مظلومیت - شاہد محی الدین

زبیر صاحب گھر سے باہر نکلتے ہی خوشی سے پھولے نہ سمائے ۔۔۔ارے شاہد !!!!! " میرے جگری دوست کہاں تھے آپ اس طویل اور پر تناو ماحول میں "۔۔۔۔۔
گلے لگ کر زبیر کے آنکھوں سے بے تحاشا آنسو ٹپکنے لگے۔۔۔۔۔۔آپ تو بلکل ہی بدل چکے ہو یار سب کچھ ٹھیک تو ہے نا۔ امی' ابو' تیرا بھائی ۔۔۔۔۔۔!!!
آنسو پونچھ کے شاہد صاحب جواب دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
"ہاں سب کچھ خیریت سے ہی تو ہے ۔۔۔۔لیکن"!!!!!!
"لیکن کیا" !!!! زبیر نے اچنبھے حالت میں جواب مانگا ۔۔۔۔۔
"ہمارا وہ شفیق دوست " مصعب" فائرنگ کی زد میں آکر اس دنیا سے رخصت کر گئے" ۔۔۔۔میرے نانا اور نانی جان بھی اس دنیائے فانی سے لبیک کہہ گئے" ۔۔۔
معذرت کے ساتھ شاہد زبیر کا ہاتھ ہلکے سے کستے ہوئے بولے۔۔۔۔
"انٹرنیٹ خدمات ' فون کالز ' ٹرانسپورٹ خدمات اور دیگر مواصلاتی نظام معطل رہنے کی وجہ سے آپ تک نہ پہنچ پایا ۔ " پھر درد بھری سانس لیتے ہوئے بولے۔۔۔
۔۔۔"دو تین بار پیدل آنے کی بھی کوشش کی لیکن مسلسل دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کی وجہ سے گھر سے باہر نکلنا بھی محال ثابت ہوگیا" ۔۔۔۔۔
"اور ہاں وہ ماہی ۔۔۔۔جسے ہم لولاب کپوارہ میں ملے تھے!! اس کی ماں بھی!!! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوسٹ پیڈ خدمات بحال ہوتے ہی فون پہ لولاب کے عرفان صاحب سے دریافت کیا۔۔۔۔۔
ہائے افسوس !!!! رقیق القلب اور منکسر المزاج زبیر صاحب پھر سے رونے لگے ۔۔۔۔اور مظلومیت بھری آہ سے ظلم کو کوسنے لگے
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com