امام حسن بن علی بن ابی طالب - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

امام حسن بن علی بن ابی طالب خاندان نبوت کے چشم و چراغ ہیں ۔آپ کی کنیت ابو محمد تھی اور’’ریحانۃ النبیﷺ‘‘آپ کا لقب تھا۔ حضرت فاطمۃ الزہرۃ جو خاتون جنت ہیںاور محسن انسانیت ﷺ کی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی صاحبزادی تھیں۔

وہ امام حسن کی والدہ محترمہ تھیںاور شیر خدااورفاتح خیبر حضرت علی کرم اﷲ وجہ امام حسن کے والد بزرگوار تھے۔امام عالی مقام امام حسین شہید جو مظلوم کربلا ہیں امام حسن کے چھوٹے بھائی تھے۔امام حسن کی تاریخ پیدائش پندرہ شعبان ہے۔حضرت فاطمہ الزہرہ کے سوامحسن انسانیت ﷺ کی سب اولادیں حیات طیبہ میں ہی انتقال کر گئیں تھیں۔شاید اسی لیے آپ ﷺ کو حضرت فاطمہ الزہرہ اور انکے بچوں سے بہت پیارتھا۔امام حسن چونکہ بڑے بھائی تھے اورآپ کی شکل مبارک بھی نانا سے ملتی تھی اسی لیے آپ نے اپنے نانا سے بہت پیارپایا۔ایک بار محسن انسانیت ﷺ ممبرپر بیٹھے خطبہ دے رہے تھے کہ امام حسن جو بہت چھوٹے تھے اور لوگوں کے درمیان درمیان سے گزرکر ممبر کی طرف بڑھ رہے تھے کہ اچانک گر گئے۔

آپ ﷺ فوراََممبر سے اترے اور خطبہ چھوڑ کر امام حسن کو گود اٹھا لیا۔محسن انسانیتﷺ نے آٹھ سال تک امام حسن کی نازبرداری کی اور پھر اجل نے آپ ﷺ کو آن لیا۔امام حسن کا شمارپنچ تن پاک شریف میں بھی ہوتا ہے۔ حضرت علی کرم اﷲ وجہ کا دورخلافت بہت مختصر لیکن پرآشوب رہا،اس تمام دور میں امام حسن اپنے والد بزگوارکے یمین و یسار رہے۔خاص طور پر جب دارالخلافہ مدینہ سے کوفہ منتقل ہوا تو امام حسن نے اس تبدیلی میں بہت بڑاکردار ادا کیا۔اس سے قبل امام حسن نوجوانوں کے اس گروہ میں بھی شامل تھے جو حضرت عثمان کے گھر کے باہر انکے محافظت پر مامور تھا۔حضرت عثمان کے گھر جب بلوائیوں نے حملہ کیا تو اس گروہ نوجوانان نے جس میں امام حسن بھی شامل تھے کئی بار لڑنے کی اجازت چاہی لیکن حضرت عثمان نے اجازت دینے سے گریز کیااور فرمایا کہ میں اپنی ذات کی خاطر امت کا کشت و خون نہیں کروں گا۔لوگوں نے حضرت علی کرم اﷲ وجہ سے ان کے آخری وقت میںپوچھا کہ ہم آپ کے بعد امام حسن کو حکمران بنالیں ؟

حضرت علیؓ نے جواب دیاکہ میں تمہیں اسکاحکم نہیں دیتااور روکتا بھی نہیں چنانچہ حضرت علیؓنے اپنی جانشینی کا معاملہ لوگوں کی صوابدیدپر چھوڑ دیا اور خود منصب شہادت پر فائزہوگئے۔شہادت علی ؓ کے بعد لوگوں نے اتفاق رائے سے امام حسن کو اپنا حکمران چن لیا،یہ اگرچہ باپ کے بعد بیٹے کی حکمرانی تھی لیکن اس میں باپ اور بیٹا دونوں کی مرضی شامل نہیں تھی بعد میں پیش آنے والے حالا ت نے اس بات کی تصدیق بھی کر دی۔آپ نے اپنی پہلی تقریر میں فرمایا’’لوگو!گزشتہ کل تم سے ایسا شخص(حضرت علیؓ) بچھڑاہے کہ نہ اگلے اس سے بڑھ سکیں گے اور نہ پچھلے اس کو پا سکیں گے،رسول اﷲ ﷺ جنگوں میں اس کو اپنا علم دے کر بھیجتے تھے اور وہ کسی جنگ سے ناکام نہیں لوٹا،جبریل و میکائیل دائیں بائیں اسکی معاونت کو ہوتے تھے ،اس نے سات سو درہم جو اسکی تنخواہ سے بچ رہے تھے کے علاوہ سونے چاندی کاایک ذرہ بھی نہیں چھوڑا،یہ درہم بھی ایک غلام خریدنے کے لیے جمع کیے تھے‘‘۔

