کرونا رحمت بھی اور زحمت بھی-انیلہ اجمل

اگر چہ یہ عنوان کچھ عجیب سا ہےمگر حقیقت ہے کہ دنیا عالم کےلیے کرونا رحمت کا باعث بھی بن رہا ہے اور زحمت کا بھی۔یہ بایولوجیکل وائرس ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ہمیں یہ بات بھی ذہن میں رکھ لینی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں جب تک میں نہیں چاہو گا تمہیں کوئی چیز ضرر نہیں پہنچاسکتی اور نا ہی نفع۔خاص طورپہ عالم اسلام کےلیے اس میں بہت کچھ مثبت چھپا ہوا ہےبس ہمیں ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم اس کے نام کو دیکھیں یعنی کرونا- کرو+نا ، کرو معنی اچھے کام کرواور نا معنی برے کام نہ کرو۔ ک (اپنے کردار کو سنوارو) ر ( اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے متلاشی ہوجاؤ) و ( وقت کو نیک اور مثبت کاموں میں صرف کرو) ن ( نصرت یعنی اللہ کو احکام پر عمل کرکے کامیابی حاصل کرو) ا ( اللہ سے دعا کرو کہ کامل ایمان ، کامل یقین کے ساتھ عطاکرے اور بہترین اَخلاق کاوالا بنا دے)۔

اللہ تعالیٰ شرمیں سے ہی خیر کو نکالتے ہیں، اس وقت ہرطرف افراتفری اور خوف کا عالم چھایاہواہے۔ ہر شخص دوسرے شخص سے خوفزدہ ہے کہ کہیں یہ وبا ایک سے دوسرے کو نہ لگ جائے کرونا وائرس جسنے آج پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہ ایک طرف ابتلا ء ہے تو دوسری طرف احکام الہیٰ سے سرتابی کی سزا، ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم اپنے رحمان کے احکام کے کس ھد تک نافرمان ہیں اس وبا نما مرض کرونا سے پناہ اور شَفااس وقت تک ممکن نہیں جب استغفار کو وسیلہ بناکراپنے رب کے سامنے جرائم کا اقبال نہ کیا جائے۔

رحمت اس طرح کہ سائینسی ترقی کی چکاچوند نے حضرت انسان کی ذاتی،سماجی اور گھریلو زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔TV،نیٹ،کیبل، کمپیوٹر،موبائل فونز نے انسانوں کو انسانوں سے دور کردیا، ساری دنیا سمٹ کر انسانی ہتھیلی میں سما گئی۔ رشتے ناطے بے تعلق ہوگئےہر انسان اپنی ذات میں سمٹ گیاکئی لوگ جب کام سے گھر آتے تو بچے سوئے ہوئے ہوتے ،جب بچے گھر سے پڑھنے جاتے تو والد سوئے ہوئے ہوتے نہ بچوں کے پاس والدین کےلیے وقت اورنہ والدین کے پاس بچوں کےلیے کوئی وقت ۔ اس وبا کی وجہ لاک ڈاؤن ہوا اور لوگ اپنے اپنے گھروں میں رہنے کےلیے مجبور ہوئے۔

جو زندگی مشین بن چکی تھی اور جمود کا شکار تھی اس میں متحرک زندگی کے رنگ نظرآرہے ہیں ہمیں اس وقت کو مثبت بنانا ہے، بچو ں کو دینی و اَخلاقی تعلیمات دیں یہ یاد رکھیں کہ بچے وہی کچھ کرتے ہیں جو والدین کو کرتا دیکھیں۔ اگر آپ نمازوقرآن کا اہتمام کریں گے تو بچے بھی وہی کریں گے، اگر موبائل اور لیپ ٹاپ کا استعمال کریں گے تو بچے بھی یہی کریں گے۔آزمائش جب بھی آتی ہے اس لیے آتی ہے کہ ہم اس سے سبق سیکھ کر ترقی کریں اور کامیابی پائیں اور جو اس وقت میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے جڑجائے گا اللہ اسے دنیاو آخرت میں عزتیں برکتیں اور خیریں فرماتے ہیں۔ اس کی نسلوں کودکھوں اور غموں سے دور کردیتے ہیں عافیتیں عطافرماتے ہیں اس وقت جو وبا آئی ہے یہ اللہ کی طرف متوجہ کرنے آئی ہے کون ایسا ہے جو اللہ سے توبہ استغفار کررہا ہےاور کون ایسا ہے جو مزید غافل ہوگیا ہے۔

اللہ نے ہمیں کسی بھی بہانے سے فارغ کیا ہےجو یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم ان فارغ لمحات میں کرتے کیا ہیں ہمیں چاہیے کہ خالق اور مخلوق کو وقت دیں اپنا احتساب کریں یہ وقت اللہ کی طرف سے امانت ہے، صلح رحمی کی طرف متوجہ ہوجائیں، نفرت، بغض اور کینہ کو نکال دیں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھیں اور خیر خواہی کا جزبہ اپنے اندر پیدا کریں۔انسانیت دشمنی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی عادت ترک کردیں۔ یہی عادت حکمرانوں اور قوموں کو تباہی کے دہانے پہ لے آئی ہے لیکن احساسِ زِیاں ابھی تک کہیں نظر نہیں آرہا۔

انسان اپنے پروردگار کے حضور توبہ کا سہارا لے رحمت، فضل، کرم ، رحم، احسان، نوازشات، عنایات کا طلب گار بن جائے۔ اللہ جب معاف کرے گا تو کرونا وائرس جیسے عذاب کی کیا مجال کہ وہ انسانوں کے قریب بھی آئے کیونکہ اللہ رب العزت قرآن مجید میں فرماتے ہیں" کہ میں انسانوں پر کوئی ظلم نہیں کرتا انسان اپنے ہاتھوں خد اپنی تباہی کا سامان کرتا ہے"۔ اللہ سے دعا ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و آمان میں رکھے۔ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com