ایک خوف ایک امید - ام محمد سلمان

اس دن پڑوس کے گھر سے کسی بچے کی زور زور سے رونے اور چیخنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ تحقیق کرنے پہ پتا چلا کہ کرونا وائرس کے ڈر سے ماں نے بچے کو گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا ہوا ہے مگر نو دس سالہ بچہ بار بار کھیلنے کے لیے گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔

ہزار روکنے اور منع کرنے کے باوجود بھی جب باز نہیں آیا تو ماں نے انتہائی بیدردی سے پیٹ ڈالا ۔ اسی کے چیخنے چلانے کی آوازیں گلی میں گونج رہی تھیں ۔ بچہ اپنی جگہ الگ پریشان تھا کہ گھر میں باقی سب لوگ بھی تو باہر آ جا رہے ہیں، پھر یہ پابندی صرف مجھ پر کیوں؟ماں کو الگ خدشات کہ بچہ کمزور ہے، قوت مدافعت کی کمی ہے ۔ کہیں وائرس کا شکار نہ ہو جائے...!یوں لگتا ہے کرونا ایک قہر بن کر ٹوٹ پڑا ہے ۔ ہر جگہ اسی کا تذکرہ اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ لوگ ڈرتے ہیں خوف زدہ ہوتے ہیں۔ بازار سے ماسک تو ناپید ہی ہو گئے ہیں یا پھر ذخیرہ اندوزی کا شکار ۔

دنیا کے کن کن ممالک میں یہ وائرس پھیل رہا ہے، کتنے لوگ مر رہے ہیں اور اس سے بچاؤ کے لیے کیا کیا حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں، قطع نظر ان سب کے ہم تھوڑی سی بات اپنے ایمان و یقین کی کر لیتے ہیں۔حفاظتی تدابیر سب اپنی جگہ، ضرور آزمائیے ۔ عمل کیجیے۔مگر خدارا اس خوف کے عذاب سے اپنے آپ کو چھٹکارا دلائیے ۔ وبا کا تو کچھ پتا نہیں تقدیر میں کیا لکھا یے، نقصان پہنچائے یا نہیں! مگر اس سے پہلے ہی خوف کے عذاب نے ہم سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کیا خبر یہ بھی اللہ کے عذاب کی ایک صورت ہی ہو.... واللہ اعلم ۔انسان اپنی طبعی موت مرے یا کسی وبا کا شکار ہو کر مرے، یہ طے ہے کہ موت اپنے وقت پر ہی آئے گی۔ وہ ایک آن ایک لمحہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی۔ جب جس وقت فرشتہ اجل کو پروانہ ملا، اس نے اپنا کام کر دینا ہے۔

اس لیے اس وقت تقدیر پر ایمان مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو تکلیف قسمت میں لکھی جا چکی ہے، وہ پہنچے گی اور جو نہیں لکھی وہ کسی صورت نہیں پہنچ سکتی ۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ سورۃ الانعام میں یوں بیان کرتے ہیں :"وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞" ترجمہ:اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔یعنی نفع و نقصان کا مالک، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے والا صرف اللہ ہے اور اس کے حکم و قضا کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ایک بار سواری پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے تھے کہ آپؐ نے فرمایا’’اے لڑکے تو اللہ کے حقوق کی حفاظت کر اللہ تعالیٰ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ کے حقوق کی حفاظت کر ہر وقت اللہ کو اپنے سامنے پائے گا۔

جب تو مانگے تو اللہ ہی سے مانگ۔ جب مدد طلب کرے تو اللہ سے ہی کر۔ اور اس بات کو جان لے کہ تمام لوگ جمع ہو کر بھی تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہیں اور اللہ نہ چاہے تو کوئی نہیں پہنچا سکتا اور تمام لوگ جمع ہوکر بھی تجھ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہیں تو پہنچا نہیں سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تیرے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اٹھ چکے قلم اور خشک ہو چکے صحیفے ۔ اس لیے اپنے ایمان کی تجدید کیجیے۔ یہ وقت آزمائش کا ہے۔ اپنے آپ کو مضبوط رکھیے، اپنے خالق و مالک پربھروسا رکھیے. اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کوئی شر ایسا نہیں جس میں کوئی خیر نہ چھپی ہو ۔ زندگی موت، صحت اور بیماری سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اگر اللہ نہ چاہے تو کسی کرونا وائرس کی مجال نہیں کہ کسی کا بال بھی بیکا کر سکے ۔ اللہ سے حسن ظن رکھیے۔ اپنی حفاظت ضرور کیجیے۔ اعتدال کے ساتھ تمام احتیاطی تدابیر بھی اختیار کیجیے۔ ساتھ ساتھ توبہ و استغفار، صدقات، دعاؤں اور اذکار کا اہتمام کیجیے۔

وضو کی کثرت اور نمازوں کی پابندی کیجیے۔ اللہ سے خیر و عافیت مانگیے اور یہ سوچ ذہن میں رکھیے : حدیث میں آتا ہے کہ "وبا میں مرنے والا شہید ہوتا ہے ۔"اگر ہم میں سے کوئی کرونا وائرس کا شکار ہو بھی جاتا ہے تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ یا ٹھیک ہو جائے گا یا مر جائے گا ۔ اگر انسان مر بھی جاتا ہے اس دنیائے فانی سے کوچ کر ہی جاتا ہے تو کیا ہوا.... شہادت کا درجہ کچھ کم ہے کیا؟؟؟آئیے اس خوف و دہشت کو اپنی زندگی سے نکال پھینکیں۔ہم اللہ کے بندے ہیں اس کے بندے بن کر رہیں گے، وہ ضرور ہماری حفاظت کرے گا اور اگر ہم کسی وبا کا شکار ہو کر مرے بھی تو شہیدوں کے درجوں کو پہنچیں گے ان شاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com