حضرت امام حسن بڑے نرم خو،متحمل مزاج اور صلح جووامن پسند واقع ہوئے تھے۔جنگ و جدل سے آپ کو طبعی نفرت تھی۔حضرت علی ؓ کا آغاز خلافت سے ہی امیر معاویہ کے ساتھ کھنچاؤ چلاآرہاتھا۔امام حسن کواپنے دوراقتدارمیں یہ جنگ و جدال وراثت میں ملا تھا۔امام حسن نے جیسے ہی اقتدار سنبھالا تو شامی افواج نے عراق پر چڑھائیاں شروع کر دیں۔شامی افواج کی قیادت امیرمعاویہ کر رہے تھے جب کہ امام حسن کے ساتھ عراقی افواج اور کچھ خارجی بھی تھے۔ایک خارجی نے امام حسن پر اس دوران قاتلانہ حملہ بھی کردیا جس سے سے وہ شدید زخمی ہو گئے اور زخم بھرنے تک مدائن میں مقیم رہے۔صحت یابی پر اپنی فوج کے ساتھ میدان میں اترے دوسری طرف امیرمعاویہ کاایک کمانڈر اپنی افواج کے ساتھ مقابلے پر تیارہوگیا۔

جنگ شروع ہونے کو تھی کہ عراقیوں نے غداری کی اور امام حسن کاساتھ چھوڑ گئے۔ امام حسن چاہتے تو یہ جنگ جاری رہ سکتی تھی لیکن شہادت عثمان ؓ سے امت میں خون کی ندیاں بہتی چلی آرہی تھیں جسے آپ کی امن پسند طبیعت ناپسند کرتی تھی۔چانچہ آپ نے اپنی شرائط لکھ کر امیرمعاویہ کو بھیج دیں۔مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ امیرمعاویہ نے ایک خالی کاغذپر دستخط اور مہر لگاکر حضرت امام کے پاس بھیج دیا اور کہلوا بھیجا کہ اقتدارسے دستکش ہوجائیں اور جوشرائط لکھ دیں وہ منظور کی جائیں گی۔امام حسن نے اپنا سالانہ وظیفہ،اہل و عیال و اہل بیت کی محافظت اور اپنے سرفروشوں کے تحفظ کی شرائط لکھ دیںجو امیر معاویہ نے قبول کرلیں اور امام صاحب کی زندگی تک اسے نبھاتے رہے بلکہ جو لکھاگیاتھا امیرمعاویہ اس سے زیادہ بھی پیش کرتے رہے۔

امام حسن نے لوگوں کے بھرے مجنعے کے سامنے اپنی سبکدوشی کااعلان کیا اورکوفہ سے مدینہ چلے آئے۔آپ کادوراقتدار کم و بیش کل چھ ماہ ہے۔امام حسن کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی خلافت راشدہ کابھی خاتمہ ہوگیااورامت مسلمہ میں خاندانی بادشاہت کی داغ بیل ڈال دی گئی۔اس مصالحت کے نتیجے میں اگرچہ صالح لوگوں کی حکومت ختم ہو گئی لیکن سالوں بعد مملکت میں امن کے دن آئے ،ترقی کی راہیں کشادہ ہوئیں اور بیرونی فتوحات کے دروازے ایک بار پھر کھل گئے۔اسی مصالحت کے نتیجے میں ہی اسلامی افواج درون خانہ کشمکش سے فارغ ہوئیں اور مغرب میں اندلس اور مشرق میں سندھ جیسے دوردراز علاقے اسلامی قلمرو میں شامل ہو گئے۔یہ سب امام حسن کی صلح جوطبیعت کا ثمرہ تھا۔

امام حسن نے یکم ربیع الاول 50ھ میں مدینہ منورہ میں انتقال فرمایا،آپ کے انتقال کی وجہ زہر خوانی تھی۔انتقال کی خبر اہل مدینہ پر بجلی بن کر گری،مدینہ منورہ میں صف ماتم بچھ گئی ،گلیاں سنسان ہو گئیںاوربنی ہاشم کی خواتین نے ایک ماہ تک سوگ منایا۔آپ کو پہلوئے نبوی ﷺ میں دفن کرنا چاہا لیکن بنی امیہ کے خمار حکمرانی اس میں مانع رہااور آپ کو جنت البقیع میں پہلوئے فاطمہ میں ابدی نیند سلادیاگیا۔ جنازہ میں اتناہجوم تھا کہ اگر سوئی ٹپکائی جاتی تو زمین پر نہ گرتی،کثرت اژدہام اپنے عروج کو تھا۔آپ سیرت اور صورت دونوں میں اپنے نانا سے مشابہ تھے۔آپ نے بکثرت شادیاں کی تھیں جن میں سے آٹھ بیٹے حسن،زید،عمر،قاسم،ابوبکر،عبدالرحمن،طلحہ اور عبیداﷲ تھے۔امام حسن سے کل تیرہ احادیث مروی ہیں جوآپ نے حضرت علیؓ اور حضرت عائشہ سے روایت کی ہیں۔فقہ میں آپ کو گہرادرک حاصل تھا خطابت سے آپ کو کوئی شغف نہ تھا البتہ شاعری پسند کیاکرتے تھے۔

