریں گے جبکہ کمپنی کا میمورنڈم اور شق آپ کو ایسا کوئی اختیار نہیں دیتی۔لیٹر میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حکم جاری کیا کہ وہ غیر ملکی کنسلٹنٹ کو منصوبے کے مرکزی رول کیلئے ہائر کریں جبکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے قوانین اس بات کی اجازت نہیں دیتے مگر اس کے باوجود جرمن کمپنی کو مرکزی کنسلٹنٹ کے طور پر بغیر کسی ٹینڈر کے منتخب کیا گیا جو پیمرا رولز کی بھی خلاف ورزی ہے بعد ازاں منتخب کی گئی فرم کے کردار میں بھی تبدیلی کی گئی اور اسے انجینئرنگ مینجمنٹ کنسلٹنٹ کے اختیار دیئے گئے جس سے سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ۔

پھر وزیر اعلیٰ نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کمپنی کو پتوکی میں 3 کنٹریکٹ کرنے سے منع کیا جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز اس کی منظوری دے چکا تھا جبکہ واضح تھاکسی بھی لوکل کمپنی کو کنٹریکٹ نہیں دینا اور ٹیکنیکل افراد کی سفارشات اور رائے کو نظر انداز کیا۔وزیر اعلیٰ پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے صاف پانی کمپنی کو نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم کیا جس کی کوئی ضرورت نہیں تھی جس سے سرکاری وسائل کا ضیا ع ہوا ،وزیر اعلیٰ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے آر او اور یو ایف پلانٹس پر سولر پینل لگانے کیلئے 8پی 2 کمپنی کو ٹھیکہ دینے کا حکم دیا جس سے شفافیت متاثر ہوئی۔

صرف غیر ملکی کمپنیز ہی بولی میں حصہ لے سکتی تھیں جس سے ٹینڈر کا عمل محدود ہو گیا۔لیٹر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ جرمن کنسلٹنٹ کیلئے بلٹ پروف گاڑی خریدنے کا حکم دیا جبکہ وہ خود 1 سال تک بغیر گاڑی کے کام کرتا رہا مگرشہبازشریف کے احکامات کے بعد گاڑی کیلئے پیسے جاری کردئیے تھے۔ اس کیس کا کیا منطقی انجام سب کے سامنے ہے چیف جسٹس ریٹائرڈ ہوئے ۔

نہ جانے اس کیس کاکیا بنا ماضی میں کتنے ہی ایسے کرپشن کے کیس حکومتی کمزوریاں،قانونی موشگافیوں اور سیاست سیاست کے کھیل کی نذرہوگئے یہ کھیل ہر حکومت میں کھیلے گئے اور کھیلے جاتے رہیں گے۔آج بھی لوگ جاننا چاہتے ہیں صاف پانی منصوبے کا کیا بنا جس پر قوم کے اربوں روپے ضائع کردئیے گئے اور ذمہ داروںکے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا؟ کیوں؟ اس سوال کا جواب کون دے گا؟

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com