خودی کا سفر۔مدیحہ رحمان



درد ایک ایسی کیفیت ہے جسکی شدت کوئ نہیں سمجھ سکتا جب کسی کو پانے کی تڑپ بڑھ جاے تو درد بے اختیار ہو کے اپنی حدوں کو توڑتا ھوا آنکھوں کے ذریعے بہنے لگتا ہے
کیا کوئ کسی کا درد محسوس کر سکتا ہے؟کسی کے دل کا حال جان سکتا ہے،اس کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کو سن سکتا ہے،جو روز اپنی ذات کی دیواروں سے ٹکرا کے بکھرتا ہے اور پھر بھی مسکراتا رہتا ہے ۔دنیا کے سامنے منافقت کے خول میں خود کو چھپاتا رہتا ہے کیونکہ انسان کو اپنی بقا کے لئے خود کو جھوٹا دلاسہ دینا پڑتا ہے کہ کتنی ہی توڑ پھوڑ کیوں نہ ہو رہی ہو دنیا کے سامنے خوش ہو کے دکھانا ہے مضبوط چٹان بن کے کھڑے رہنا ہے چاہے تمہارے اندر سے اجڑ جانے کی صدائیں آتی رہیں منافقت کا لبادہ اوڑھے رکھنا ہے
تب انسان ایسی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے ناخوش رہتا ہے اسے اپنے اندر ایک کمی ایک خلا محسوس ہوتا ہے،لوگوں کی بھیڑ میں تنہائ محسوس کرتا ہے اور ایسی کمی سے شاید وہ خود بھی واقف نہیں ہوتا کہ اسے کیا چاہیے؟کیوں وہ اس کیفیت کا شکار ہے؟وہ ایسی جگہ گم ہو جانا چاہتا ہے جہاں اسے خود کے وجود کا علم بھی نا ہو۔مگر وہ بے بسی کے اس کنارے پر ہوتا ہے جہاں اسے اس کا دل جنجھوڑ رہا ہوتا ہے اور آنکھ اشک بار ھو رہی ہوتی ہے جسے صرف اللہ سن سکتا ہے ،دیکھ سکتا ہے۔دنیا کے سامنے جتنا منافقت سے کام لے لے اپنے رب کے سامنے ٹوٹ کے ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے ۔بے شک رب کی ذات اسے سمیٹ کر جوڑنے کی قدرت رکھتی ہے۔وہ انسان خاموش رہنے کو تر جیح دیتا ہے،کہتے ہیں جب تکلیف روح تک پہنچ جاے تو الفاظ اس کا مداوا نہیں کر سکتے
کسی بھی یقین کے ٹوٹ جانے پر انسان کے احساس مردہ ہو جاتے ہیں اور وہ اسی مردہ احساسات کے ساتھ ختم ہوتا جاتا ہے جس چیز کے بارے میں انسان اتنے بڑے دعوے کرتا ہے اس کا رب اسی بات پر آزماتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ اپنے بندے کو کمزور بنانا چاہتا ہے یا اسے تنہا چھوڑنا چاہتا ہے بلکہ اس لیے کہ وہ اپنے بندے کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اسے اپنے قرب میں لانا چاہتا ہے،دنیاوی محبت اور خواہشات کو ختم کر کے اپنی محبت کی جگہ بنانا چاہتا ہے ۔انسان کو آزمائش میں ڈال کر اس کے اندر مخفی راز سے آگاہ کرتا ہے جس سے وہ خود نا واقف ہوتا ہے اور اپنے نفس کی خود فریبی میں مگن ہوتا ہے۔
جب وہ انسان کو اپنے آپ کو پہچاننے کا موقع دیتا ہے تو وہ سب کو اس سے دور کر دیتا ہے وہ انسان پر لا الہ الاللہ کا راز عیاں کرتا ہے وہ آزمائش اور تکلیف کی سختیوں میں صبر دے کر اپنی محبت کی مہربانیاں اور عنائتیں نوازتا ہے ۔اس لئے کے وہ اس دل کو خود کے لئے چن لیتا ہے، اس ساری کیفیت میں خود کو اللہ کے سپرد کر دینے میں بھلائی ھوتی ہے کیونکہ بعض اوقات انسان خود سے مل کر اپنے رب سے مل پاتا ہے۔
یہ راز اندر کا سفر ہے ،خودی کا سفر ہے اور تنہائ میں ملتا ہے اور ملنے کے بعد خاموش کر دیتا ہے ۔

میں کون ہوں یہ جان کر میں کیا ہوں؟میں رو پڑا
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com