بھٹو،شیخ مجیب اور سقوط ڈھاکہ - حافظ نعیم

پاکستان کی آزادی درحقیقت بر صغیر کے مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے تحریک آزادی کی ایک طویل جد و جہد بعد ایک انعام تھا,بھلا اللہ تعالی ان پہ یہ انعام کیونکر نہ کرتا انہوں نے تو پاکستان کو "اسلام کا قلعہ"بنانے کا پختہ عزم کئے رکھا تھا,.

بہر حال پاکستان انگریز کے شکنجہ سے آزاد ہوا لیکن افسوس کہ انگریز کے حامیوں اور ان کے پٹھوؤں سے آزاد نہ ہوسکا,اور نتیجتا پاکستان 1971ء میں دشمن کے بوئے ہوئے قومیت کے بیج کے باعث دو لخت ہوا,یقینا یہ مملکت خداداد پہ ایک بہت بڑا حملہ تھا,جب چند قومیت اور اقتدار کے پجاریوں نے پاکستان توڑنے میں اپنی تمام تر مساعی صرف کیں,لیکن ایسے لوگوں کا انجام بھی بہت ہیبت ناک ہوتا ہے,انکی اور ما بعد آنے والی ان کی نسلوں کی بربادی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے.

پاکستان کو توڑنے والے تین کردار ڈائریکٹ تھے ان میں بھارتی وزیرِ اعظم مسز اندرا گاندھی ،سابق پاکستانی وزیرِاعظم ذولفقار علی بھٹو اور بنگلہ دیش کے سابق وزیراعظم شیخ مجیب الرّحمان تینوں کاحال یہ ہواکہ وہ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں انجام تک پہنچے، ان میں سر فہرست بھارتی وزیرِاعظم مسز اندرا گاندھی کا نام ہے،مسز اندرا گاندھی نے جنوری 1966 میں اقتدار سنبھالا۔ وہ پاکستان کو خوفناک شکست سے دوچار کر نا چاہتی تھیں,انہوں نے شیخ مجیب الرّحمان سے اپنے تعلقات مضبوط کئے ,اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بنانا شروع کر دیا, اس نے شیخ مجیب الرحمان کو اسلحہ اور رقم دے کر 1971 میں بھارتی فوج سے مشرقی پاکستان پر حملہ کروادیا,اور نتیجتا پاکستان دو لخت ہوا.

سقوط ڈھاکہ کے بعد اس نے بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ" ہم نے نظریہ پاکستان کو آج خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے" دوسری جگہ اس نے اعلان کیا ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیاہے, پاکستان ٹوٹ گیا، مگر اندرا گاندھی 31 اکتوبر1984 کو اپنے سکھ محافظوں کے ہاتھوں قتل ہو گئی,اس کے دو بیٹے سنجے گاندھی ایک ہوائی حادثے میں مارا گیا۔اور دوسرا بیٹہ راجیو گاندھی ماں کی جگہ گدی پر بیٹھا, لیکن 21 مئی 1991 کو ایک تامل جانباز خاتون نے اس کے گلے میں بموں کا ہار ڈال دیا,اور اس کے بدن کے بے شمار ٹکڑے زمین پہ بکھیر دیئے,آج اس خاندان کا ایک ہی بیٹہ راہول گاندھی بچا ہے جس کو اس کی ماں اقتدار سے دور ہی رکھنے کی کوشش میں ہے,دوسرا کردار شیخ مجیب الرّحمان کا تھا جنہوں نے اپنی سیاست کا آغاز ڈھاکہ یونیورسٹی سے کیا تھا.

سب سے پہلے انہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے خلاف ڈھاکہ یونیورسٹی کے دورے کے دوران مورخہ 24 مارچ 1948 کو نعرے لگوائے تھے۔ایوب خان کے دورے حکومت میں بنگال میں اسے مقبولیت ملی, 20 جنوری 1968 کو شیخ مجیب اپنے 22 ساتھیوں کے ہمراہ اگر تلہ سازش میں گرفتار ہوا۔جس میں ہندوستان کی ملی بھگت سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ایک آزاد بنگال کے قیام کی کوشش کر رہے تھے, جولائی 1968 کو ان کے خلاف مقدمہ شروع ہوا, 10 تا15 مارچ 1969 کو ذولفقار علی بھٹو اور دیگر مغربی پاکستان کے لیڈروں نے حکومت پر دباﺅ ڈال کر شیخ مجیب الرّحمٰن کو آزاد کرایا,مجیب الرّحمٰن نے 1971 میں علیحدگی کی تحریک کے دوران کئی بار پاکستانی جھنڈا جلایاتھا, ٹیکس دینے سے انکار کیا, پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد 2 جنوری 1972 میں ذوالفقار علی بھٹو نے اسے رہا کر دیا۔ وہ سیدھا ڈھاکہ پہنچا اور بنگلا دیش میں اپنی حکومت قائم کی, 15 اگست1975 صرف تین سال بعد ہی میجر جنرل ضیاءالرّحمٰن کے حکم سے کچھ لوگ دھان منڈی ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرّحمٰن کو پورے خاندان سمیت گولیوں سے اڑا دیا,شیخ مجیب کے خاندان سے صرف ایک خاتون حسینہ واجد بچی جو اس وقت ملک سے باہر تھی,شیخ حسینہ واجد نے باپ کی لاش اٹھائی اور اس لاش پر اپنی سیاست کی بنیاد رکھی,

