بکھر جائیں کے کیا ہم جب تماشا ختم ہوگا - حبیب الرحمن

فرانس کے عوام آج کل سخت مشکلات کا شکار ہیں لیکن وہ کب مشکلات کا شکار نہیں رہے تھے۔ موجودہ مشکل بے شک نہ صرف فرانسیسیوں کو روزِ روشن کی طرح نظر آ رہی ہے بلکہ دنیا خود بھی خوب اچھی طرح دیکھ رہی ہے لیکن جس مصیبت کو وہ کئی دہائیوں سے دنیا سے چھپائے ہوئے تھے۔

وہ آخر ان کو کیوں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ کون نہیں جانتا کہ آج جو قوم ہر بیس پچیس منٹ کے بعد بیس بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھوتی نظر آ رہی ہے یہی قوم برسوں نہ صرف نہاتی نہیں تھی بلکہ اپنے تن پر چڑھے لباس کو بھی دھونے کی بجائے، بدن اور لباس سے پھوٹنے والی بدبو کے بھپکاروں کے ناگوار تاثر کو دور کرنے کیلئے اعلیٰ اقسام کے پرفیوم کا اسپرے کر کے اپنے نفیس ہونے پر اصرار کیا کرتی تھی۔یہ تو ہے فرانسیسی قوم کی کہانی لیکن دنیا میں ایک نئی نسل ایسی بھی سامنے آ رہی ہے جو فرانسیسیوں سے بھی کئی ہاتھ آگے ہے۔

فرانسیسی تو بے دھلے لباس پر پرفیوم کا اسپرے کر کے بدبوؤں کو عطر بیز کر لیا کرتے تھے لیکن یہ نئی نسل جس کو اللہ تعالیٰ نے حکومت جیسی نعمت سے بھی نوازا ہوا ہے، یہ میلے یا گندے ہو جانے والے زیریں یا بالائی جاموں کو الٹا کرکے پہن لینے کے بعد یہ سمجھ لیتی ہے کہ اپنی ساری گندگی یا میلاپن چھپانے میں کامیاب ہو جائے گی اور دنیا جب بھی ان کی جانب دیکھی گی ان کی نفاست کے گن گایا کریگی۔پاکستان میں بیس ماہ کی حکومت میں یہ بات کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہو رہی کہ اربابِ اختیار تاش کے پتوں کی طرح پھینٹے جا رہے ہوں۔ جب جب بھی حکومت اپنی ہی غفلتوں، کمزوریوں، کمیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے عوام کی تنقیدوں یا مشکلات کا شکار ہوئی، اس نے اپنے اندر موجود وزرا، مشیران اور معاونین کی پھینٹی لگا کر قوم کو اور اپنے آپ کو نہ صرف مطمئن کر لیا بلکہ اپنے مداحوں سے دادِ تحسین بھی خوب خوب سمیٹی۔

گزشتہ دنوں بھی ایسا ہی کچھ سامنے آیا۔ اپنے ہی ہاتھوں تشکیل دی گئی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے آٹے اور چینی کے بحران کی جو رپورٹ وزیر اعظم کی میز پر لاکر رکھی تو معلوم ہوا کہ ملک میں مصنوعی غدر مچانے والے ان کے اپنے ہی لاڈلے تھے۔ کئی ہفتے تو یہ رپورٹ میز سے میز کی دراز میں منتقل ہونے کے بعد نہ جانے کیوں التویٰ کا شکار رہی اور منظرِ عام پر لانے سے گریز کیا جاتا رہا البتہ وزیر اعظم کی جانب سے یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ "مجھے سب نام معلوم ہیں لیکن میں وہ نام ظاہر کرنا نہیں چاہتا"۔ ملک کے سربراہ کو قومی مجرموں کے ناموں کا علم بھی ہو اور وہ بتانے سے بھی گریزاں ہو، پھر کئی ہفتے بعد اچانک بتابھی دے تو کیا اس بات کے کئی مطالب نہیں پہنائے جا سکتے؟۔

حامیوں کی جانب سے دفاعی کوششیں جاری ہیں اور بہت ہی بھر پور انداز میں جاری ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ آج تک کسی حکومت نے اپنے ہی پاؤں پر کبھی کلہاڑی نہیں چلائی ہوگی۔ یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو ہی جاتا ہے کہ اس نے اپنی ذاتی دوستی کی نہیں ملک و قوم کی پرواہ کی۔ بات تو درست ہے لیکن جب قومی مجرموں کے نام بتانے سے گریز کا پہلو اختیار کیا جا رہا تھا تو تب دوستیوں کا خیال زیادہ تھا، مصلحت پسندی تھی یا قومی مفاد سے صرفِ نظر کا پہلو زیادہ غالب تھا؟۔سب سے زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ قومی مجرموں کے نام سامنے آ جانے کے بعد ان کے خلاف کیا رد عمل سامنے آیا؟۔ یہی کہ لباس پر پڑے داغ دھبے چھپانے کیلئے اسے الٹ کر پہن لیا گیا۔ خبروں کے مطابق آٹا اور چینی بحران کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کے بجائے انہیں نئے عہدوں سے نواز دیا گیا۔

پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزرا کے قلمدانوں میں ردوبدل کیا ہے جبکہ نئے وزرا کوبھی وفاقی کابینہ میں شامل کیا ہے۔ وزیر اعظم کے اس فیصلے پر ان کے مخالفین نہ جانے کیوں تنقید پر تنقید کئے جا رہے ہیں۔ ایسا کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں کیا جا رہا، جب بھی حکومت شدید دباؤ میں آ تی ہے ایسا ہی کرتی ہے اور گندگی میں لتھڑ جانے والے لباس کو دھونے کی بجائے الٹا کر کے پہن لیتی ہے۔اب رہا جہانگیر ترین کا فارغ کیا جان تو یہ ایک میان میں دو تلواریں اور ایک جنگل میں دوشیر والا معاملہ ہے۔

ایک ہی جیسے کیس میں عدالت ایک کو نااہل اور ایک کو صادق و امین بنا دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوت کسی کو اقتدار تک لاتی ہے وہی مقتدر کے پہلے نشانے پر ہوتی ہے۔ تاریخ میں جہاں ابولجعفر المنصور کا نام آئے گا وہیں ابو مسلم خراسانی کے قتل کئے جانے کا ذکر بھی ضرور ملے گا۔ باقی قارئین خود بہت سمجھدار ہیں۔ ہم تو افتخار عارف کی زبانی اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ بکھر جائیں گے ہم جب تماشا ختم ہوگامرے معبود آخر کب تماشا ختم ہوگا

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com