تفسیر الخدمت ہے-مریم خالد

کچھ مفہوم ہوتے ہیں قرآن کے کہ سمجھ تو آتے ہیں مگر سمجھانے نہیں آتے۔ منزلِ قرآن میں کُو بہ کُو "امنوا و عملوا الصلحت" کی بہت ساری تفسیروں میں ایک یہ بھی ہے کہ ایمان کے بغیر اعمالِ صالح کی توفیق میسر نہیں آتی۔ کارِ خیر کا پھول ایمان کے سوا کسی شاخِ خضر پہ کِھلا نہیں کرتا۔

مگر یہاں ایک طبقہ انسانیت نامی سب سے بڑے مذہب کے پیروکاروں کا ہے۔ جن کے لیل و نہار افریقہ کے جنگلوں سے لے کر یورپ و ایشاء کے انسانوں کے غم میں بےقرار گزرتے ہیں۔ وہ ہر دم دنیا کو یہ بتاتے ہیں کہ خدمتِ خلق کے لیے پہلو میں دل ہونا ضروری ہے، دل میں ایمان ہونا نہیں۔ مگر قرآن لحظہ لحظہ یاد دلاتا ہے کہ اعمالِ خیر کا ثمر تخمِ ایمان کے بغیر پھوٹا نہیں کرتا۔ ربِ دو جہاں کی یہ بات خود سمجھ تو آتی ہے مگر دوسروں کو سمجھانی نہیں آتی۔ دل کسی عملی تفسیر کی تلاش میں رہتا ہے__اور وہ مل ہی جاتی ہے۔وہ تفسیر "الخدمت" ہے! آیۂ دہر میں ایمان کی تعبیر الخدمت ہے! وطنِ عزیز میں کورونا کی پہلی چاپ تھی جب میں نے آپ نے جگتیں اچھالیں، الخدمت تب اپنے رضاکاروں کو منظم کر رہی تھی۔

کورونا کی دھمک سندھ سے ہوتی پنجاب تک آئی، مجھے اور آپ کو ایک سناٹے نے آ لیا۔ الخدمت کے رضاکار اپنے علاقے کے مستحقین کی فہرستیں بنا کر شادی ہال خالی کروائے سامانِ ضرورت کو لفافہ بند کر رہے تھے۔ ہم نے گھروں کے دروازے بند کر کے تالے لگا لیے، الخدمت کے لوگ ماسک اور دستانے پہنے علاقے کے ہر نادار دروازے کے کفیل بن چکے تھے۔ وہ کمر پہ تھیلے اٹھائے مثلِ عمرؓ گلی گلی نکل رہے تھے کہ لینے والوں کا پردہ رہے اور دینے والوں کا بھی!ہمارے طبیب حفاظتی سامان کے لیے حکومت سے شکوہ کناں تھے، الخدمت نے سامانِ حفاظت، وینٹیلیٹر اور بستر کے ڈھیر لگا دیے۔ ہمارے کوچوں میں پرندے اڑنا بھول گئے تھے، الخدمت کے بارش اور کیچڑ تک میں جواں قدم ناداروں کا راستہ نہ بھولے تھے۔مرض کے سائے طویل ہوئے تو ریاست کے ایوانوں میں ارتعاش آیا۔ صدرِ پاکستان نے صدرِ الخدمت سے حکومت کا ہاتھ تھامنے کی درخواست کی تو اس نے ۳۰۰ ایمبولینس،. ۵۰ ہسپتال اور لیبارٹریاں حکومت کے حوالے کر دیں۔

اقتدار کے ایوانوں میں تقریروں کا نشہ جب تک ٹوٹا، ایک فورس کی تشکیل کی ندا گونجی، الخدمت کے مردانِ تیز رُو گلی کوچوں سے آگے ستاروں پہ کمندیں ڈال چکے تھے۔ وہاں عوام سے عطیات کی اپیل تھی، یہاں الخدمت ۳۵ کروڑ راہِ خدا میں لگا چکی تھی۔ اِن کا "مردِ کج کلاہ" خواجہ سراؤں کے ویران گھروندوں کے طرف اپنے جوانوں کا رخ موڑ رہا تھا۔ وہ کرائے داروں کے لیے مالکانِ مکان سے اپیل کر رہا تھا۔ وہ تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے ساتھ دن گزار رہا تھا، انہیں خون دینے کے لیے لوگوں کو پکار رہا تھا۔

ہمارے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مریض بےحال تھے، الخدمت تھر میں نعمت اللہ خان ہسپتال میں بہترین نگہداشت یونٹ بنا چکی تھی۔ مردان تک میں میں ہسپتال قائم کر چکی تھی۔ ہماری مساجد میں باجماعت نماز، جمعہ اور اذانوں پہ مسالک کے درمیاں مناظرے گرم تھے اور الخدمت مندروں، گرجا گھروں اور گوردواروں میں جراثیم کش سپرے کروا رہی تھی۔ گلی گلی کی مساجد دھو رہی تھی۔

ہم اپنے نوکروں کے رزق کا بندوبست کر کے جب پھول کے بیٹھے تب الخدمت گلیات کے جنگلات میں بندروں کو رزق پہنچا رہی تھی۔ سیاح رخصت ہوئے تھے تو اس مخلوق کا آب و دانہ قلت میں تھا۔ ہم نے دم بخود ہو کر جو ان کے نشانِ راہ پہ چلنے کو قدم اٹھائے تو ان کے قدم کہیں دور برف زاروں پہ نشان چھوڑ چکے تھے! الخدمت نے حد کی ہے__ محنت کی، جانفشانی کی، خلوص کی طولانی کی، وفا کی فراوانی کی۔ہم سے زمیں زادوں نے اس دھرتی پہ ان کی راہوں کی طرف جو دیکھا ہے، الخدمت کا پہلا مسافر چرخ نیلی فام سے پرے عقبیٰ کی بہاروں میں قدم رکھ چکا ہے۔ الخدمت نے آج__اپنے ہاتھوں پہ پہلے ستارے کا خون اٹھایا ہے۔ پیما سندھ کے سابق صدر نے اپنی سانسیں کورونا کے خلاف مسیحائی کی راہ میں واری ہیں۔

کوئی کہاں اس خلوص کا بار اٹھا پائے گا؟ پہاڑوں کو مات دیتے استقامت اور جہد کے استعارے کا یہ وطن بھلا کیسے قرضہ چکائے گا؟ ان کے نام کا کوئی دوسرا فلک اپنے چراغوں سے ڈھونڈ کر عالم کی حدوں سے کہاں سے لائے گا؟ لک میں ہر جانب سرخئ ہر نوکِ خار الخدمت کے لہو سے مہکتی ہے، راستے ان کے دم سے معطر ہیں اور دین بیزاروں کی 'دیواروں' پہ جالے بُنے ہیں۔

خدمت سے گندھے مہ پارو! تمہاری کرنوں سے یہ دنیا کے خورشید روشنی پاتے ہیں۔ کورونا چلا جائے گا، تم زندہ رہو گے۔ چہرۂ دہر پہ جاوداں ہو کر۔ محبت کی زباں ہو کر۔ اخوت کا بیاں ہو کر۔ ہاں، تفسیرِ قرآں ہو کر!تم دنیا میں انسانیت کا دوسرا نام ہو۔ تم زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہو!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com