پاکستان توڑنے والے تیسرے کردار کا نام ذوالفقار علی بھٹو ہے, بھٹو سکندر مرزا کے کندھوں پر بیٹھ کر سیاست میں آئے, ایوب خان کے دور میں وزارت تک پہنچے تاشقند معاہدے کے بعد ایوب خان کی کابینہ سے نکالے گئے,پھر انھوں نے پیپلز پارٹی کے نام پر اپنی پارٹی بنائی, 1971 کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں اکثریت حاصل کی, اگر حکومت بن جاتی تو اقتدار شیخ مجیب الرّحمٰن کے پاس چلا جانا تھا جو بھٹو کو منظور نہیں تھا,مستقبل میں بھی اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان سے ووٹ ملنے کے امکانات بھی نہ ہونے کے برابر تھے۔ پاکستان کے اکٹھارہنے کی صورت میں صورت میں بھٹو کو حذب اختلاف میں بیٹھنا پڑتا جو بھٹو کو منظور نہ تھا۔انہوں نے صدر یحیٰ خان کو جھانسہ دیا کہ وزیرِاعظم مجھے بنوا دو میں آپ کو صدر بنواﺅں گا,مگر مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہو گئے,حالات خراب ہوتے ہی "ادھر ہم اُدھر تم"کا نعرہ لگایا,پاک بھارت جنگ شروع ہوگئی.

دو مرتبہ سیز فائیر کی کوشش کی گئی جو بھٹو نے ناکام بنا دی, 14 دسمبر کوقرارداد اقوام متحدہ میں پھاڑ کر پھینک دی اور سیز فائر نہیں ہونے دیا,بالآخر پاکستان ٹوٹ گیا,اور بھٹو کو اقتدار مل گیا, بھٹو جولائی 1977 کو معزول ہوئے, انھیں احمد رضا قصوری کے قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا,اپریل 1979 کو بھٹو کو قتل کے الزام میں پھانسی ہو گئی, اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرّحمٰن کی طرح بھٹو کے بھی دو بیٹے تھے, شاہنواز کو فرانس میں کسی نے قتل کر دیا,مرتضیٰ بھٹو اپنی ہی بہن کے دور حکومت میں 1996 میں کراچی میں قتل ہوگئے,ان کے راستے میں بے نظیر بھٹو بھی گذشتہ انتخابات میں قتل ہو گئیں, P.P.P کی حکومت بننے کے باوجود ان کا قاتل پکڑا نہیں گیا, پیپلز پارٹی کی قیادت اب بھٹو خاندان سے حاکم علی زرداری کے خاندان میں منتقل ہو چکی ہے.

میں بھٹو کا ناقد ہونے کے ساتھ یہ ضرور کہوں گا کہ انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں اہم اصلاحات کیں,جبکہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا,اور ساتھ قادیانیوں کو کافر قرار دیا جوکہ میرے نزدیک بڑی اہمیت رکھتے ہیں,اس کے با وجود قائد ملت محمد علی جناح رحمہ اللہ کی امانت پاکستان کے ٹوٹنے میں ان کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے,جوکہ میرے نزدیک بہت بڑا جرم ہے,لہذا آپ دیکھ لیں کہ پاکستان کو توڑنے والے تینوں ڈائریکٹ کرداروں کا کیا حشر ہوا, تینوں قتل ہوئے تینوں کے بیٹے بھی قتل ہوئے اور تینوں کے خاندان بھی مدجزر کا شکار ہوئے,پاکستان ان شاءاللہ قائم رہنے کے لئے بنا ہے, اس کو توڑنے کی سازش کر والے تباہی سے بچ نہیں سکتے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */