کرو نا کے دور کی معیشت -پروفیسر جمیل چودھری

معیشت عمران خان کے آنے کے بعد سے ہی سست روی کا شکار تھی ۔پھر آئ ایم ایف سے معا عہدے کے بعد مزید سخت شرائط عائد ہوگئیں۔ بے روزگاری کی رفتار کافی تیز تھی ۔pATF کی تلوار کافی عرصے لٹک رہی ہے۔ اس تلوار کے لٹکانے ہم نے اپنے مالیاتی دین دست بھی کئے۔

ان شدید کے ہوتے ہوئےپاکستان پر کرو نا وائرس کا حملہ ہوا اور پورا ملک لاک ڈ ائون میں چلا گیا ۔ پاکستان میں غربت کی شرح اب 33 فیصد شمار ہوتی ہے۔۔لاک ڈا ئون کی وجہ سے روزانہ کما کر کھانے والوں کا ذریعہ مکمل بند ہو گیا۔کرو نا سے ہلاکت اور بھوک سے ہلاکت دونوں برابر ہوگئیں ۔ اگر یہ صورت حال لمبے عرصےتک برقرار رہتی تو پھر زندگی مزید مشکلات ہو تی۔ اس صورت حال پر 3 اپریل کو اجتماعی طورپر غور کیا گیا ۔عسکری قیادت بھی شریک ہوئ ۔ تعمیراتی شعبے کو 14 اپریل سے کھو لینے کا مشکل اور جرات مندانہ فیصل ہوا ۔

یہ تجربات دنیا میں پہلے ہو چکے ہیں کہ تعمیراتی شعبہ کے کھلنے اور رعائتیں دینے سے معیشت کا پہیہ رواں دواں ہو جاتا ہے ۔یہ اعلان بھی کردیا گیا ہے کہ اس شعبے میں
سرمایہ کاری کرنے والوں سے آمدنی کا source نہیں پوچھا جائے گا۔ نیا پاکستان سکیم کے تحت ہونےوالی تعمیرات پر 90 فیصد ٹیکس ختم کر دیئے گئے ہیں ۔ کیپیٹل گین ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ اور بھی سہولیات کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ مل گیا ہے اور اس کیلئے صنعتی ترقیاتی بورڈ بن گیا ہے۔ گھر خریدنے والوں کیلئے 30 ارب روپے کی اعانت کا اعلان ہو گیا ہے۔تعمیراتی شعبے کے ساتھ بہت سی متعلقہ صنعتیں خود بخود کھل جائیں گی ۔بظاہر یہی نظر آتا ہے
کہ معاشی سر گرمیاں کرو نا وائرس کے دور میں جاری رہیں گی ۔ جمود کی کیفیت ختم ۔

لیکن who کا ادارہ ابھی لاک ڈ ا ئون جاری رکھنے کی ہدائت دے رہا ہے ۔کیا تعمیراتی شعبے پر جانے والے تمام کا رکن حفا ظتی اقدامات کر پائیں گے۔؟ وہاں تو مزدور ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہوکرکام کرتے ہیں۔ ایسی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔کچھ عرصے کیلئے مزدوروں کے ریلیف پیکیج کا انتظام پہلے کر لیا گیا تھا ۔لو گوں کی یہ رائے ہےکہ ابھی مزید کچھ وقت انتظار کیا جاتا۔وفاق کے ساتھ صوبہ پنجاب نے بھی کئی صنعتوں کے کھولنے کا اعلان کر ڈا ہے ۔ معاشی نقطہ نظرسے یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن کرو نا کی بگڑتی ہوئ صورت حال کی وجہ خدشات بھینظر آرہے ہیں۔اسد عمر نے بتا ہے کہ احساس پروگرام کی فہرست میں پہلے 50 لاکھ لوگ تھے اب کونا کی وجہ سے یہ فہرست ایک کروڑ 20 لاکھ کر دی گئی ہے ۔ 1200 ارب کے ریلیف پیکیج کی وجہ سے کچھ انتظار ہو سکتا تھا ۔ان مشل حالات میں عمران خان کی توجہ پاکستان کے بیرونی قرض معاف کرانے کی طرف ہو نی ضروری ہے۔

30 جون2020 تک بیرونی قرض 112 ارب ڈاکڑ ہو جائے گا۔ اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ہر شخص چاہتا ہے کہکرونا وائرس پر قابو بھی پایا جا ئے اور معیشت کا پہیہ بھی رواں دواں ہو۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری دانوں خواہشات کو پورا کرے ۔یہ خواہش صرف اسی وقت پوری ہوسکتی ہے کہ تعمیراتی کاموں پر جانے والے اور وہاں کام کرنے والے انتہائی ضروری احتیاطی کریں ۔لیکن کام پر اکٹھے ہو کر مزدور یہ تدابیر کرتے۔نظر نہیں آتے ۔ ابھی 14 اپریل آنے میں کئی دن باقی ہیں، کرو نا وائرس کی صورت تب تک کافی واضح ہو جائے گی۔ حکومت اپنے کئے گئے فیصلوں پر نظر ثانی بھی کر سکتی ہے۔ ان تمام فیصلوں سے حکومت کی نیت درست معلوم ہوتی ہے۔ایمرجنسی کے حالات میں فیصلے بدلنے میں قباحت بھی نہیں ہو تی۔

کیسز بڑھنے کی جو تعداد سپریم کورٹ میں بتائی گئ ہے۔ یہ حقیقت پر مبنی نظر آتی ہے۔عوام کی خواہش ہے کہ کرو نا وائرس بھی ختم ہو اور معا شی سرگرمیاں بھی بحال ہوں۔لگتا ہے ۔اللہ ہماری دونوں خوا ہوں کو پورا کرے گا ۔آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com