آپ کا امتیازی وصف استغنا و بے نیازی ہے جس کا مظاہرہ آپ نے اقتدار کی جنگ میں کیا۔اس تاریخ انسانی میں کتنے لوگ ہوں گے جو اقتدار کی قوت رکھتے ہوئے بھی اسکو چھوڑنے پر آمادہ ہوگئے؟یہ آپ کا استغنائے نفس تھا کہ دروازے پر آئی ہوئی حکومت کی لونڈی پر اپنے دروازے بند کر دیے۔امام حسن بہت عبادت گزار واقع ہوئے تھے۔فجر کی نماز کے بعد مصلے پر ہی بیٹھے ذکروفکرمیں مشغول رہتے،عشراق کے بعد لوگوں سے میل ملاقات کرتے انکی شکایات اور مسائل سنتے تھے جس کسی کی مددکرسکتے تو مدد کرتے باقی کے لیے دعا خیر فرما دیتے اکثر لوگ صرف نواسہ رسول کی زیارت کے لیے بھی حاضر خدمت ہوتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑی سعادت تھی۔ چاشت کے بعد اٹھتے اور امہات المومنین کے سلام کو جاتے ،امہات المومنین سے آپ کو بہت عقیدت تھی آپ کی والدہ چونکہ وفات پا چکی تھیں اور امہات المومنین رشتہ میں آپ کی نانیاں لگتی تھیں چنانچہ آپ روزانہ ان سے اظہار عقیدت اور حصول محبت کے لیے ا ن کے ہاں تشریف لے جاتے تھے۔

آخر میںاپنے گھر ہوتے ہوئے اورکوئی ضروری کام ہو تو نمٹاتے ہوئے پھر مسجد میں تشریف لے آتے اورذکروفکر میں مشغول ہوجاتے اور کوئی ملنے آتاتو ا سکو فیضیاب کرتے۔سواریوں کے ہوتے ہوئے بھی پاپیادہ حج کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے شرم آتی ہے کہ اﷲ تعالی کے گھر سوار ہوکر جاؤں۔مروان بن حکم جو مدینہ میں اموی حکمرانوں کا گورنر تھا،امام صاحب کی موجودگی میں حضرت علی ؓکو برابھلاکہتاتھا لیکن آپ کوئی جواب نہ دیتے،اس نے بہت دفعہ آپ کے منہ پر آپ سے بدتمیزی اور درشت گوئی کی تھی لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا۔دورجہالت سے ہی امویوں کی ہاشمیوں کے ساتھ رقابت چلی آرہی تھی اور خاص طورپر جب نبوت ہاشمیوں میں اترآئی تو اموی خاندان کے لوگ تعصب کا مزید شکار ہو گئے ۔

فتح مکہ کے بعد انہوں نے اسلام قبول تو کر لیا لیکن مروان کے اس رویے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہالت ابھی ان میں باقی تھی۔وفات کے بعد مروان احد پہاڑکی طرف اشارہ کرکے کہاکرتا تھا کہ ان کا حلم اتنا بڑاتھا۔ فیاضی و سخاوت تو آج تک سادات کی پہچان ہے۔اس گھرانے میں دولت کو کبھی قرار نہیں رہا۔امام حسن بلا کے سخی اور فیاض تھے،انفاق فی سبیل اﷲ آپ کا ذاتی و خاندانی وصف تھا۔اﷲ تعالی کی راہ میں بے پناہ دولت بے دریغ خرچ کرتے تھے ،زندگی میں تین ایسے مواقع آئے کہ اپنا گھر کا نصف سامان راہ للہ خرچ کر ڈالا ۔ایک بار آپ اعتکاف کے دوران ایک حاجت مند کے ساتھ روانہ ہو گئے اور فرمایا کہ کسی حاجت مند کی حاجت پوری کرنا ایک ماہ کے اعتکاف سے بہتر ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com