وراثت کی تقسیم کب کی جائے- ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

وراثت کی تقسیم کب کی جائے؟

سوال:
ہمارے ایک عزیز کا انتقال ہوا ۔ وہ اپنے پیچھے چار لڑکے ، دو لڑکیاں اور بیوہ کو چھوڑ گئے ہیں ۔ تین لڑکے اور ایک لڑکی بالغ ہیں ، ایک لڑکا اور ایک لڑکی نابالغ ہیں ۔ ان میں سے کسی کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے ۔ وراثت کا مسئلہ درپیش ہے ۔ اس سلسلے میں براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں :

۱۔ کیا کسی شخص کے انتقال کے فوراً بعد وراثت کی تقسیم کر دینی چاہیے ، یا اسے کچھ مدت کے لیے ملتوی کیا جاسکتا ہے؟

۲۔ کیا یہ طے کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تمام بچوں کی شادیاں ہوجائیں ، ان میں سب مل جل کر خرچ کریں ، بعد میں وراثت تقسیم کی جائے؟

۳۔ اگر تمام مستحقین وراثت کو مشترک رکھنا چاہتے ہیں تو کیا اس کی اجازت ہے؟ اگر نہیں تو کیا تقسیم عمل میں آنے کے بعد وہ پراپرٹی کو مشترک رکھ سکتے ہیں؟

جواب:

وراثت کا تعلق کسی شخص کے انتقال سے ہے ۔ جوں ہی وہ وفات پائے اس کی مملوکہ چیزیں شریعت کی بتائی ہوئی تفصیل کے مطابق اس کے قریبی رشتے داروں میں تقسیم ہوجانی چاہیں ۔ اولاد میں سے کسی کے بالغ یا نابالغ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، بلکہ اگر کسی شخص کی وفات کے بعد اس کا بچہ پیدا ہو تو وہ بھی مستحقِ وراثت ہوگا ۔ سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی : بیوہ کو آٹھواں حصہ ملے گا ، باقی کے دس حصے کیے جائیں گے ۔ ایک ایک حصہ دونوں لڑکیوں میں سے ہر ایک کو اور دو دو حصے چاروں لڑکوں میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے ۔ فی صد میں تقسیم اس طرح ہوگی : بیوی:12.5%، لڑکیاں: 17.5%، (ہر لڑکی کو8.75%) چار لڑکے 70%، (ہر لڑکے کو 17.5%)

جہاں تک ممکن ہو ، وراثت کی تقسیم کسی شخص کے انتقال کے بعد جلد از جلد کر دی جانی چاہیے ۔ اسے ملتوی رکھنے سے تنازعات اٹھنے کا اندیشہ رہتا ہے اور دوسرے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں ۔ یہ چیز مناسب نہیں کہ اسے تمام بچوں کی شادی کے بعد تک کے لیے ٹالے رکھا جائے ۔ اس لیے کہ شادی کے مصارف ہر موقع پر الگ الگ ہوں گے ۔ اس کا امکان ہے کہ جس کا جو حصہ شریعت کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے اس سے کم یا زیادہ ملے ۔

وراثت کی تقسیم ہوجائے اور ہر حصہ دار کو اس کا حق مل جائے ، اس کے بعد ان میں سے ہر لڑکے اور لڑکی کی اپنی صواب دید پر ہوگا کہ وہ اپنی شادی میں اپنے حصے کی دولت میں سے کتناخرچ کرے ۔ اس موقع پردوسرے بھائی بہنوں کے سامنے موقع رہے گا کہ وہ حسب حال اس کا تعاون کریں کہ یہ صلہ رحمی کا تقاضا ہے ۔ البتہ ان میں سے جو لوگ چاہیں ، تقسیم ہو جانے کے بعد وراثت میں ملنے والے اپنے حصوں کو مشترک رکھ سکتے ہیں ۔

یہ خیال درست نہیں ہے کہ کسی شخص کے انتقال کے فوراً بعد اس کی وراثت کی تقسیم کو سماج میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ، اس لیے اسے کچھ عرصے کے لیے ملتوی رکھنا چاہیے ۔ سماج کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے ۔ قرآن مجید میں تقسیمِ وراثت کا حکم دیتے ہوئے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے جو اس میں ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں ، یا پوری وراثت پر قبضہ کرکے دوسرے مستحقین کو محروم کر دیتے ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com