عورت مارچ کے نام پر بے حیائی -شبانہ منصور

میں خود ایک عورت ہوں حقوق نسواں کے خلاف بولنے پر لوگ کہتے ہیں آپ عورتوں کے حقوق کے خلاف ہیں۔ نہیں میں حقوق نسواں کے خلاف نہیں ۔ میں فیمنزم کے نام پر بے حیائی ، مغرب پرستی ، مردوں کی تو ہین کے خلاف ہیں ۔ اسلام کی آمد سے قبل عورت سامان تفریح طبع تھی ۔

زندہ دفن کردی جاتی تھی ۔ کبھی حصول تعلیم ، وراثت میں حصہ نہ ملا تھا ۔ اسلام نے اسے زندگی ، وراثت ، تعلیم اور عزت سے رتبہ دیا ۔ دنیا کا پہلا رشتہ میاں بیوی کا بنا کر اسے احصان کیا ۔ ایک دوسرے کا لباس کہا ، عورت کو چار دیواری ، مرد کو نان نفقے کا ذمہ دار کیا ۔عورت نے آج پہلی ترجیح گھر ، شوہر بچوں کو پیچھے چھوڑ کر نو کری کو مرکز بنا لیا ۔ پیسہ کمانا شیوہ ، 2ڈھائی سال بچہ اسکولا کے حوالے کرکے اپنی ذمہ داریوں سے فار غ دنیا میں اول نمبر کا تعلیمی نظام کا حامل ملک فن لینڈ وہاں بچہ سات سال میں اسکول آتا ہے ۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں 5سال سے پہلے داخلہ نہیں ملتا ۔ وہاں ہمارے بچے کی رجسٹریشن اس کی پیدائش سے پہلے کروائی جاتی ہے ورنہ داخلہ نہیں ملے گا ۔ عورت کی آزادی کا مطلب بے حیائی نہیں ۔ نفسیات کے مطابق بچہ کی شخصیت کی عمارت 5سال میں کھڑی ہوچکی ہوتی ہے ۔ بعد میں اس کی منازل بنتی ہیں ۔ بنیادیں بن چکی ہیں۔

عورت مارچ اور اسکے نعرے صرف مغرب کی عیاشیاں ، اسکی ثقافت ، اسکی بے حیائی ، جنبی گھٹن کو پاکستان میں لانے کی کوشش ہے ۔ پاکستان اسلامی ملک ہے ۔ اسلامی ثقافت و تہوار کا دور دورہ ہے ۔ یہاں رشتے سمجھوتے کی چادروں میں بنے جاتے ہیں ۔ قربانیوں سے رفاقتیں مضبوط کی جاتی ہیں ۔ لڑکیوں کو رشتے نبھانا سکھائے جاتے ہیں ۔ یہی مشرقیت ہے یہی اسکی پہچان ہے ۔ اس لیے ہر مشکل میں ہمارا باپ ، بھائی ، بیٹا ، شوہر ہمارے ساتھ ہوتے ہیں ۔ مغرب کی طرح ان کی تنہائی کا شکار، ڈپریشن کے مریض نا امید ، مایوس ، رشتوں کو ترسے ہوئے نہیں ہوتے ۔ عورت مارچ کے نام پر ہماری لڑکیوں کو گمراہ کرنا چھوڑیں ، انہیں بے راہ رو نہ کریں ۔ آپکو شاید مر نا نہ ہو ، مجھے مرناہے ۔ کسی وقت بھی موت اچک لے گی۔

ہمیں ہمارے آقا کو شرمندہ نہیں کرانا، برائی کے خلاف بولنا ہے ۔ جیسے حضرت ابراہیم کے لئے لگائی گئی آگ بڑھتی جاتی تھی ۔ چڑیا چونچ میں پانی لا کر پھینکتی ۔ سب نے کہا اس سے کیا ہوگا اس نے کہا کچھ نہیں ہوگا ، آگ بجھانے والوں میں نام تو ہوگا ۔ اس طرح عورت مارچ کے خلاف ہماری عدالے ، ہمارے ذرا ئع ابلاغ کو کردار ادا کرنا ہوگا ۔ عورت کے پیروں تلے جنت رکھ کر تین بیٹیوں کی تربیت کر کے، حضور کا پڑوسی ہو کر رب کائنات نے مرتبہ ،عزت، مقام ، فخر دے دیا ۔ خود کہہ دیا میں خوش ہوتا ہوں تو بیٹی پیدا کرتا ہوں بیٹی رحمت ہے ۔

حقوق کے نام پر اب اور کیا چاہئے ۔ تین بیٹے یعنی تین بیٹے مرد عورت کے ماتحت ہیں ۔ عورت جنت کی سردار ہے اور تمہیں کیا چاہئے تم ہر رشتے میں عزت دار ہو ۔ حقدار ہو مربے اور بلند مرتبے کی حامل ہو اور حقوق کے نام پر کیا چاہئے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com