کورونا ہے کیا آخر - رضیہ انصاری

تو چلیے میں آپ کو بتاتی ہے کہ کیا ہے کورونا؟ آج پوری دنیا میں اس بیماری کے اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔تو جناب یہ ایک وبا ہے جس کی ابتداء چین سے ہوئی اور بڑھتے بڑھتے اس نے دنیا کے 200 ممالک کو اپنی لپیٹ میں کر لیا ہے اس بیماری نے جہاں لاکھوں لوگوں کو اپنے منہ کا نوالا بنایا ہے وہیں اس نے ہر شعبہ زندگی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔

ایک عجیب وبا اور بیماری ہے جو ماہرین کے مطابق جانوروں سے منتقل ہو کر انسانوں میں آرہی ہے، اس کی ابتداءدوہان شہر کے گوشت کے بازار سے یہ وائرس انسانوں میں پھیلا ہے ، جب کہ بعض ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وائرس، سانب ، چوہے ، چمگاڈر، لومڑی اور مگرمچھ وغیرہ سے پھیلا ہے ، اور یہ ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج ٹیکہ یا ادویہ ابھی تک دریافت نہیں ہوسکے ہیں، صرف اندازے سے کچھ ایچ آئی وی کی ادویہ اس کے لئے تجویز کی جارہی ہیں،اس سے شفایابی کی مدت بھی صحیح طریقے سے معلوم نہیں ہوپارہی ہے ، ، ابتدائی علامات کے ظاہر ہوئے بغیر ہی آدمی اس بیماری کا اچانک شکار ہوجاتاہے،جس کی وجہ سے اس بیماری کا ابتدائی مرحلہ میں اندازہ لگا کر اس سے بچنا نہایت مشکل اور دشوار گذار ہوچکا ہے ، یہ ایک متعدی بیماری ہے ، جو ہاتھ ملانے ایک دوسرے کے استعمال شدہ رومال تولیہ کے استعمال اور چھینکنے سے منتقل ہورہی ہے ، ویسے تو اس وقت چین کے ساتھ دیگر عالمی ادارہ صحت وغیرہ الرٹ ہوچکے، اس کے تدارک کی تدابیر اختیار کی جارہی ہیں، اس حوالے سے ہر طریقے سے تدبیر کی جاہری ہے ، ان لوگوں کے لئے جہاں یہ بیماری پھیلی ہوئی ہے ، بغیر ماسک کے نکلنے سے روکا جارہا ہے ۔نئی نئی ہسپتال تیار کئے جارہے ہیں۔

اس بیماری کو کیا سمجھا جائے آخر یہ وبا ہے افوا ہ ہے آزمائش ہے یا عذابِ الہی ہے۔؟اس وبا سے بیت اللہ بند ،مساجد بند،مدارس بند، سکول ،کالج،ٹرانسپورٹ،بازار،ہوٹل ،میل جول بند آخر کیا ہے یہ کورونا؟یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس وبا نے زندگی کو روک دیا ہے۔جہاں اس وبا نے دنیا میں تباہی مچائی ہے اور ہرشعبے کو متاثر کیا ہے وہاں اسلا م بھی اس کی وجہ سے کئی سوالات کا سامنا بھی کر رہا ہے۔کیونکہ سب سے پہلی بات کہ بیت اللہ کو ہی بند کردیا گیا ہے وہ مقدس مقام جہاں ہر وقت لاکھوں لوگ حاضر رہتے تھے آج اس وبا کی وجہ سے سیل کیا جا چکا ہے۔اس کے بعد اگر مساجد کو دیکھا جائے تو وہاں نمازوں پہ پابندی ۔آخر کیوں ہورہا ہے یہ سب ۔کہیں نہ اس کی وجہ ہمارا سوشل میڈیا بھی ہے جس نے لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے ۔جہاں پوری دنیا اس وبا سے لڑ رہی ہے وہاں ہمارے علماء کرام بھی بے بس ہو چکے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو یہ وبا اس دور کی نئی بات نہیں اس سے پہلی امتیں بھی اس طرح کی وباؤں سے گزر چکی ہیں جن میں طاعون ،اچھوت کی وبائیں ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سو سال بعد ایک بیماری آتی ہے یہ کوئی ان ہونی بات نہیں ۔اگر دیکھا جا ئے کہ یہ ایک افواہ ہے ۔تو افواہ ہونا بھی ممکنات میں سے ہے کیوں کہ آج سوشل میڈیا کہ دور میں لوگوں کو خوف زدہ زیادہ کیا جا رہا ہے ۔ہاں جہاں تک احتیاطی تدابیر ہیں ان کو ضروراپنایا جائے لیکن خوف وہراس پھیلانے سے بھی گریز کیا جانا چاہیے۔اگر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آزمائش ہے تو یہ بھی ممکن ہے کیوں کہ دنیا آزمائشوں کا گھر ہے انسان کو ان آزمائشوں میں حکمت عملی سے کام لینا چاہیے ہم ناچیز انسان تو کچھ بھی نہیں دنیا میں آنے والے پیغمبران کو بھی آزمائشوں میں ڈالا گیا تاکہ انکے صبر کا امتحان لیا جا سکے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کرینگے دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال وجان اور پھلوں کی کمی سے، اور ان پر صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے جنہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تر خود اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، ان پر ان کے رب کی رحمتیں اور نوازشیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں،" البقرۃ 155-157

تو اللہ تعالی بندوں کو آزمائش میں مبتلا کرتا اور صبر کرنے والوں سے محبت کرتا اور انہیں جنت کی خوشخبری دے رہا ہے۔اگریہ کہا جائے کہ عذاب الہیٰ ہے تو یہ بھی ممکنات میں سے ہے کیوں کہ اس پہلے جو قومیں گزری ان پر بھی اللہ کیطرف سے عذاب آتے تھے۔قومِ عاد،ثمود،لوط آخر میں یہ کہوں گی کہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے ہم پر حکمرانوں کا حکم ماننا فرض ہے اور انکے بنائے گئے قوانین کو دل سے قبول کرنا ہوگا ۔قرآن پاک میں بھی جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے حبیب کی اطاعت کا حکم دیا ہے اس کے ساتھ ہی فرمایا!آیت

"یا أَیُّها الَّذِینَ آمَنُوا أَطیعُوا اللّهَ وَأَطیعُوا الرَّسُول وَأُولی الأمرِ مِنْکُمْ فَإِنْ تَنازَعْتُمْ فی شَیء فَرُدُّوهُ إِلی اللّهِ وَالرَّسُول إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ""وَالْیَومِ الآخر ذلِکَ خَیرٌ وَأَحْسَنُ تَأْویلاً"

اے ایمان لانے والو!فرماں برداری کرو اللہ کی اور فرماں برداری کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں اولو الامر (فرماں روائی کے حق دار) ہیں لہذا اگر کسی بات میں تم میں جھگڑا ہو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاآؤاگر تم اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی اچھا ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے۔ہمیں اس وبا سے ڈرنے کی بجائے لڑنا چاہیے اور مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ملک کے کمزور طبقے کی ممکنہ حد تک امداد کرنا ہوگی اللہ پاک ہم سب کا حا می ونا صر ہو۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com